جموں و کشمیر
جموں وکشمیر میں تعمیر و ترقی کا نیا باب رقم ہو رہا ہے: نریندر مودی

سری نگر، وزیر اعظم نریندر مودی نے جموں و کشمیر کو ٹنلوں، پلوں اور روپ ویز کا مرکز قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہاں دنیا کی بلند ترین سرنگ، ریلوے پل اور ریل لائنیں تعمیر کی جا رہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ چناب پل کی شاندار انجینئرنگ دیکھ کر دنیا ورطہ حیرت میں ہے۔
وزیر اعظم نے ان باتوں کا اظہار پیر کے روز وسطی کشمیر کے سونہ مرگ میں زیڈ موڑ ٹنل کا افتتاح کرنے کے بعد ایک عوامی ریلی سے خطاب کرنے کے دوران کیا۔انہوں نے کہا: ‘ہمارا جموں وکشمیر ٹنلوں، پلوں اور روپ ویز کا مرکز بن رہا ہے، دنیا کی بلند ترین ٹنل یہاں تعمیر ہو رہی ہے، دنیا کا بلند تریب ریلوے برج یہاں بن رہا ہے، دنیا کی بلند ترین ریل لائینز یہاں تعمیر ہو رہی ہیں اور چناب پل کی شاندار انجینئرنگ دیکھ کر دنیا حیران ہے’۔ان کا کہنا تھا: ‘ہر چیز کا ایک مخصوص وقت ہوتا ہے اور ہر صحیح چیز صحیح وقت پر ہوتی ہے’۔
مسٹر مودی نے کہا کہ وہ سونہ مرگ ایک سیوک کی حیثیت سے آئے ہیں۔انہوں نے کہا: ‘میں آج یہاں آپ کے درمیان ایک خدمتگار کی حیثیت سے آیا ہوں کچھ دن پہلے مجھے آپ کے جموں ڈویژن کے ریلوے کی سنگ بنیاد رکھنے کا موقع نصیب ہوا یہ لوگوں کی دیرینہ مانگ تھی اور آج مجھے سونہ مرگ ٹنل لوگوں کے نام وقف کرنے کا موقع ملا بھی لوگوں کی ایک دیرینہ مانگ تھی’۔انہوں نے کہا کہ اس ٹنل سے جموں وکشمیر اور لداخ کے لوگوں کی سختیاں دور ہوں گی۔
نریندر مودی نے اپنے پرانے دنوں کو یاد کرتے ہوئے کہا: ‘میں بی جے پی کے ایک کارکن کی حیثیت سے کشمیر آیا کرتا تھا اور گھنٹوں کئی کلو میٹر پیدل طے کرتا تھا’۔انہوں نے کہا: ‘دو روز قبل ہمارے وزیر اعلیٰ نے اپنے ایکس ہینڈل پر کچھ تصویریں شیئر کیں جنہیں دیکھ کر میں آپ لوگوں کے درمیان آنے کے لئے بے صبری سے انتطار کر رہا تھا’۔ان کا کہنا تھا: ‘جب میں بی جے پی کا کارکن تھا تو میں یہاں اکثر و بیشتر آیا کرتا تھا، میں نے یہاں خواہ وہ سونہ مرگ ہے، گلمرگ ہے، بارہمولہ ہے یا گاندربل ہے، کافی وقت گذارا ہے’۔
انہوں نے کہا: ‘ہم یہاں کئی کلو میٹر پیدل طے کرتے تھے ان دنوں بھی بھاری برف باری ہوتی تھی لیکن یہاں کے لوگوں کا جوش ہمیں کبھی سردی محسوس نہیں ہونے دیتا تھا’۔
وزیر اعظم نے کہا: ‘آج ایک خاص موقع ہے ملک بھر میں تہوار کا سماں ہے،آج سے پریاگ راج میں مہا کمبھ شروع ہو گیا ہے جہاں کروڑوں لوگ مقدس غسل کے لیے جمع ہوئے ہیں پورا ہندوستان لوہڑی، مکر سنکرانتی، پونگل، ماگھ بیہو منا رہا ہے میں سب کی کامیابی کی خواہش کرتا ہوں’۔
مسٹر مودی نے کہا: ‘ اب کشمیر کو ریلوے سے جوڑا جا رہا ہے عوام ترقیاتی کاموں سے خوش ہیں سکول اور کالج بن رہے ہیں یہ نیا جموں و کشمیر ہے پوری قوم ہندوستان کو ترقی یافتہ ملک بنانے میں مصروف ہے یہ تب ممکن ہے جب معاشرے کے کسی بھی طبقے کو ترقی کی دوڑ میں نظر انداز نہ کیا جا سکے’۔انہوں نے کہا:: ‘گذشتہ دس برسوں کے دوران ہم نے جموں وکشمیر میں امن اور ترقی کے ماحول کے فائدے دیکھے ہیں اور سال گذشتہ کے دوران 2 کروڑ سے زیادہ سیاحوں نے جموں وکشمیر کی سیر کی’۔ان کا کہنا تھا کہ جموں وکشمیر تعمیر و ترقی کا ایک نیا باب رقم کر رہا ہے۔
وزیر اعظم نے کہا کہ آنے والے دنوں میں جموں کشمیر میں ریل اور روڈ رابطے کے کئی پروجیکٹوں کا مکمل کیا جائے گا۔زوجیلا ٹنل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایک اور بڑے پروجیکٹ کی تکیمل قریب ہےاور اب کشمیر ریل میں بھی شامل ہو رہا ہے۔انہوں نے کہا: ‘مرکز میں ہماری حکومت آنے کے بعد سونل مرگ ٹنل پر سال 2015 میں کام شروع کیا گیا تھا اور میں خوش ہوں کہ ہماری ہی حکومت میں یہ پایہ تکمیل کو پہنچا’۔
کشمیر میں جاری سرد ترین موسم ‘چلہ کلان’ کا تذکرہ کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا: ‘یہ موسم سونہ مرگ جیسے سیاحتی مقامات کے لیے نئے مواقع لے کر آتا ہے کیونکہ اس موسم سے لطف اندوز ہونے کے لئے ملک بھر سے سیاح یہاں آتے ہیں’۔قابل ذکر ہے کہ وزیر اعظم نے پیر کو سونہ مرگ میں زیڈ موڑ ٹنل ٹنل کا افتتاح کیا۔حکام کے مطابق 27 سو کروڑ روپیوں کی لاگت سے تیار 6.4 کلو میٹر طویل زیڈ موڑ ٹنل سے سری نگر سے سونہ مرگ تک سال بھر بلا تعطل رابطہ قائم رہے گا اور اس کے علاوہ مقامی تجارت اور سیاحت کو بھی فروغ ملے گا۔انہوں نے کہا کہ یہ ٹنل سری نگر اور لیہہ کے درمیان سفر کے وقت میں کمی کا باعث بن جائے گی اور اس سے تھاجیواس گلیشئر تک بہتر رسائی اور سندھ دریا پر وائٹ واٹر رافٹنگ کی سہولت فراہم ہوگی۔ان کا کہنا ہے کہ یہ ٹنل اسٹراٹیجک لحاظ سے ایک اہم منصوبہ ہے جو سال بھر ہر موسم میں رابطہ فراہم کرے گا۔اس ٹنل میں مین ٹنل، متوازی ایمرجنسی سرنگ اور ہوا کی نکاسی کے لئے بھی سرنگ شامل ہے۔
یو این آئی ایم افضل
جموں و کشمیر
پٹن بارہمولہ میں ثقافتی میلہ ہندوستان کے متنوع ثقافتی ورثے کی عکاسی کرتا ہے
سرینگر، پٹن، بارہمولہ میں جمعرات کو “شامِ شفقت” کے عنوان سے ایک رنگا رنگ ثقافتی میلہ منعقد کیا گیا، جس میں ہندوستان کے بھرپور اور متنوع ثقافتی ورثے کا جشن منایا گیا۔
سرکاری بیان کے مطابق اس میلے کا مشترکہ طور پر نارتھ زون کلچرل سینٹر، وزارتِ ثقافت، حکومتِ ہند، اور ہندوستانی فوج نے انعقاد کیا۔ اس موقع پر پنجاب، راجستھان، گجرات، مہاراشٹر، منی پور اور اڈیشہ کے معروف فنکاروں نے اپنی شاندار پرفارمنس کے ذریعے حاضرین کو محظوظ کیا اور ہندوستان کی لوک روایات کی گہرائی اور تنوع کو اجاگر کیا۔
پورے دن جاری رہنے والے اس پروگرام میں لوک رقص، روایتی موسیقی اور ملک کے مختلف علاقوں کی ثقافتی جھلکیاں پیش کی گئیں۔ ہر پرفارمنس نے اپنے علاقے کی منفرد ثقافتی شناخت کو نمایاں کیا، جبکہ مجموعی طور پر “اتحاد میں تنوع” کے ہندوستانی تصور کی عکاسی کی۔
فنکاروں کی پُرجوش پیشکشوں نے جشن کا سماں باندھ دیا اور حاضرین میں حب الوطنی اور قومی فخر کے جذبات کو فروغ دیا۔
منتظمین کے مطابق اس میلے کا مقصد ہندوستان کے ثقافتی ورثے کو محفوظ، فروغ اور مقبول بنانا تھا، ساتھ ہی شمالی کشمیر کے نوجوانوں اور ملک کے دیگر حصوں کے درمیان ثقافتی روابط کو مضبوط کرنا بھی اس کا اہم ہدف تھا۔
اس تقریب میں شمالی کشمیر کے طلبہ اور سول سوسائٹی کے ارکان نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ حاضرین نے بھرپور تالیوں کے ذریعے اس اقدام اور اس کے ثقافتی یکجہتی اور قومی اتحاد کے پیغام کو سراہا۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
شاہ پور کنڈی منصوبہ جموں و کشمیر اور پنجاب کے سرحدی اضلاع کی تقدیر بدل دے گا: ڈاکٹر جتیندر سنگھ
جموں، مرکزی وزیر ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے جمعرات کو کہا کہ شاہ پور کنڈی منصوبہ جموں و کشمیر اور پنجاب کے سرحدی اضلاع میں آبپاشی کی سہولیات اور زرعی ترقی کو فروغ دے کر ان علاقوں کی تقدیر بدلنے والا ہے۔
ڈاکٹر سنگھ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں کہاکہ “یہ بات واضح ہے کہ شاہ پور کنڈی منصوبہ بہتر آبپاشی اور زرعی ترقی کے ذریعے جموں و کشمیر اور پنجاب کے سرحدی اضلاع میں انقلابی تبدیلی لائے گا۔”
انہوں نے مزید کہا کہ یہ منصوبہ اب تقریباً مکمل ہو چکا ہے اور اس کی تکمیل علاقے کے عوام کی کئی دہائیوں پرانی خواہش کی تکمیل ہے۔
انہوں نے لکھا کہ ضلع کٹھوعہ کی سرحد پر واقع شاہ پور کنڈی قومی منصوبہ ایک اہم داستان رکھتا ہے۔ 1960 کے معاہدۂ سندھ طاس کے بعد ہندوستان کے حصے میں تین دریا راوی، بیاس اور ستلج آئے تھے، جن میں دریائے راوی سب سے بڑا تھا۔
1970 کی دہائی کے آخر میں دریائے راوی پر ایک قومی منصوبے کا تصور پیش کیا گیا تاکہ ہندوستان کے حصے کا پانی پاکستان میں بہنے کے بجائے ہندوستان کے اندر استعمال کیا جا سکے۔
ڈاکٹر سنگھ نے مزید کہا کہ 1984 میں اس منصوبے کا سنگِ بنیاد اس وقت کی وزیر اعظم اندرا گاندھی نے رکھا تھا، لیکن چند ماہ بعد ان کے قتل کے بعد یہ منصوبہ پس منظر میں چلا گیا اور بعد کی مرکزی و ریاستی حکومتوں نے بھی اس پر خاطر خواہ توجہ نہیں دی۔
انہوں نے کہا کہ تقریباً تین دہائیوں بعد، جب 2014 میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت اقتدار میں آئی تو اس منصوبے کو دوبارہ شروع کرنے کی کوششیں کی گئیں۔ جموں و کشمیر اور پنجاب کے چیف سیکریٹریوں کو اس عمل میں شامل کیا گیا، نئے دستاویزات تیار کیے گئے اور فروری 2019 میں جموں میں ایک عوامی جلسے کے دوران وزیر اعظم نریندر مودی نے اس منصوبے کی بحالی کا اعلان کیا۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
سونمرگ میں محبوبہ مفتی کی امرناتھ یاترا کی کامیابی کے لیے اجتماعی کوششوں کی اپیل
سرینگر، پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر اور جموں و کشمیر کی سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے جمعرات کو کشمیری عوام سے اپیل کی کہ وہ سالانہ امرناتھ یاترا پر آنے والے یاتریوں کا گرمجوشی اور مہمان نوازی سے استقبال کریں۔
انہوں نے کہا کہ یہ یاترا کشمیر اور ملک کے دیگر حصوں کے درمیان تعلقات کو مضبوط بنانے کا ایک اہم موقع فراہم کرتی ہے۔
ضلع گاندربل کے سونمرگ کے دورے کے دوران محبوبہ مفتی نے مقامی متعلقہ فریقوں سے ملاقات کی اور یاترا کے دوران درپیش مسائل اور چیلنجز کے بارے میں ان کے تحفظات سنے۔
انہوں نے پہلگام میں دیے گئے اپنے سابقہ پیغام کو دہراتے ہوئے کہا کہ یاترا کی حفاظت اور اس کے پُرامن انعقاد کو یقینی بنانا صرف سیکیورٹی اداروں کی ذمہ داری نہیں ہے۔
انہوں نے کہاکہ “امرناتھ یاترا کی حفاظت صرف سیکیورٹی ایجنسیوں کی ذمہ داری نہیں بلکہ کشمیر کے عوام کی اجتماعی ذمہ داری بھی ہے۔”
پی ڈی پی سربراہ نے تمام متعلقہ فریقوں پر زور دیا کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ ہر یاتری کشمیر میں اپنے قیام کے دوران خود کو خوش آمدید، باعزت اور محفوظ محسوس کرے۔
انہوں نے کہاکہ “ہمیں یہ یقینی بنانا چاہیے کہ ہر زائر کشمیر کی مہمان نوازی، محبت اور انسان دوستی کا سفیر بن کر اپنے گھر واپس جائے۔”
محبوبہ مفتی نے یاترا کو ملک کے مختلف علاقوں کے لوگوں کے درمیان ایک پل قرار دیتے ہوئے کہاکہ “یہ یاترا ہمیں پورے بھارت کے لوگوں سے جڑنے کا موقع فراہم کرتی ہے۔ ہماری مہمان نوازی، شفقت اور ہمدردی ہی تعصب اور بداعتمادی کا بہترین جواب ہونی چاہیے۔”
انہوں نے کہا کہ سالانہ یاترا کشمیریوں کو یہ موقع فراہم کرتی ہے کہ وہ بقائے باہمی اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی ان روایات کو اجاگر کریں جو طویل عرصے سے اس خطے کی شناخت رہی ہیں۔
انہوں نے مزید کہاکہ “کشمیر آنے والا ہر زائر یہاں سے ہمارے اقدار، ہمارے عقیدے اور ہمارے لوگوں کے بارے میں بہتر فہم لے کر جائے۔ یہ ہمارے لیے اسلام اور کشمیر کی حقیقی روح کو دنیا کے سامنے پیش کرنے کا موقع ہے۔”
امرناتھ یاترا 3 جولائی سے پہلگام اور بالتال کے دو راستوں سے شروع ہونے والی ہے، جس کے لیے انتظامیہ اور سیکیورٹی اداروں کی جانب سے وسیع پیمانے پر تیاریاں کی جا رہی ہیں۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر5 days agoاین سی ایل ٹی نے سراج العلوم کے لیے عبوری لیکویڈیٹر مقرر کر دیا، اثاثے منجمد
ہندوستان5 days agoفضائیہ کا مال بردار طیارہ حادثے کا شکار، پانچ اہلکار شہید
دنیا1 week agoامریکہ آج رات ایران پر بڑا حملہ کرے گا: امریکی وزیر جنگ
دنیا1 week agoامریکہ کے ساتھ پائیدار معاہدہ دھمکیوں، دباؤ یا طاقت کے استعمال سے ممکن نہیں: ایرانی سفیر
دنیا5 days agoامریکہ نے ایران کے جوہری مواد پر قبضے کیلئے زمینی کارروائی کا منصوبہ بنالیا تھا تاہم ٹرمپ پیچھے ہٹ گئے: امریکی میڈیا
جموں و کشمیر5 days agoشمالی کشمیر میں لائن آف کنٹرول کے قریب پی او جے کے کا 19 سالہ نوجوان گرفتار
دنیا3 days agoتاریخی ڈیل مکمل، امریکہ اور ایران نے جنگ بندی معاہدے کی تصدیق کردی
دنیا1 week agoجے ڈی وینس بھی ایران ڈیل سے متعلق ٹرمپ کا بیان ماننے پر تیار نہیں
دنیا6 days agoایران معاہدے سے متعلق ٹرمپ کے مؤقف پر نیتن یاہو کا ردِعمل سامنے آگیا
دنیا1 week agoپاکستان کا افغانستان پر حملہ، 11 بچوں سمیت 13 افراد ہلاک
دنیا1 week agoآبنائے ہرمز میں امریکی افواج اور پاسداران انقلاب کے درمیان جھڑپیں: ایرانی خبر رساں ایجنسی
دنیا3 days ago‘ٹرمپ کامعاہدہ ہمیں پابند نہیں کرتا’، اسرائیلی وزیر ایران امریکہ معاہدے پر سیخ پا


































































































