ہندوستان
لوک سبھا اسپیکر پٹنہ، بہار میں 85 ویں آل انڈیا پریزائیڈنگ آفیسرز کانفرنس کا افتتاح کریں گے

نئی دہلی، لوک سبھا کے اسپیکر اوم برلا پیر یعنی 20 جنوری کو پٹنہ، بہار میں 85 ویں آل انڈیا پریزائیڈنگ آفیسرز کانفرنس ( اے آئی پی او سی ) کا افتتاح کریں گے راجیہ سبھا کے نائب چیئرمین ہری ونش، بہار کے نائب وزرائے اعلیٰ سمراٹ چودھری اور مسٹر وجے کمار سنہا ، بہار حکومت کے پارلیمانی امور کے وزیر وجے کمار چودھری، بہار قانون ساز اسمبلی میں قائد حزب اختلاف تیجسوی پرساد یادو، بہار قانون ساز اسمبلی کے اسپیکر نند کشور یادو، بہار قانون ساز اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر نریندر نارائن یادو، ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کی مقننہ کے پریزائیڈنگ آفیسرز حکومت بہار کے وزراء، بہار لیجسلیچر کے اراکین اور دیگر معززین اس پروگرام میں شرکت کریں گے۔
اس دو روزہ کانفرنس کے دوران معززین ’آئین کی 75ویں سالگرہ : آئینی اقدار کو مضبوط بنانے میں پارلیمنٹ اور ریاستی قانون ساز اداروں کا تعاون‘ کے موضوع پر غور و خوض کریں گے۔
منگل 21 جنوری 2025 کو بہار کے گورنر عارف محمد خان اور لوک سبھا کے اسپیکر اوم برلا اختتامی اجلاس سے خطاب کریں گے۔ راجیہ سبھا کے نائب چیئرمین ہری ونش، بہار قانون ساز اسمبلی کے اسپیکر نند کشور یادو، بہار قانون ساز کونسل کے چیئرمین اودھیش نارائن سنگھ، بہار قانون ساز کونسل کے نائب چیئرمین پروفیسر (ڈاکٹر) راموچن رائے، ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کی مقننہ کے پریزائیڈنگ آفیسرز، بہار حکومت کے وزیر بہار کے اراکین اسمبلی اور دیگر معززین اختتامی اجلاس میں شرکت کریں گے۔
کانفرنس کے دوران مسٹر برلا ’پارلیمینٹری پریکٹس اینڈ پروسیجر‘ کا آٹھواں ایڈیشن جاری کریں گے۔
مسٹر برلا 21 جنوری 2025 کو بہار لیجسلیچر کمپلیکس میں نیو سیوا کیندر کا بھی افتتاح کریں گے۔
ہندوستان کے قانون ساز اداروں کے سکریٹریوں کی 61ویں کانفرنس 19 جنوری 2025 کو پٹنہ، بہار میں 85ویں آل انڈیا پریزائیڈنگ آفیسرز کانفرنس سے پہلے منعقد ہوگی۔ اس کانفرنس کے دوران، مندوبین “ہمارے قانون ساز اداروں میں زیادہ کارکردگی اور کاکردگی کے لیے جدید ٹیکنالوجیز کو اپنانا” کے موضوع پر غور و خوض کریں گے۔ لوک سبھا کے سکریٹری جنرل اُتپل کمار سنگھ کانفرنس کا افتتاح اور خطاب کریں گے۔
یو این آئی ۔ ع خ
ہندوستان
سربراہ اجلاس سے الگ برطانیہ، عرب امارات، جاپان، کوریا اور مصر کے لیڈروں سے کی مودی نے بات
نئی دہلی، وزیر اعظم نریندر مودی نے فرانس کے ایویاں میں جی-7 سربراہ اجلاس سے الگ برطانیہ کے وزیر اعظم سر کیر اسٹارمر اور متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید آل نہیان سے منگل کو دوطرفہ ملاقات کی مسٹر مودی نے جنوبی کوریا کے صدر لی جے-میونگ، جاپان کی وزیر اعظم سنائے تاکائیچی، کینیا کے صدر ولیم روٹو اور مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی سے بھی الگ الگ ملاقات کے دوران دوطرفہ اور عالمی اہمیت کے مسائل پر تبادلہ خیال کیا۔ مسٹر اسٹارمر اور مسٹر مودی نے گزشتہ سال باہمی دوروں کے بعد سے ہندوستان-برطانیہ تعلقات میں مضبوط رفتار کا جائزہ لیا اور ’ویژن 2035‘ کے تمام اہم ستونوں—تجارت اور اقتصادی ترقی، دفاع اور سکیورٹی، ماحولیاتی کارروائی اور گرین انرجی، ٹیکنالوجی اور اختراع نیز تعلیم اور لوگوں کے باہمی تعلقات—میں ہوئی پیش رفت کا خیرمقدم کیا۔ دونوں رہنماؤں نے جامع اقتصادی اور تجارتی معاہدے کے جلد نافذ ہونے کی امید ظاہر کی۔ انہوں نے مضبوط تعلیمی شراکت داری پر اطمینان کا اظہار کیا اور بنگلورو میں یونیورسٹی آف لیورپول کی طرف سے اپنا کیمپس قائم کرنے اور ممبئی میں یونیورسٹی آف یارک اور یونیورسٹی آف برسٹل کے کیمپس کھولنے کے لیے حال ہی میں ہوئی پیش رفت کا ذکر کیا۔
دونوں رہنماؤں نے مغربی ایشیا اور یوکرین سمیت باہمی دلچسپی کے علاقائی اور عالمی حالات پر خیالات کا تبادلہ کیا۔ انہوں نے ہندوستان-برطانیہ جامع اسٹریٹجک پارٹنرشپ کو مزید مضبوط کرنے کے اپنے مشترکہ عزم کو دہرایا۔ مسٹر مودی اور مسٹر آل نہیان کے درمیان اس سال یہ تیسری ملاقات تھی جس سے ہندوستان-یو اے ای کی مضبوط اور متحرک اسٹریٹجک شراکت داری کا پتہ چلتا ہے۔ دونوں رہنماؤں نے اس سال جنوری میں صدر آل نہیان کے دورۂ ہندوستان اور مئی میں وزیر اعظم مودی کے دورۂ متحدہ عرب امارات کے نتیجے میں ٹیکنالوجی، تجارت، سرمایہ کاری، توانائی اور دفاع کے شعبوں میں دوطرفہ تعاون میں ہوئی پیش رفت اور مثبت تبدیلیوں کا جائزہ لیا۔ انہوں نے باہمی دلچسپی کے علاقائی اور عالمی حالات پر بھی خیالات کا تبادلہ کیا۔
وزیر اعظم نے مغربی ایشیا کے خطے میں مستقل امن، سکیورٹی اور استحکام کو فروغ دینے کے لیے مذاکرات، سفارت کاری اور بین الاقوامی قانون، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے احترام کی اہمیت پر زور دیا۔ دونوں فریقین نے آبنائے ہرمز سے مسلسل بلا رکاوٹ، محفوظ اور پرامن آمد و رفت اور تجارت جاری رکھنے کی اپیل کی۔ وزیر اعظم نے صدر آل نہیان کو اس سال کے آخر میں ہندوستان کی میزبانی میں ہونے والے برکس بربراہ اجلاس میں شرکت کے لیے مدعو کیا۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان
‘ٹیلی گرام بین’ پر راہل کا مرکزی حکومت پر الزام، ”پیپر لیک مافیا پر نہیں، طالب علموں کے خلاف کارروائی کر رہی ہے حکومت“
نئی دہلی، لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے مبینہ ’ٹیلی گرام بین‘ کے تعلق سے مرکزی حکومت پر الزام لگایا ہے کہ پیپر لیک روکنے کے نام پر حکومت اصل قصورواروں کے بجائے طالب علموں کو نشانہ بنا رہی ہے مسٹر گاندھی نے کہا کہ لاکھوں طالب علم برسوں سے ٹیلی گرام کا استعمال پڑھائی، نوٹس، ٹیسٹ سیریز، مباحثہ اور مسابقتی امتحانات کی تیاری کے لیے کرتے ہیں۔ ایسے میں اس سہولت کو بند کرنا پیپر لیک کا حل نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے طنز کرتے ہوئے کہا کہ حکومت چور کو پکڑنے کے بجائے متاثرہ کے گھر پر تالا لگا رہی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ یہ قدم نہ تو مؤثر ہے اور نہ ہی پیپر لیک روکنے کا مستقل علاج۔ انہوں نے سوال کیا کہ اگر اس سے بھی مسئلے کا حل نہیں ہوا تو کیا اگلی پابندی واٹس ایپ پر لگائی جائے گی
کانگریس لیڈر نے کہا کہ امتحان کے دوران طالب علموں کی سخت تلاشی، جیبیں کاٹ کر جانچ اور سوالناموں کو فضائیہ (ایئرفورس) سے بھیجنے جیسے اقدامات محض دکھاوا ہیں۔ ان کے مطابق، حکومت پیپر لیک کے اصل مسئلے پر کارروائی کرنے سے بچ رہی ہے، جبکہ پیپر لیک مافیا نوجوانوں کے مستقبل سے لگاتار کھلواڑ کر رہا ہے۔ انہوں نے وزیر اعظم نریندر مودی سے اپیل کی کہ دکھاوٹی اقدامات کے بجائے پیپر لیک مافیا پر سخت کارروائی کی جائے، طالب علموں پر نہیں۔ مسٹر گاندھی نے انتباہ دیا کہ اگر نوجوانوں کی آواز نہیں سنی گئی تو ملک کا نوجوان اپنے حقوق کے لیے جدوجہد کرنا جانتے ہے۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان
’جمہوریت کو نقصان پہنچانے کے لیے شاہ چلا رہے ہیں دھوکہ دہی پرمبنی مہم ‘: رمیش
نئی دہلی، کانگریس پارٹی کے جنرل سکریٹری جے رام رمیش نے مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ پر اپوزیشن کو نشانہ بنانے اور ہندوستانی جمہوریت کو کمزور کرنے کا الزام لگایا ہے۔
مسٹر رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ کے ذریعے بدھ کو کہا، ”وزیر داخلہ امت شاہ 17 اپریل 2026 کو لوک سبھا میں حد بندی بلوں کو پاس نہیں کرا پانے کے بعد اپنی ”بے عزتی“ کی تلافی کرنے کے لیے لگاتار اپوزیشن پر حملے کر رہے ہیں۔“
مسٹر رمیش نے الزام لگایا کہ وزیر داخلہ کی طرف سے دیئے جانے والے لالچ کے باعث ایسے کئی لیڈر بی جے پی میں شامل ہو رہے ہیں، جو محض دو سال پہلے مضبوط بی جے پی مخالف ایجنڈے پر منتخب ہوئے تھے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان لیڈروں کو دیے جا رہے لالچ ”حیران کن“ ہیں۔
کانگریس لیڈر نے کہا کہ وزیر داخلہ ایک ” تنگ ذہنی اور دھوکہ دہی پرمبنی مہم“ چلا رہے ہیں، جو مختلف وسائل سے لیس ہیں اور مبینہ طور پر الگ الگ افراد کی ضروریات کے مطابق منصوبے بنارہے ہیں اورلالچ دے رہے ہیں ۔ انہوں نے الزام لگایا کہ اس مہم میں اخلاقیات کی تمام حدیں پار کی جا رہی ہیں لیکن بالاخر یہ اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہوگی۔
یو این آئی اف اے
جموں و کشمیر5 days agoاین سی ایل ٹی نے سراج العلوم کے لیے عبوری لیکویڈیٹر مقرر کر دیا، اثاثے منجمد
ہندوستان5 days agoفضائیہ کا مال بردار طیارہ حادثے کا شکار، پانچ اہلکار شہید
دنیا7 days agoامریکہ کے ساتھ پائیدار معاہدہ دھمکیوں، دباؤ یا طاقت کے استعمال سے ممکن نہیں: ایرانی سفیر
دنیا7 days agoامریکہ آج رات ایران پر بڑا حملہ کرے گا: امریکی وزیر جنگ
دنیا1 week agoاسرائیل کے موقف سے قطع نظر امریکہ ایران جوہری معاہدے پر آگے بڑھے گا: وینس
دنیا1 week agoامریکی فوج کا اپاچی ہیلی کاپٹر آبنائے ہرمز کے قریب گر کر تباہ
دنیا6 days agoایران معاہدے سے متعلق ٹرمپ کے مؤقف پر نیتن یاہو کا ردِعمل سامنے آگیا
دنیا5 days agoامریکہ نے ایران کے جوہری مواد پر قبضے کیلئے زمینی کارروائی کا منصوبہ بنالیا تھا تاہم ٹرمپ پیچھے ہٹ گئے: امریکی میڈیا
دنیا1 week agoجے ڈی وینس بھی ایران ڈیل سے متعلق ٹرمپ کا بیان ماننے پر تیار نہیں
دنیا7 days agoآبنائے ہرمز میں امریکی افواج اور پاسداران انقلاب کے درمیان جھڑپیں: ایرانی خبر رساں ایجنسی
دنیا1 week agoامریکہ سے پاکستان کے ذریعے مذاکرات جاری ہیں: ایران
دنیا1 week agoپاکستان کا افغانستان پر حملہ، 11 بچوں سمیت 13 افراد ہلاک




































































































