ہندوستان
ٹرمپ کے رویے میں بڑی تبدیلی، کہا: ہندوستان کے ساتھ تعلقات اہم، مودی اچھے دوست

نئی دہلی، امریکہ کی جانب سے ہندوستان پر زیادہ محصولات عائد کئے جانے کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان جاری کشیدگی کے دوران، صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے ہندوستان کے ساتھ تعلقات کو خاص قرار دینے اور وزیر اعظم نریندر مودی کو اچھا دوست کہنے والے بیان اور اس پر وزیر اعظم مودی کے مثبت جواب کے بعد، اس مسئلے کے حل کی امید بڑھ گئی ہے۔
جمعہ کے روز، اپنے پہلے دیے گئے بیان سے صرف بارہ گھنٹے کے اندر صدر ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں ہندوستان کے ساتھ تعلقات کو ’’بہت خاص‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ اور وزیر اعظم نریندر مودی ہمیشہ اچھے دوست رہیں گے۔ انہوں نے وزیر اعظم مودی کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایک عظیم وزیر اعظم ہیں۔ دونوں ملکوں کے تعلقات کے بارے میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ فکر کی کوئی بات نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی وزیر اعظم مودی کے ساتھ اچھی بنتی ہے۔
امریکی صدر نے یہ بھی کہا کہ وہ ہندوستان کی جانب سے روس سے تیل خریدے جانے پر ناراض ہیں، لیکن انہوں نے یہ بھی کہا کہ دونوں ملکوں کے درمیان کبھی کبھار اس طرح کی باتیں ہو جاتی ہیں۔
وزیر اعظم مودی نے ہفتہ کو اس کے جواب میں بہت مثبت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ وہ صدر ٹرمپ کے جذبات کی قدر کرتے ہیں۔
وزیر اعظم مودی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’’ایکس‘‘پر لکھا،’’ہم صدر ٹرمپ کے جذبات اور ہمارے تعلقات کے مثبت تجزیے کی دل سے تعریف کرتے ہیں اور ان کی مکمل حمایت کرتے ہیں۔‘‘
ہندوستان اور امریکہ کے درمیان ایک بہت ہی مثبت اور دور اندیش جامع اور عالمی اسٹریٹجک شراکت داری ہے۔
واضح رہے کہ اس سے قبل چین میں وزیر اعظم مودی، چینی صدر شی جن پنگ اور روسی صدر ولادیمیر پوتن کی ملاقات کے بعد مسٹر ٹرمپ نے کہا تھا کہ ایسا لگتا ہے کہ ہم نے ہندوستان اور روس کو چین کے ہاتھوں کھو دیا ہے۔
لیکن بارہ گھنٹے کے اندر مسٹر ٹرمپ نے اپنا موقف بدلتے ہوئے کہا کہ ہندوستان کے ساتھ تعلقات اہم ہیں اور ساتھ ہی وزیر اعظم نریندر مودی کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ فکر کی کوئی بات نہیں ہے۔
مسٹر ٹرمپ کے اس بیان اور اس پر وزیر اعظم مودی کے مثبت ردعمل سے دونوں ممالک کے درمیان ٹیرف معاملے کے جلد حل کی امید پیدا ہوگئی ہے۔
واضح رہے کہ جمعہ کو یہاں ایک پریس کانفرنس میں ہندوستان، امریکہ تعلقات کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں مسٹر ٹرمپ کے ہندوستان، روس اور چین کے بارے میں دیئے گئے بیان کے تعلق سے وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان عالمی اسٹریٹجک شراکت داری ہے اور دونوں اس کے ایجنڈے پر قائم ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ یہ تعلقات باہمی احترام اور مشترکہ مفادات کی بنیاد پر آگے بڑھتے رہیں گے۔
یو این آئی۔ م ک۔ این یو۔
ہندوستان
کانگریس نے حکومت کی خارجہ پالیسی پر تنقید کی ، پاکستان کے ‘بڑھتے ہوئے سفارتی کردار’ پر متنبہ کیا
نئی دہلی ، کانگریس نے پیر کے روز مرکز کی خارجہ پالیسی پر شدید حملہ کرتے ہوئے سینئر لیڈر جے رام رمیش کے ذریعے یہ الزام لگایا کہ حالیہ جغرافیائی سیاسی تبدیلیوں کے باوجود ہندوستان پاکستان کو سفارتی طور پر تنہا کرنے میں ناکام رہا ہے۔ ایک سخت بیان میں رمیش نے ان رپورٹس کی طرف اشارہ کیا جن میں پاکستان کو امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کے دوسرے دور کی میزبانی کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے، اور انہوں نے اسے اسلام آباد کی بڑھتی ہوئی سفارتی اہمیت قرار دیا۔ وزیر خارجہ ایس جے شنکر کے پہلے کے ریمارکس کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جس ملک کو ہمارے عالم اور ہمیشہ خوش لباس وزیر خارجہ نے ‘دلال’ قرار دیا تھا، وہ مبینہ طور پر آج امریکہ-ایران امن مذاکرات کے دوسرے دور کی میزبانی کر رہا ہے۔
رمیش نے پاکستان کی نازک معاشی صورتحال پر بھی روشنی ڈالی اور واضح کیا کہ اس ملک نے حال ہی میں اپنے قرضوں کی ادائیگی کے لیے خلیجی ممالک سے اربوں ڈالر ادھار لیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی معیشت واضح طور پر مشکل میں ہے اور اس کا انحصار دوست ممالک کی خیرات پر ہے، لیکن اس کے باوجود اسلام آباد ایک اہم سفارتی کردار ادا کر رہا ہے۔
کانگریس لیڈر نے پاکستان پر دہشت گردی کی حمایت کا سلسلہ جاری رکھنے کا الزام بھی لگایا اور اس سلسلے میں اسامہ بن لادن کو پناہ دینے اور پہلگام دہشت گردانہ حملے سمیت ماضی کے دیگر حملوں میں ملوث ہونے کا ذکر کیا۔
وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت والی حکومت کو نشانہ بناتے ہوئے رمیش نے کہا کہ موجودہ انتظامیہ کی خارجہ پالیسی پاکستان پر مستقل بین الاقوامی دباؤ بڑھانے میں ناکام رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ بات پوری طرح واضح ہے کہ وزیر اعظم مودی کی علاقائی اور عالمی مشغولیت کے انداز اور بیانیے کے انتظام نے پاکستان کو تنہا کرنے میں ناکامی کا سامنا کیا ہے۔
سابقہ یو پی اے حکومت کے ساتھ موازنہ کرتے ہوئے رمیش نے دعویٰ کیا کہ سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ 2008 کے ممبئی دہشت گردانہ حملوں کے بعد پاکستان کے خلاف عالمی رائے عامہ کو ہموار کرنے میں زیادہ کامیاب رہے تھے۔
رمیش نے پاکستانی فوج کے سربراہ عاصم منیر کی بین الاقوامی سطح پر، خاص طور پر امریکہ میں بڑھتی ہوئی پذیرائی پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ منیر کے ریمارکس نے خطے میں تناؤ کو بڑھانے میں کردار ادا کیا ہے اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ ان کی بڑھتی ہوئی قربت ہندوستان کے لیے ایک خاصا سنگین دھچکا ہے۔ رمیش نے مزید کہا کہ یہ واضح ہے کہ فیلڈ مارشل اور ان کے ساتھی ٹرمپ کے خاندان اور ساتھیوں کے ایکو سسٹم کو ہندوستان کے مقابلے میں بہتر طریقے سے سنبھالنے میں کامیاب رہے ہیں، اور انہوں نے اسے ہندوستان کی خارجہ پالیسی کے لیے ایک ‘تاریخی ناکامی’ قرار دیا۔ ہندوستان کی سفارتی حکمت عملی میں مکمل تبدیلی پر زور دیتے ہوئے کانگریس لیڈر نے کہا کہ موجودہ قیادت مطلوبہ تبدیلی لانے کی اہلیت نہیں رکھتی۔
یواین آئی ۔ایف اے
ہندوستان
کھڑگے مغربی بنگال اور راہل تمل ناڈو میں انتخابی ریلیوں سے خطاب کریں گے
نئی دہلی ، کانگریس کے صدر ملیکارجن کھڑگے اور سابق صدر راہل گاندھی پیر کو بالترتیب مغربی بنگال اور تمل ناڈو میں انتخابی ریلیوں سے خطاب کریں گے مسٹر کھڑگے مغربی بنگال کے کوچ بہار اور سلی گوڑی میں انتخابی ریلیوں سے خطاب کریں گے جبکہ تمل ناڈو میں ، راہل گاندھی کنیا کماری میں لکشمی پورم ، ترونیل ویلی میں نونگولیری اور تھوتھکوڈی میں سری وینکٹم میں عوامی جلسوں سے خطاب کریں گے ۔
یو این آئی۔ ایم جے
ہندوستان
سپریم کورٹ کی ریزولوشن پلان کی منظوری میں تاخیر پر این سی ایل ٹی کی سرزنش، ملک گیر رپورٹ طلب
نئی دہلی، سپریم کورٹ نے پیر کے روز نیشنل کمپنی لاء ٹربیونل (این سی ایل ٹی) کی جانب سے ریزولوشن پلانز کی منظوری میں طویل تاخیر پر تشویش کا اظہار کیا عدالت نے این سی ایل ٹی کی پرنسپل بنچ، نئی دہلی اور انسولوینسی اینڈ بینکرپٹسی بورڈ آف انڈیا (آئی بی بی آئی) کو ہدایت دی کہ وہ زیر التواء درخواستوں اور ان میں تاخیر کی وجوہات پر مشتمل جامع ملک گیر ڈیٹا فراہم کریں۔
جسٹس جے بی پارڈی والا اور جسٹس کے وی وشوناتھن پر مشتمل بنچ ایک ایسے کیس کی سماعت کر رہی تھی جہاں ایک منصوبہ تقریباً دو سال سے زیر التواء تھا۔ یہ تنازع دیوالیہ پن کی کارروائی سے پیدا ہوا تھا، جس میں آئی آئی ایف ایل کے 85 کروڑ روپے کے دعوے کو شروع میں 2020 میں ریزولوشن پروفیشنل نے مسترد کر دیا تھا، جسے بعد میں این سی ایل ٹی نے منظور کیا اور 2023 میں این سی ایل اے ٹی نے برقرار رکھا، جس کے بعد سپریم کورٹ میں اپیلیں دائر کی گئیں۔
عدالت نے اشارہ دیا کہ جب ریزولوشن پلان پیش کیا جاتا ہے تو این سی ایل ٹی کے لیے اسے بروقت منظور کرنا لازمی ہے، ورنہ آئی بی سی کا وقت کے پابند کارپوریٹ انسولوینسی ریزولوشن پراسیس (سی آئی آرپی ) مکمل کرنے کا مقصد ناکام ہو جائے گا۔
عدالت نے این سی ایل ٹی کی پرنسپل بنچ کو حکم دیا کہ وہ جلد از جلد یہ معلومات فراہم کرے کہ منظوری کے لیے کتنی درخواستیں زیر التواء ہیں اور یہ درخواستیں کتنے عرصے سے لٹکی ہوئی ہیں۔ مزید برآں، عدالت نے ان وجوہات کی بھی وضاحت طلب کی ہے جن کی بنا پر منظوری کی درخواستوں پر اب تک فیصلہ نہیں کیا گیا ہے۔
یواین آئی ۔ایف اے
جموں و کشمیر1 week agoسوپور اسکول میں بدعنوانی کے الزامات، لیکچرر معطل
دنیا1 week agoجنگ بندی برقرار ہے، ایرن میز پر واپس آئے گا: ڈونلڈ ٹرمپ
دنیا1 week agoلبنان میں اسرائیلی حملوں سے شہید افراد کی تعداد 2 ہزار سے تجاوز کر گئی
دنیا4 days agoدشمن ایرانی قوم کو جھکانے کی حسرت اپنے ساتھ قبر میں لے جائیں گے: ایرانی آرمی چیف
دنیا1 week agoٹرمپ ایسا کیا کرے جس سے معاہدے کی راہیں کھل جائیں گی ایرانی صدر نے دل چسپ نکتہ بتا دیا
دنیا1 week agoایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا سعودی و قطری وزرائے خارجہ سے رابطہ
ہندوستان1 week agoخواتین کو بااختیاربنانے کے لیے زندگی کے ہر مرحلے کے لیے منصوبہ بندی کر رہی ہے حکومت: مودی
دنیا1 week agoہم اسلام آباد معاہدے سے چند انچ کے فاصلے پر تھے: ایرانی وزیر خارجہ
دنیا1 week agoٹرمپ دوبارہ جنگ کی طرف نہیں جائیں گے ، وہ سمجھ چکے ہیں انہیں یہ جنگ شروع ہی نہیں کرنی چاہیے تھی: دی اکنامسٹ
دنیا4 days agoٹرمپ کا دماغی توازن ٹھیک نہیں، عہدے کے قابل نہیں رہے:س یاسمین انصاری
جموں و کشمیر4 days agoجموں کشمیر: کالج پکنک پر جا رہی 20 سالہ لڑکی بس سے گر کر ہلاک
جموں و کشمیر4 days agoبارہمولہ میں منشیات سے متعلق بیداری پروگرام: ماہرین نے بڑھتی ہوئی منشیات کی لت کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیا





































































































