تازہ ترین
جبری طریقہ کار اختیار کرکے ہماری خصوصی پوزیشن کو ختم کردیا گیا:ڈاکٹر کمال

جموں وکشمیر نے ہندوستان کیساتھ مشروط الحاق کیا تھا
جیلوں اور گھر وں میں نظربند سیاسی لیڈران کی رہائی، 5اگست کے فیصلوں کو واپس لینے کیلئے قرارداد منظور
سرینگر: نیشنل کانفرنس نے کہا ہے کہ جموں وکشمیر میں جمہوریت نام کی کوئی چیز موجود نہیں، یہاں لوگ روز مررہے ہیں، نوجوان آئے روز موت کیبھینٹ چڑھ رہے ہیں اور مرکزی حکومت جھوٹے دعوے کررہی ہے کہ یہاں سب کچھ ٹھیک اور قابو میں ہے۔
پارٹی کے معاون جنرل سکریٹری ڈاکٹر شیخ مصطفےٰ کمال نے کہا کہ جموں وکشمیر نے ہندوستان کے آئین سے اپنا آئین حاصل کیا تھا، ہماری ریاست باقی ریاستوں کی طرح ملک میں ضم نہیں ہوئی تھی بلکہ مشروط الحاق کیا تھا۔
کشمیر نیوز سروس کے مطابق نوائے صبح کمپلیکس سرینگرمیں جمعرات کو مرزا محمد افضل بیگ اور حاجی غلام محی الدین شاہ کو برسوں پر خراج عقیدت پیش کرنے کیلئے منعقدہ ایک اجلاس سے خطاب ڈاکٹر شیخ مصطفےٰ کمال نے کہا’جموں وکشمیر نے ہندوستان کے آئین سے اپنا آئین حاصل کیا تھا، ہماری ریاست باقی ریاستوں کی طرح ملک میں ضم نہیں ہوئی تھی بلکہ مشروط الحاق کیا تھا، لیکن بدقسمتی اس بات ہے کہ نئی دلی میں براجمان حکمران یہ بات تسلیم کرنے کیلئے تیار نہیں اور انہوں نے غیر جمہوری اور جبری طریقہ کار اختیار کرکے ہماری خصوصی پوزیشن کو ختم کردیا‘۔ان کا کہناتھا ’جس آئین میں جموں وکشمیر کے عوام کی رائے کے بغیر ترمیم لانا بھی ممکن نہیں تھا اُسے بھاجپا حکومت نے غیر آئینی طور پر ختم کردیا اور جموں و کشمیر کے عوام کو کانوں کان خبر نہیں رکھی گئی‘۔
ڈاکٹر کمال نے کہا کہ افسوس اس بات ہے کہ نیشنل کانفرنس کے سربراہ ڈاکٹر فاروق عبداللہ، عمر عبداللہ اور حسنین مسعودی ایک روز قبل وزیر اعظم سے ملے اور انہوں نے وہاں پر یقین دہانی کرائی کہ وہ اس بارے میں سوچ بھی نہیں رہے ہیں اور ہم جموں و کشمیر میں الیکشن کی تیاری کررہے ہیں جبکہ یہاں کے گورنر بھی آخری پل تک جھوٹ بولتے رہے۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت نے صرف جموں وکشمیر کے عوام کو ہی نہیں بلکہ پورے ملک کے عوام کو دھوکہ دیا جبکہ بھاجپا حکومت نے جموں وکشمیر کے آئین کے بار ے میں ملک کے عوام کو گمراہ کیا اور اسے بھی مذہبی رنگت دی۔
انہوں نے کہا کہ اب یہ معاملہ سپریم کورٹ میں ہے اور مرکز کو اس غیر آئینی اقدام کا جواب سپریم کورٹ میں دینا پڑے گا۔ان کا کہناتھا کہ آئین اور جمہوریت کی بالادستی کو مقدم رکھنے کا کام اب سپریم کورٹ میں ہے اور عوام کی نظریں ملک کی سب سے بڑی عدالت پر مرکوز ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ حق اور باطل کی لڑائی ہے اور آخر پر حق کی ہی جیت ہوتی ہے۔
نیشنل کانفرنس نے بیش بہا قربانیاں دیکر اقتدار اور اختیار کو عوام تک منتقل کیا ہے اور عوام کو ہی جموں وکشمیر پر سرداری کا حق ہے۔ڈاکٹر کمال نے کہا کہ بھاجپانے مسلمانوں کیخلاف اعلان جنگ کر رکھا ہے،مسلمانوں کو نشانہ بنانے کیلئے بہانے ڈھونڈے جارہے ہیں، ملک میں اس وقت فرقہ پرستی کی لپیٹ میں آگیا ہے،گاندھی نے بھی اسی فرقہ پرستی کیخلاف آواز اُٹھائی اور اگلے ہی روز اُسے قتل کیا گیا۔
ڈاکٹر کمال نے کہا بھاجپا ملک کو مذہب کے نام پر بانٹ رہی ہے جو ملک کی سالمیت، جمہوریت اور آزادی کیلئے خطرہ ہے‘۔اجلاس میں پارٹی لیڈران محمد سعید آخون اور ایڈوکیٹ شوکت احمد میر نے ایک قرارداد پیش کی۔ جس میں جیلوں اور گھروں میں نظربند تمام سیاسی لیڈران کی فوری رہائی اور جموں وکشمیر میں 5اگست کے بعد لئے گئے فیصلوں کو واپس لینے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ قرارداد کو شرکاء نے یک زبان ہوکر منظور کیا۔
اجلاس میں دیگر لیڈران کے علاوہ پارٹی لیڈر احسان پردیسی، سید توقیر اور غلام نبی بٹ بھی موجود تھے۔اجلاس میں مرزا محمد افضل بیگ اور خواجہ محی الدین شاہ کی برسی پر اُن کو خراج عقیدت پیش کیا گیا۔ مقررین نے دونوں رہنماؤں کے بے مثال سیاسی وسماجی خدمات پر روشنی ڈالی اور مقررین نے کہا کہ مرحومین نے اپنے عظیم قاید مرحوم شیخ صاحب کے تئیں جو وفاداری کی وہ ہمارے لئے مشعل راہ ہے۔
اجلاس میں نائب صدر صوبہ محمد سعید آخون، صوبائی سکریٹری ایڈوکیٹ شوکت احمد میراور ضلع صدر سرینگر پیر آفاق احمدبھی موجود تھے۔ اجلاس میں کورونا وائرس کے پیش نظر تمام احتیاطی تدابیر اپنائے گئے تھے اور پروٹوکول کے مطابق شرکاء کے بیٹھنے کا انتظام کیا گیا تھا۔
جموں و کشمیر
عمر نے ریاست کا درجہ بحال کرنے کے حوالے سے احتجاجی مظاہرے کے لئے انڈیا اتحاد سے حمایت طلب کی
سری نگر، جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبد اللہ نے قومی دارالحکومت میں اپوزیشن جماعتوں کے ‘انڈیا’ اتحاد کے رہنماؤں سے ملاقات کرکے ریاست کا درجہ بحال کرنے کے حوالے سے احتجاجی مظاہرے کے لیے حمایت طلب کی ہے۔
مسٹر عبداللہ نے پیر کے روز نئی دہلی میں منعقدہ انڈیا اتحاد کی میٹنگ میں یہ معاملہ اٹھایا اور اتحاد کے شراکت داروں سے قومی دارالحکومت میں ہونے والے پارٹی کے مجوزہ احتجاج میں شریک ہونے کی درخواست کی۔ انڈیا اتحاد کی اس میٹنگ میں پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی سربراہ محبوبہ مفتی نے بھی شرکت کی۔
نیشنل کانفرنس نے یہاں ایک بیان میں کہا، ’’آج ہونے والی انڈیا اتحاد کی میٹنگ میں وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے تمام شرکاء سے کہا کہ جب ہم ریاستی درجہ کی بحالی کے لیے دہلی میں احتجاج کرنے آئیں گے تو وہ جموں کسمیر نیشنل کانفرنس کے ساتھ جڑیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ اس سلسلے میں تمام رہنماؤں کو الگ الگ خطوط بھی ارسال کریں گے۔‘‘
یواین آئی۔الف الف
دنیا
اختلافات کے برعکس ترک-ہند تعلقات اچھے ہونے چاہیئے:فیدان
انقرہ، ترک وزیر خارجہ خاقان فیدان نے ترکیہ اور ہندوستان کے درمیان تعلقات کو بہتر بنانے پر زور دیا ہے اور یہ دلیل دی ہے کہ پاکستان کے ساتھ انقرہ کے قریبی تعلقات کی وجہ سے پیدا ہونے والے اختلافات کو ان دونوں علاقائی طاقتوں کے درمیان تعاون کی راہ میں رکاوٹ نہیں بننا چاہیے۔
پچھلے ہفتے سنگاپور میں چھٹے ‘آئی آئی ایس ایس رافلز م لیکچر سے خطاب کرتے ہوئے فیدان نے کہا کہ ترکیہ اور ہندوستان کے درمیان کوئی بڑے دوطرفہ تنازعات نہیں ہیں اور دونوں کے پاس مثبت تعلقات برقرار رکھنے کی مضبوط وجوہات موجود ہیں۔
لیکچر کے بعد سوال و جواب کے ایک سیشن میں فیدان نے کہا کہ ہم واقعی ہندوستان کے ساتھ بہترین تعلقات قائم کرنا چاہتے ہیں۔ ہندوستان کے ساتھ ہماری کوئی سرحد نہیں ہے اور نہ ہی ہندوستان کے ساتھ ہمارا کوئی حل طلب دوطرفہ مسئلہ ہے۔
” انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ترکیہ اور ہندوستان کی کوئی آپسی جنگی تاریخ نہیں ہے بلکہ اس کے بجائے ان کے پاس اچھے تعلقات رکھنے کی ہر بہترین وجہ موجود ہے۔
ترک وزیر خارجہ نے پاکستان کے ساتھ انقرہ کے دیرینہ تعلقات کا دفاع کیا اور انہیں تاریخی یکجہتی پر مبنی قرار دیا، جبکہ اس بات پر زور دیا کہ ان تعلقات کو نئی دہلی کے ساتھ تعاون میں رکاوٹ کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے۔
فیدان نے کہا کہ ترکیہ واحد ملک نہیں ہے جس کے پاکستان کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں اور بعض مخصوص مسائل پر پاکستان کے ساتھ تاریخی یکجہتی موجود ہے۔
واضح رہے کہ تعلقات میں یہ مشکل موڑ مئی 2025 میں ہندوستان اور پاکستان کے درمیان چار روزہ جنگ کے بعد آیا تھا۔
نئی دہلی نے اس بحران کے دوران ہندوستانی حملوں کی ترک مذمت اور پاکستان کے لیے حمایت کے اظہار پر اعتراض اٹھایا تھا۔
یہ بات قابل ذکر ہے کہ ترکیہ ان پہلے ممالک میں شامل تھا جس نے 22 اپریل 2025 کو ہندوستان کے کشمیر کے علاقے پہلگام میں شہریوں پر ہونے والے دہشت گردانہ حملے کی مذمت کی تھی جس کے بعد یہ جنگ شروع ہوئی تھی۔
ترک وزارت خارجہ نے اسی دن ایک بیان جاری کرتے ہوئے اسے ایک “گھناؤنا حملہ” قرار دیا تھا۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
ایران نے اسرائیل پر حملے روکنے کا اعلان کردیا
تہران، ایرانی خاتم الانبیاء مرکزی ہیڈکوارٹر نے اسرائیل کے خلاف مسلح افواج کی کارروائیاں روکنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ لبنان کے مظلوم عوام کی حمایت میں صہیونی حکومت کو دردناک جواب دے دیا گیا ہے۔
خاتم الانبیاء مرکزی ہیڈکوارٹر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ ایرانی مسلح افواج نے جنوبی لبنان اور بیروت کے جنوبی علاقے الضاحیہ پر اسرائیلی حملوں اور مبینہ جارحیت کا جواب دے دیا ہے، جس کے بعد فوجی کارروائیاں روک دی گئی ہیں۔
بیان میں کہا گیا کہ اسرائیل اور اس کے حامیوں کو اس جواب سے سبق سیکھنا چاہیے، تاہم اگر جارحیت اور اشتعال انگیز کارروائیاں جاری رہیں تو پہلے سے زیادہ شدید اور تباہ کن اقدامات کیے جائیں گے۔
اس سے قبل پاسداران انقلاب نے گزشتہ روز شمالی اسرائیل میں واقع اسرائیلی ایئر بیس پر بیلسٹک میزائل حملوں کی ذمہ داری قبول کی گئی تھی۔
ایرانی پاسداران انقلاب گارڈز کا کہنا تھا کہ اسرائیل کی نیوتم ایئر بیس، تل انوف پر حملے کیے ہیں، اسرائیلی ایئر بیس پر حملے ایران میں ریڈار مقامات کو نشانہ بنانے کے جواب میں کیے گئے، کسی بھی صورتِ حال اور تمام محاذوں پر وسیع آپریشنز کے لیے تیار ہیں۔
خاتم الانبیاء ہیڈکوارٹرز کے ترجمان ابراہیم ذوالفقاری نے کہا کہ ایرانی مسلح افواج نے مقبوضہ علاقوں میں اہم اور حساس اہداف کے خلاف کامیاب کارروائیاں کیں، جن کے نتیجے میں دشمن کو بھاری اور مہنگا نقصان اٹھانا پڑا۔
انہوں نے امریکہ اور اسرائیل کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ایران اور خطے کی مزاحمتی قوتیں کسی بھی دباؤ یا دھمکی کے سامنے سر نہیں جھکائیں گی، اور اگر جارحیت جاری رہی تو اس کا زیادہ سخت جواب دیا جائے گا۔
ایرانی حکام کا مؤقف ہے کہ 8 اپریل کو ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان نافذ ہونے والی جنگ بندی تمام محاذوں پر جنگ بندی سے مشروط تھی، جبکہ اسرائیل پر لبنان میں کارروائیاں جاری ہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا1 week agoایران نے صدر پزشکیان کے استعفی کی خبروں کی تردید کی
جموں و کشمیر6 days agoسری نگر: نیشنل کانفرنس اور حمایتی آزاد ارکانِ اسمبلی کا سرپرازنگ اجلاس، اہم فیصلے متوقع
ہندوستان5 days agoمودی حکومت میں تعلیمی نظام ہوا تباہ، آکانکشا کی موت اسی ناکامی کا نتیجہ: راہل گاندھی
دنیا4 days agoایرانی سپریم لیڈر سے ملاقات باعث اعزاز ہوگی: صدر ٹرمپ
دنیا7 days agoجنگ بندی کے دوران ایرانی فوجی صلاحیتوں میں اضافہ ہوا: پاسدارانِ انقلاب
کھیل6 days agoعاقب نبی اور ذیشان انصاری سمیت چھ کھلاڑی بطور نیٹ بولرز ہندوستانی ٹیم میں شامل
دنیا3 days agoایران کے پاس 21 سے 22فیصد میزائل باقی ہیں، معاہدے کے سوا اس کے پاس کوئی راستہ نہیں: ٹرمپ
دنیا1 week agoہرمزگان کمیونیکیشن ٹاور پر حملے کے بعد ایران کے کویت میں امریکی فوجی اڈے پر حملے میں 7 افراد زخمی
دنیا5 days agoامریکہ اب ایران کے خلاف دوبارہ جنگ نہیں کرےگا: ٹرمپ نے مشیروں کو آگاہ کردیا
دنیا7 days agoلبنان پر حملے بند نہ ہوئے تو سنگین نتائج ہوں گے: ابراہیم عزیزی
جموں و کشمیر3 days agoجموں و کشمیر میں منشیات کی تجارت کی ہر کڑی توڑ رہے ہیں: لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا
دنیا1 week agoواضح نتیجے تک مذاکرات سے متعلق رائے نہیں دی جاسکتی، عراقچی







































































































