تازہ ترین
5اگست2019 کے بعد جموں و کشمیر سے متعلق لئے گئے تمام فیصلے واپس لئے جائیں: ڈاکٹر کمال

ڈومیسائل قانون سے منظم امتیازی سلوک کے دور کا آغازہوگا
خبراردو:-
سرینگر: نیشنل کانفرنس نے بدھ اس بات کو دہرایا ہے کہ ڈومیسائل قانون نے جموں و کشمیر کے مستقل باشندوں کے خلاف منظم امتیازی سلوک کے دور کا آغاز ہوگا اور اس سے مقامی نوجوانوں کے پہلے سے ہی قلیل روزگار کے ذرائع کا معدوم ہوکر رہ جائیں گے۔
کے این ایس کے مطابق پارٹی کے معاون جنرل سکریٹری ڈاکٹر شیخ مصطفےٰ کمال نے نوجوانوں میں بڑھتی ہوئی تشویش کو لمحہ فکریہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس ڈومیسائل قانون کو یہ کہہ کر ہمارے گلے سے اُتارنے کی کوشش کی جارہی ہے کہ یہ سرمایہ کاروں کو راغب کرے گا۔ جو دعوے اور وعدے کئے جارہے ہیں لوگوں کو ان پر شک و شبہات اور تحفظات ہیں اور اس کی وجہ بتانے کی ضرورت نہیں۔
انہوں نے کہا کہ ڈومیسائل قانون کے پس پردہ عزائم، جن کے بارے میں عوام کو خدشات تھے، وہ ہر دن گزرنے کے ساتھ صحیح ثابت ہورہے ہیں۔ ڈاکٹر کمال نے کہا کہ نیشنل کانفرنس روز اول سے ہی اس قانون کی مخالف رہی ہے اور ہمارے جماعت 5اگست کے بعد لاگو کئے گئے تمام قوانین کی منسوخی کا مطالبہ کرتی ہے۔
نیشنل کانفرنس نے 5اگست 2019کے بعد پارلیمنٹ اور اس کے باہر جو مؤقف اپنا ہے اُس کے تحت جموں وکشمیر کی خصوصی پوزیشن کا خاتمہ، آئینی ضمانتوں پر ڈاکہ زنی، ریاست کی تنزلی اور تقسیم یکطرفہ اور غیر آئینی ہونے کی ساتھ ساتھ آئین کے بنیادی ڈھانچے کی خلاف ورزی ہے۔پارٹی نے اس بارے میں قانونی لڑائی کیلئے عدالت عظمیٰ کا دروازہ بھی کھٹکھٹایا ہے اور کیس اس وقت زیر سماعت ہے۔اس کے علاوہ تینوں خطوں کے عوام نے بھی 5اگست2019کے فیصلوں کو مسترد کیا ہے۔
ڈاکٹر کمال نے کہا کہ ڈومیسائل قانون کو جموں وکشمیر کے عوام کے حقوق پر شب خون کے مترادف ہے اور حکومت ہند کا یہ اقدام یہاں کے عوام کو بے اختیار اور محتاج بنانا ہے۔انہوں نے اس غیر دانشمندانہ اور غیر حقیقت پسندانہ قانون کو واپس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ حکومت ہند کب تک کشمیریوں کے احساسات اور جذبات کیساتھ کھلواڑی کرتی رہے گی۔
انہوں نے کہا کہ اس سے بڑی افسوس کی بات کیا ہوسکتی ہے ایک ایسے وقت میں جب ملک میں کورونا وائرس نے خطرناک رُخ اختیار کر رکھا ہے مرکزی حکومت اس وقت بھی کشمیر کو لیکر غیر آئینی اور غیر جمہوری فیصلے لے رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ ریاست کے تمام خطوں کے لوگ، پھر چاہے وہ کشمیری، ڈوگرہ یا لداخی ہو، خطہ چناب و پیرپنچال سے تعلق رکھتے ہوں یا پھر کرگل سے، تمام باشندے مرکزی حکومت کے فیصلوں کو مسترد کرتے آئے ہیں۔ ڈاکٹر کمال نے مرکزی حکومت کے جموں وکشمیر دشمن فیصلوں کو فوری طور واپس لینا چاہئے کیونکہ ایسے فیصلوں سے کسی بھی صورت میں اچھے نتائج سامنے نہیں آسکتے۔
جموں و کشمیر
عمر نے ریاست کا درجہ بحال کرنے کے حوالے سے احتجاجی مظاہرے کے لئے انڈیا اتحاد سے حمایت طلب کی
سری نگر، جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبد اللہ نے قومی دارالحکومت میں اپوزیشن جماعتوں کے ‘انڈیا’ اتحاد کے رہنماؤں سے ملاقات کرکے ریاست کا درجہ بحال کرنے کے حوالے سے احتجاجی مظاہرے کے لیے حمایت طلب کی ہے۔
مسٹر عبداللہ نے پیر کے روز نئی دہلی میں منعقدہ انڈیا اتحاد کی میٹنگ میں یہ معاملہ اٹھایا اور اتحاد کے شراکت داروں سے قومی دارالحکومت میں ہونے والے پارٹی کے مجوزہ احتجاج میں شریک ہونے کی درخواست کی۔ انڈیا اتحاد کی اس میٹنگ میں پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی سربراہ محبوبہ مفتی نے بھی شرکت کی۔
نیشنل کانفرنس نے یہاں ایک بیان میں کہا، ’’آج ہونے والی انڈیا اتحاد کی میٹنگ میں وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے تمام شرکاء سے کہا کہ جب ہم ریاستی درجہ کی بحالی کے لیے دہلی میں احتجاج کرنے آئیں گے تو وہ جموں کسمیر نیشنل کانفرنس کے ساتھ جڑیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ اس سلسلے میں تمام رہنماؤں کو الگ الگ خطوط بھی ارسال کریں گے۔‘‘
یواین آئی۔الف الف
دنیا
اختلافات کے برعکس ترک-ہند تعلقات اچھے ہونے چاہیئے:فیدان
انقرہ، ترک وزیر خارجہ خاقان فیدان نے ترکیہ اور ہندوستان کے درمیان تعلقات کو بہتر بنانے پر زور دیا ہے اور یہ دلیل دی ہے کہ پاکستان کے ساتھ انقرہ کے قریبی تعلقات کی وجہ سے پیدا ہونے والے اختلافات کو ان دونوں علاقائی طاقتوں کے درمیان تعاون کی راہ میں رکاوٹ نہیں بننا چاہیے۔
پچھلے ہفتے سنگاپور میں چھٹے ‘آئی آئی ایس ایس رافلز م لیکچر سے خطاب کرتے ہوئے فیدان نے کہا کہ ترکیہ اور ہندوستان کے درمیان کوئی بڑے دوطرفہ تنازعات نہیں ہیں اور دونوں کے پاس مثبت تعلقات برقرار رکھنے کی مضبوط وجوہات موجود ہیں۔
لیکچر کے بعد سوال و جواب کے ایک سیشن میں فیدان نے کہا کہ ہم واقعی ہندوستان کے ساتھ بہترین تعلقات قائم کرنا چاہتے ہیں۔ ہندوستان کے ساتھ ہماری کوئی سرحد نہیں ہے اور نہ ہی ہندوستان کے ساتھ ہمارا کوئی حل طلب دوطرفہ مسئلہ ہے۔
” انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ترکیہ اور ہندوستان کی کوئی آپسی جنگی تاریخ نہیں ہے بلکہ اس کے بجائے ان کے پاس اچھے تعلقات رکھنے کی ہر بہترین وجہ موجود ہے۔
ترک وزیر خارجہ نے پاکستان کے ساتھ انقرہ کے دیرینہ تعلقات کا دفاع کیا اور انہیں تاریخی یکجہتی پر مبنی قرار دیا، جبکہ اس بات پر زور دیا کہ ان تعلقات کو نئی دہلی کے ساتھ تعاون میں رکاوٹ کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے۔
فیدان نے کہا کہ ترکیہ واحد ملک نہیں ہے جس کے پاکستان کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں اور بعض مخصوص مسائل پر پاکستان کے ساتھ تاریخی یکجہتی موجود ہے۔
واضح رہے کہ تعلقات میں یہ مشکل موڑ مئی 2025 میں ہندوستان اور پاکستان کے درمیان چار روزہ جنگ کے بعد آیا تھا۔
نئی دہلی نے اس بحران کے دوران ہندوستانی حملوں کی ترک مذمت اور پاکستان کے لیے حمایت کے اظہار پر اعتراض اٹھایا تھا۔
یہ بات قابل ذکر ہے کہ ترکیہ ان پہلے ممالک میں شامل تھا جس نے 22 اپریل 2025 کو ہندوستان کے کشمیر کے علاقے پہلگام میں شہریوں پر ہونے والے دہشت گردانہ حملے کی مذمت کی تھی جس کے بعد یہ جنگ شروع ہوئی تھی۔
ترک وزارت خارجہ نے اسی دن ایک بیان جاری کرتے ہوئے اسے ایک “گھناؤنا حملہ” قرار دیا تھا۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
ایران نے اسرائیل پر حملے روکنے کا اعلان کردیا
تہران، ایرانی خاتم الانبیاء مرکزی ہیڈکوارٹر نے اسرائیل کے خلاف مسلح افواج کی کارروائیاں روکنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ لبنان کے مظلوم عوام کی حمایت میں صہیونی حکومت کو دردناک جواب دے دیا گیا ہے۔
خاتم الانبیاء مرکزی ہیڈکوارٹر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ ایرانی مسلح افواج نے جنوبی لبنان اور بیروت کے جنوبی علاقے الضاحیہ پر اسرائیلی حملوں اور مبینہ جارحیت کا جواب دے دیا ہے، جس کے بعد فوجی کارروائیاں روک دی گئی ہیں۔
بیان میں کہا گیا کہ اسرائیل اور اس کے حامیوں کو اس جواب سے سبق سیکھنا چاہیے، تاہم اگر جارحیت اور اشتعال انگیز کارروائیاں جاری رہیں تو پہلے سے زیادہ شدید اور تباہ کن اقدامات کیے جائیں گے۔
اس سے قبل پاسداران انقلاب نے گزشتہ روز شمالی اسرائیل میں واقع اسرائیلی ایئر بیس پر بیلسٹک میزائل حملوں کی ذمہ داری قبول کی گئی تھی۔
ایرانی پاسداران انقلاب گارڈز کا کہنا تھا کہ اسرائیل کی نیوتم ایئر بیس، تل انوف پر حملے کیے ہیں، اسرائیلی ایئر بیس پر حملے ایران میں ریڈار مقامات کو نشانہ بنانے کے جواب میں کیے گئے، کسی بھی صورتِ حال اور تمام محاذوں پر وسیع آپریشنز کے لیے تیار ہیں۔
خاتم الانبیاء ہیڈکوارٹرز کے ترجمان ابراہیم ذوالفقاری نے کہا کہ ایرانی مسلح افواج نے مقبوضہ علاقوں میں اہم اور حساس اہداف کے خلاف کامیاب کارروائیاں کیں، جن کے نتیجے میں دشمن کو بھاری اور مہنگا نقصان اٹھانا پڑا۔
انہوں نے امریکہ اور اسرائیل کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ایران اور خطے کی مزاحمتی قوتیں کسی بھی دباؤ یا دھمکی کے سامنے سر نہیں جھکائیں گی، اور اگر جارحیت جاری رہی تو اس کا زیادہ سخت جواب دیا جائے گا۔
ایرانی حکام کا مؤقف ہے کہ 8 اپریل کو ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان نافذ ہونے والی جنگ بندی تمام محاذوں پر جنگ بندی سے مشروط تھی، جبکہ اسرائیل پر لبنان میں کارروائیاں جاری ہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا1 week agoایران نے صدر پزشکیان کے استعفی کی خبروں کی تردید کی
جموں و کشمیر6 days agoسری نگر: نیشنل کانفرنس اور حمایتی آزاد ارکانِ اسمبلی کا سرپرازنگ اجلاس، اہم فیصلے متوقع
ہندوستان5 days agoمودی حکومت میں تعلیمی نظام ہوا تباہ، آکانکشا کی موت اسی ناکامی کا نتیجہ: راہل گاندھی
دنیا4 days agoایرانی سپریم لیڈر سے ملاقات باعث اعزاز ہوگی: صدر ٹرمپ
کھیل6 days agoعاقب نبی اور ذیشان انصاری سمیت چھ کھلاڑی بطور نیٹ بولرز ہندوستانی ٹیم میں شامل
دنیا3 days agoایران کے پاس 21 سے 22فیصد میزائل باقی ہیں، معاہدے کے سوا اس کے پاس کوئی راستہ نہیں: ٹرمپ
دنیا7 days agoجنگ بندی کے دوران ایرانی فوجی صلاحیتوں میں اضافہ ہوا: پاسدارانِ انقلاب
دنیا7 days agoلبنان پر حملے بند نہ ہوئے تو سنگین نتائج ہوں گے: ابراہیم عزیزی
جموں و کشمیر3 days agoجموں و کشمیر میں منشیات کی تجارت کی ہر کڑی توڑ رہے ہیں: لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا
دنیا1 week agoہرمزگان کمیونیکیشن ٹاور پر حملے کے بعد ایران کے کویت میں امریکی فوجی اڈے پر حملے میں 7 افراد زخمی
دنیا5 days agoامریکہ اب ایران کے خلاف دوبارہ جنگ نہیں کرےگا: ٹرمپ نے مشیروں کو آگاہ کردیا
دنیا6 days agoامریکی سفارت کاری نہیں، میزائلوں کی زبان سمجھتے ہیں: ایران






































































































