چائلڈ پورنو گرافی پر آپ کا فون خود آپ کی شکايت کرے گا

‘ايپل‘ نے کہا ہے کہ ايک نئی ٹيکنالوجی کی مدد سے آئی فون اور آئی پيڈ خود کار طريقے سے چيک کيے جائيں گے اور اگر ان ميں بچوں کے ساتھ جنسی حرکات و تعلقات سے متعلق مواد برآمد ہوا، تو ان کے بارے ميں حکام کو اطلاع دی جائے گی۔ پرائيويسی حقوق کے ليے سرگرم کارکنان نے البتہ اس پر تحفظات کا اظہار کيا ہے۔

ٹيکنالوجی کام کيسے کرے گی؟
بچوں کے تحفظ کے ليے کام کرنے والی تنظيموں نے نابالغوں کے ساتھ جنسی عوامل پر مبنی تصاوير وغيرہ کا ايک ڈيٹا بيس تشکيل ديا ہے، جس کا عنوان (CSAM) ہے۔ ايپل کی مصنوعات پر سافٹ ويئر خود کار طريقے سے صارف کی موبائل ڈيوائس کا جائزہ لے گا اور اگر CSAM کے ڈيٹا بيس پر موجود کچھ مواد ملا، تو اس کا نوٹس ليا جائے گا۔ جيسے ہی صارف کی موبائل ڈيوائس متنازعہ مواد کو کلاؤڈ پر محفوظ کرے گی، خود کار ٹيکنالوجی متحرک ہو جائے گی۔

ايپل نے وضاحت کی ہے کہ متنازعہ مواد کی شناخت کا يہ کام ‘کرپٹو گرافک ٹيکنالوجی‘ کی مدد سے کيا جائے گا۔ بچوں کے حوالے سے متنازعہ مواد ملنے کی صورت ميں کمپنی کو اس مواد تک رسائی حاصل نہيں ہو گی بلکہ ‘نيشنل سينٹر فار مسنگ اينڈ ايکسپلوئٹڈ چلڈرن‘ نامی محکمے کو اطلاع دی جائے گی۔ يہ ادارہ پوليس کے ساتھ کام کرتا ہے۔

ڈيجيٹل رائٹس گروپوں کے تحفظات
ڈيجيٹل حقوق کے ليے سرگرم تنظيموں نے اس پيش رفت پر تحفظات کا اظہار کيا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ يہ ٹيکنالوجی متعارف کرانے سے سافٹ ويئر ميں ايک نقص پيدا ہو سکتا ہے، جو ‘پيچھے کے دروازے‘ کی مانند ہو گا۔ حکومتيں اور مختلف گروپس اس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے، لوگوں کے ذاتی ڈيٹا تک رسائی حاصل کر سکتے ہيں۔

ڈيجيٹل رائٹس گروپ ‘اليکٹرانک فرنٹيئر فاؤنڈيشن‘ سے وابستہ انڈيا مککينی اور ايريکا پورٹ نوئے کے مطابق ايپل کے اس اقدام سے حکومتی ايجنسياں تو خوش ہوں گی ليکن ايسے صارفين کے ليے يہ بری خبر ہے، جو سالہا سال سے بہتر پرائيويسی کی وجہ سے ايپل کی مصنوعات کے ساتھ جڑے رہے ہيں۔

جرمنی میں ہزاروں بچے پادریوں کی ہوس کا شکار
ايپل کی نئی ٹيکنالوجی کا پس منظر
ايپل کا يہ نیا اميج مانيٹرنگ فيچر ان کئی ٹولز ميں شامل ہے جو کمپنی آئندہ دنوں ميں متعارف کرانے جا رہی ہے۔ ايپل نے اپنی ايک آن لائن پوسٹ ميں لکھا ہے کہ اس ٹيکنالوجی سے کمپنی بچوں کو ايسے افراد کی پہنچ سے دور رکھنا چاہتی ہے، جو کميونيکيشن ٹولز بروئے کار لاتے ہوئے بچوں کو غلط مقاصد کے ليے اپنے چنگل ميں پھنسا سکتے ہيں۔

ايپل نے مزيد کہا ہے کہ ميسيجنگ ايپس اور ديگر ايپليکيشنز اب مشين لرننگ کے ذريعے بچوں اور والدين کو متنازعہ مواد کے بارے ميں آگاہ کريں گی۔ اگر سرچ کے نتائج ميں بچوں کے حوالے سے متنازعہ تصاوير وغيرہ سامنے آئيں، تو موبائل ڈيوائس خود ايسے مواد کو دھندلا کر کے پيش کريں گی اور متعلقہ حکام کو آگاہ کيا جائے گا۔

مزيد يہ کہ ايپل کا اسسٹنٹ سافٹ ويئر ‘سری‘ بھی مدد کرے گا۔ جب صارفين کسی ممنوعہ مواد کو سرچ کرنے کی کوشش کريں گے، تو سری متحرک ہو کر اس عمل کو روکے گا۔ يہ فيچر ايپل کے نئے کمپيوٹرز ميں بھی متعارف کرایا گیا ہے۔

چائلڈ پورنو گرافی کتنا بڑا مسئلہ
امريکی محکمہ انصاف چائلڈ پورنوگرافی کو بچوں کا جنسی استحصال قرار ديتا ہے۔ بچوں کی نازيبہ تصاوير و ويڈيوز بنانا، انہيں ديگر افراد کے ساتھ بانٹنا، ديکھنا اور محفوظز کرنا، دنيا کے بيشتر ممالک ميں سنگين جرائم ميں شامل ہوتے ہيں۔

امريکی ‘نيشنل سينٹر فار مسنگ اينڈ ايکسپلوئٹڈ چلڈرن‘ سالانہ بنيادوں پر پچيس ملين تصاوير و ويڈيوز کا جائزہ ليتا ہے، جن کا تعلق چائلڈ پورنوگرافی سے ہوتا ہے۔ يعنی ہر ہفتہ لگ بھگ 480,769 کا معائنہ کيا جاتا ہے۔

اسٹيسٹا کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق چائلڈ پورنوگرافی سے متعلق مواد ميں ہالينڈ سب سے نماياں ملک ہے، جہاں مجموعی تعداد کی باون فيصد ويب سائٹس پائی جاتی ہيں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں