کیا او ای سی جموں کشمیر سے دفعہ 370 کے ہٹھنے کی حمایت میں ے؟

18 اکتوبر 2021کو سارا میڈیا کشمیر کور کر رہا تھا۔ اور ہر اخبار اور ٹی وی چینلز پر یہی مدح چل رہا تھا کہ مایگرنٹ ورکرز اور ماینارٹی سے جڑے لوگ اب بندوق کے نشانے پر ے اور سرکار ان کی سیکورٹی کے لے کس طرح کے انتظامات اٹھا رہی ے۔ ان خبروں کے بھیچ کشمیر سے ہی ایک بہت بڑی خبر ہماری آنکھوں سے اوجھل ہوکر رہ گی۔
کشمیر کے راجھ بھون میں یو ٹی انتظامیہ نے دبئی کی ایک بہت بڑی کمپنی ڈی پی ورلڈ کے ساتھ ایک میمورنڈم ساین کیا جس کے تحت دبئی جموں کشمیر کے ہر سیکٹر میں انویسٹمنت کرنے کے لیے راضی ہوچکی ے۔ اور ڈی پی ورلڈ دبئی کی ایک سرکاری کمپنی ے جس کا کنٹرول وہاں کے رولر شیخ محمد بن رشید المختوم کے ہاتھوں میں ے۔
سرینگر میں پریس کانفرنس کے دوران کمپنی کے چیرمین سلطان احمد بن سلیمان نے کہا کہ وہ آنے والے وقت کے چیلینز سے واقف ے اور ان چیلینز کا سامنا کرنے کے لے تیار ے تاکہ جموں کشمیر کو بھارت کے دوسرے ریاستوں کے ساتھ جوڈا جائے۔ اور یہا ہر لوگوں کی اقتصادی حالت بہتر ہوسکے۔
دفعہ 370 کئے ہٹنے کے بعد یہ کوئی پہلی فارن انویسٹمنت جموں کشمیر میں ہوگی۔ ایم او یو کے مطابق دبئی انفراسٹرکچر، موسلات، روڈ کہنکٹیوٹی، ہیلتھ، ایجوکیشن اور دیگر سیکٹرز میں سرمایہ کاری کرنے کے لئ تیار ہوچکی ے۔

اگر آپ اخبارات میں اس خبر کے بارے میں پھڈ رہے ہو تو آپ کو ایک عام خبر نظر آئے گی۔ لیکن خبر اردو کی آج کی کور اسٹوری میں ہم آپ کو اس خبر کے پیچھے ایک بہت بڑی خبر کے بارے میں آگاہ کراینگے۔ دراصل
دفعہ 370 کی منسوخی کے بعد بھارت بینلاقواممی سطح پر کافی کوشش کر رہا تھا کہ اس کے اس فیصلے کو بیرونی ممالک تصلیم کرے۔ بھارت کا توجہ امریکہ، ہورپ اور خصوصاں اور ای سی کی طرف تھا جس کا ایک اہم ممبر پاکستان بھی ے۔ لیکن ابھی تک کوئی بڈی کامیابی ان کے ہاتھ نہیں آئی۔

پھچلے مہینے 15ستمبر کو بھارت نے پاکستان اور اور ای سی کو آڈھے ہاتھوں لیا اور کہا کہ آرگنائزیشن آف اسلامک کنٹریز اسلام آباد کے ہاتھوں ہایجک ہوچکی ے۔ بھارت کے پہلے پرمینینٹ سیکرٹری پون بھاڈے نے اقوام متحدہ کے ہیومن رائٹس کنونشن کے اجلاس میں کہا کہ بھارت کو پاکستان سے ہیومن رائٹس کے بارے میں کوئی سبق لینے کی ضرورت نہیں ے کیونکہ پاکستان ایک فیلڈ اسٹیٹ ے۔ انہوں نے مزید کہا تھا کہ او ای سی کو بھی چاہیے کہ وہ پاکستان کے بہکاوے میں نے آجائے جس نے اس آرگنائزیشن کو یرغمال بنا کے رکھا ے۔

اگر چہ بھارت سفارتی سطح پر ہر ممکن کوشش کرتا ے کہ جموں کشمیر کے اندر کانسٹٹوشنل چینچز کو بیرونی سطح پر پذیرائی مل جائے تو اس میں اب دبئی سے شروعات ہوچکی ے۔
عبدل باسط جو بھارت میں پاکستان کے سفیر رہ چکے ے نے اس بات کو اپنے ایک وی لاگ میں بتایا۔ ان کا کہنا ے کہ دبئی کا جموں کشمیر میں سرمایہ کاری کرنا ایک طرح سے بھارت کے 5 اگست 2019 کئے فیصلے کی ہمایت ے۔

مبصرین کا ماننا ے کہ اس کے بعد کشمیر پر پاکستان کی پوزیشن او ای سی میں مزید کمزور ہوسکتی ے۔ کیونکہ اس اسلامی تنظیم پر سودی عرب کا تصلط ے اور جو دبئی اور متحدہ عمارت کے کافی قریب ے۔ سودی عرب خود بھارت میں 100بیلین ڈالر کی سرمایہ کاری کر رہا ے جس کا اعلان سودی کراون پرنس نے 2019 میں بھارت کے دورے کے دوران کیا۔

تجزیہ کاروں کی یہ بھی راے ے کہ بھارت کی کوشش یہی رہے گی زیادہ تر مسلم ممالک جموں کشمیر میں سرمایہ کاری کا اعلان کرے جس سے سفارتی سطح پر 5 اگست 2019 کے فیصلے کی اسے پذیرائی ملے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں