اصل مقابلہ جموں کشمیر نیشنل کانفرنس اور بھاجپا کے درمیان ے

عاصم محی الدین

وزیر داخلہ امیت شاہ کا جموں کشمیر دورہ کل یعنی ۲۵ تاریخ کو مکمل ہوا اور وہ دلی کے لے روانہ ہوگے۔ اس دورے کو اگر زیادہ نزدیکی سے دیکھے تو یہ کشمیر میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کا جائزہ لینے کے لئے کیا گیا تھا۔ تاہم عام شہریوں کے تحفظ کے لے سیکورٹی سطح پر کس طرح کے اقدامات اٹھائے گئے اس کو پس پردہ ہی رکھا گیا۔ وہی دوسری جانب سیاسی سطح پر کس طرح کی سرگرمیاں رہی اس کا ہم نے آج جائزہ لے لیا۔

اس دورے کے ساتھ ہی ۳۷۰ کی منسوخی ایک بار پھر سے سیاسی ہواوں میں گردش کرنے لگا۔ جہا مقامی سیاسی جماعتوں نے کشمیر میں بڑھتی کشیدگی کے لے ۵ اگست ۲۰۱۹ کے فیصلے کو مورد الزام ٹھہرایا وہی دوسری جانب وزیر داخلہ نے اس فیصلے کے حق میں کھل کر بولا اور مقامی سیاسی جماعتوں کو عام لوگوں کا استحصال کرنے کا الزام لگایا۔ بی جے پی کے پاس نیا کھچ نہیں تھا اور پرانے الزامات کو ہی اس بار بھی دہرایا۔ اور اگر ہم سیاسی پس منظر میں کشمیر کے حالات دیکھے تو بی جے پی کو اس بار اپنے ۵ اگست ۲۰۱۹ والے فیصلے کا دفاع کرنا بہت ضروری تھا۔ اکلیتی فرقے کے لوگوں کو مارے جانے کے بعد بی جے پی پوری طرح سے بیک فٹ پے آچکی تھی اور مقامی سیاسی جماعتوں نے بھی بی جے پی کو ہر طرح سے کارنر کرنے کی کوشش کی۔

وزیر داخلہ امیت شاہ کا فیرن پہن کر کشمیری لوگوں کو سمبوجت کرنا اپنے آپ میں ایک پیغام ے۔ فرن جس کو پھچلے سال تک کشمیر میں ایک سیکورٹی تھریٹ کے طور پر لیا جاتا تھا اب وزیر اعظم نریندر مودی کے بعد امیت شاہ نے بھی پہن لیا۔ جموں کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا بھی اب اس فرن میں کشمیر کے ٹھنڈی ہواواں کے بھیچ گرمی محسوس کرنے لگے۔

آپکو پتا ہوگا پھچلے ہفتے جموں کشمیر نیشنل کانفرنس کو جموں میں ایک بہت بڑا دھچکا لگا جب ریوندر سنگھ رانا اور اسی ایس سلاٹھیا پارٹی سے استعفا دے کر بی جے پی میں شامل ہوگے جس کے بعد ۲۰ اور ممبران این سی سے مستعفی ہوگے۔

اس نقصان کے بعد ہی نیشنل کانفرنس نے اپنا نشانہ بی جے پی کو بنانا شروع کر دیا اور پارٹی کے سرپرست اعلی ڈاکٹر فاروق عبداللہ کھل کر بولنے لگے۔

آج کل وہ جموں کے دورے پر ے اور اپنے ورکرز کا حوصلہ رکھنے کے لے عوامی ریلیز کر رہے ے۔ عوامی ریلیز کے دوران فاروق عبداللہ اکثر دفعہ ۳۷۰ کے منسوخی کا مرکز کا فیصلہ غلط ثابت کرنے کی کوشش کررہے ے۔ وہی دوسری جانب وہ چاہتے ے کہ بھارت پاکستان کے ساتھ بات چیت شروع کرے۔ حالانکہ اس کا امیت شاہ نے دو ٹوک لفظوں میں جواب دے کر کہا کہ وہ صرف کشمیریوں کے ساتھ ہی بات کرینگے نہ کہ پاکستان۔

زمینی سطح پر دھیکے تو اس وقت سیاسی مقابلہ نیشنل کانفرنس اور بی جے پی کے درمیان ہی لگ رہا ے اور اس مقابلے کا میدان جموں ے۔
نیشنل کانفرنس اس بات سے مطمئن ے کہ بی جے پی کشمیر میں اس کا کھچ خاص بھگاڈ نہیں سکتی ے اور باجپا بھی آنے والے الیکشن میں سرکار میں شامل ہونے کے لے جموں کے سیاسی میدان میں ہی سبقت لینے کی امیت رکھتی ے۔
نیشنل کانفرنس کا جموں میں سوشل میڈیا سیل بھی کافی ایکٹیو ہوچکا ے۔اور آے دن عوامی ریلیز کے ویڈیوز اور تصاویر اپڈیٹ ہوتی رہتی ے۔
مبصرین کی مانے تو الیکشن سے پہلے ہی جموں کی سیاسی تصویر سامنے آے گی اور پتا چلے گا کہ اونٹ کس کروٹ بھہٹتا ے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں