وکرم سنگھ رنداوا کے بیان سے بھاجپا کو پریشانی کیو ہوسکتی ے

عاصم محی الدین/خبر اردو
وکرم سنگھ رنداوا بی جے پی کے سینئر لیڈر ے انکے خلاف پولیس اسٹیشن بہو فورٹ جموں میں پولیس نے ایف ای آر درج کر لی ے۔ یہ ایف ای آر اس وقت درج کرلی گی جب سماجی کارکن مظفر احمد شاہ نے پولیس کے پاس ان کے خلاف شکایت درج کرلی اور کہا کہ انہوں نے مسلم سماج سے لوگوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچای۔ وہی دوسری جانب جموں کشمیر بی جے پی نے بھی رندھاوا سے معافی طلب کی جو اس نے اب تک نہیں مانگی۔ اصل میں رندھاوا نے ایسا کیا کہا کہ جس سے مسلم سماج کے لوگ آگ بھگولا ہوگے اور بی جے پی کو اس کے خلاف کاروائی کرنی پڈی۔ آپ اس ویڈیو کلپ میں سن سکتے ے۔
اگر ہم تھوڑا سا ماضی میں جاے تو ہمیں پتا چلے گا یہ کوئی بی جے پی کا پہلا لیڈر نہیں ے جس نے اس طرح کے الفاظ مسلمانوں یا پھر کشمیریوں کے خلاف استعمال کے ہو۔
۲۰۱۷ میں پی ڈی پی بی جے پی کی سرکار کے دوران بی جے پی کے سینئر کیبنٹ منسٹر چندر پرکاش گنگا نے بھی کشمیر میں پھتر بازوں کے خلاف سخت الفاظ استعمال کے اور کہا کہ ان سب کو گولی مارنی چاہیے تاکہ پورے کشمیر میں کوئی بھی پھتر مارنے کی جرت نہ کرے۔ اس بیان کے بعد انہیں محبوبہ مفتی کی کیبنٹ سے استعفے دینا پڈا۔
۲۰۱۹ میں دفع ۳۷۰ ہٹھنے کے ٹھیک ۵ دن بعد ہریانہ کے وزیر اعلٰی منوہر لال کھتر نے بھی ایسا ہی ایک متنازعہ بیان دیا۔ ایک پروگرام کے دوران انہوں نے کہا کہ اب آرٹیکل ۳۷۰ کے ہٹھنے کے بعد شادی کے لے ہریانہ کے لڑکوں کے لے کشمیر کے دروازے بھی کھل گے ے۔ حالانکہ کنٹروورسیز کے بعد منوہر لال کھٹر نے اپنے اس بیان کے دفاع میں کافی سارے بیانات دیے۔
اب یہاں پر یہ سوال ے کہ اس بار بی جے پی کیو حرکت میں آئی اور اپنے سینئر لیڈر کے خلاف اس طرح کے بیان پر کاروائی کی۔
جیسا کہ میں نے آپ کو پہلے کھچ ویڈیوز میں سمجھانے کی کوشش کی ے اور آج میں مزید آپکو اس بارے میں سمجھانے کی کوشش کرتا ہو۔
اس میں کوئی شک نہیں ے کہ بی جے پی دھرم کے نام پر ٹھیک ٹھاک راجنیتی کرنے کی ماہر ے۔ بی جے پی جموں میں اس بات سے خوب واقف ے کہ آنے والے اسمبلی الیکشن میں انہیں جموں سے بھاری سبقت لینے کی ضرورت ے تاکہ یہ حکومت بنانے کے قابل ہوں۔ اس پروجیکٹ پر بی جے پی جی توڈ محنت کر رہی ے اور ان سارے لیڈران کو اپنی پارٹی میں شامل کرنے کی کوشش کررہی ے جن کا جموں خطے کے اقلیتی فرقے میں اثر رسوخ ہوں۔ جیسے حال ہی میں انہوں نے دیوندر سنگھ رانا اور ان کے کی ساتھیوں کو نیشنل کانفرنس سے نکال کر اپنی پارٹی میں شامل کیا۔
اب اگر اس کے اپنے نیتا اس طرح کی بیان بازی سے باز نہ رہے تو بی جی پی کا جموں کشمیر میں ہندو چیف منسٹر ہونا تو دور کی بات ے وہ تو کسی حکومت میں شامل بھی نہیں ہوسکتی ے۔ کیونکہ جموں کشمیر میں بی جے پی کی راج نیتی دیش کے باقی حصوں کی طرح نہیں چل سکتی ے۔اسی لیے ہندو پرایڈ کے بجائے بی جے پی جموں خطے میں ڈوگرا پرایڈ کا کارڈ کھیلنا چاہتی ے جس کے تحت بی جے پی سماج کے ہر طبقے کے لوگوں تک رسائی حاصل کرسکتی ے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں