دلی میں ایک بار پھر ’جے شری رام‘ کا نعرہ نہیں لگانے پر اقلیتی طبقہ کے ایک شخص کو نشانہ بنایا گیا۔ بری طرح سے زخمی مولانا مومن نے الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ ’’روہنی میں جمعرات کو تین لوگوں نے ’جے شری رام‘ کا نعرہ لگانے کے لیے کہا۔ میں نے جیسے ہی انکار کیا تو انھوں نے میرے اوپر کار چڑھانے کی کوشش کی اور قاتلانہ حملہ کیا۔‘‘ پولس نے اس سلسلے میں ایف آئی آر درج کر لی ہےاور مولانا کے دعووں کی جانچ کر رہی ہے۔
Delhi: Mohammad Momin who was injured after he was allegedly hit by a car in Rohini Sector 20 yesterday, says,"some people sitting inside the car asked me to say 'Jai shree ram' but I avoided them. They then verbally abused me&hit me with the car which has caused these injuries." pic.twitter.com/BN7zlzimJp
— ANI (@ANI) June 21, 2019
پولس کو دی گئی اپنی شکایت میں مولانا مومن نے کہا ہے کہ ’’جمعرات کو جب وہ مسجد سے نکل کر مدرسے کے پاس ٹہل رہے تھے تو ان کے پاس کار پر سوار کچھ نوجوان پہنچے۔ کار میں بیٹھے کچھ لوگوں نے انھیں ’جے شری رام‘ کا نعرہ لگانے کو کہا اور جب انھوں نے ایسا نہیں کیا تو انھیں کار سے ٹکر ماری گئی۔‘‘ حیرانی کی بات یہ ہے کہ پولس نے اس پورے معاملے کو ہلکے میں لیا ہے اور اسے محض حادثہ قرار دیتے ہوئے ایکسیڈنٹ کا معاملہ درج کیا ہے۔ اب دہلی پولس مولانا مومن کے الزامات کی جانچ میں مصروف ہو گئی ہے۔ پولس اس معاملے میں واقعہ کی جگہ پر موجود سی سی ٹی وی فوٹیج حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
واضح رہے کہ اس سے قبل بھی دہلی میں ’جے شری رام‘ کا نعرہ لگوانے کا دباؤ ایک ڈاکٹر پر بنایا گیا تھا۔ دراصل مہاراشٹر کے مشہور ڈاکٹر اور رائٹر ارون گڈرے راجدھانی دہلی کے مصروف ترین علاقہ کناٹ پلیس میں ٹہل رہے تھے جب نامعلوم افراد نے انھیں جبراً جے شری رام کا نعرہ لگانے کو کہا۔ واقعہ اسی سال 26 مئی کا ہے۔