کورونا کے ساتھ آسام پر سیلاب کا قہر، اب تک 59 اموات، 33 لاکھ افراد متاثر

ہندوستان کی شمال مشرقی ریاست آسام میں منگل کو 9 لوگوں کی اموات کے ساتھ ریاست میں سیلاب سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد بڑھ کر 59 ہو گئی۔ ریاست کے 33 میں سے 28 اضلاع بری طرح متاثر ہیں۔
خبراردو:-

آسام میں منگل کے روز سیلاب کی وجہ سے 5 اضلاع میں کم از کم 9 مزید لوگوں کی موت ہو گئی۔ ان ہلاکتوں کے بعد ریاست میں سیلاب سے مرنے والوں کی تعداد بڑھ کر 59 ہو گئی ہے۔ ریاست کے 33 میں سے 28 اضلاع بری طرح متاثر ہیں اور 33 لاکھ سے زائد لوگ مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔

آسام ریاستی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (ایس ڈی ایم اے) کے افسران نے کہا کہ گزشتہ چار ہفتوں میں وشوناتھ، تنسکیا، لکھیم پور، بونگائی گاؤں، کامروپ، گولا گھاٹ، شیو ساگر، موری گاؤں، دھبرو، نگاؤں، نلباری، بارپیٹا، دھیماجی، اُدل گڑی، گولپارا اور ڈبرو گڑھ ضلعوں میں سیلاب کی وجہ سے 59 لوگوں کی موت ہو گئی ہے، وہیں 22 مئی سے اب تک الگ الگ زمین دھنسنے کے واقعات میں 26 لوگ ہلاک ہوئے ہیں۔

افسران نے کہا کہ پیر کے روز دھبری اور موری گاوں میں دو لوگوں کی ڈوبنے سے موت ہو گئی، لیکن ان اموات کا سیلاب سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ افسران نے بتایا کہ ریاست کے 12 اضلاع میں برہمپترا سمیت آٹھ ندیوں میں پانی خطرے کے نشان سے اوپر بہہ رہا ہے۔ اے ایس ڈی ایم اے کے افسران نے رپورٹوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان اضلاع کے 3371 گاؤں کے 33 لاکھ لوگ متاثر ہیں اور 28 اضلاع کی 128495 ہیکٹیر زراعتی زمین بھی اس کی زد میں ہے۔

غور طلب ہے کہ آسام میں ان دنوں کورونا کا قہر اپنے عروج پر ہے۔ ہر دن کے ساتھ ریاست میں کورونا انفیکشن والے مریضوں کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے۔ ریاست میں اب تک کل 17807 لوگ کورونا پازیٹو پائے گئے ہیں۔ ریاست میں اب تک کورونا سے 46 لوگوں کی موت ہو چکی ہے۔ یہ نمبر روز بڑھتا جا رہا ہے۔ اس درمیان سیلاب نے الگ تباہی مچا رکھی ہے۔ سیلاب کی وجہ سے ریاست کے ایک بڑے حصہ میں کورونا سے بچاؤ کا عمل متاثر ہوا ہے اور بی جے پی حکومت بے بس نظر آ رہی ہے۔(قومی آواز)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں