بہار پر آسمانی آفت کا قہر، بجلی گرنے سے 17 افراد ہلاک، سیلاب سے 4 لاکھ کی آبادی متاثر

سیلاب کی وجہ سے بہار میں زبردست تباہی کا عالم ہے۔ سیلاب کے پانی نے 8 اضلاع کے تقریباً 4 لاکھ لوگوں کو متاثر کیا ہے۔ اس درمیان بڑے پیمانے پر راحتی کام بھی چلائے جا رہے ہیں۔
خبراردو:-

بہار کے کئی اضلاع میں سیلاب سے مچی تباہی کے درمیان آسمانی بجلی کا قہر بھی برپا ہے۔ ریاست کے الگ الگ چار اضلاع میں آسمانی بجلی گرنے سے 17 لوگوں کی موت ہو گئی ہے۔ مہلوکین میں بانکا کے 6، بہار شریف کے 4، جموئی کے 3، بودھ گیا کے 2 اور لکھی سرائے و نوادہ کے ایک ایک شخص شامل ہیں۔

وزیر اعلیٰ نتیش کمار نے ریاست میں آسمانی بجلی گرنے سے لوگوں کی ہوئی موت پر افسوس ظاہر کرتے ہوئے مہلوکین کے اہل خانہ کو فوری طور پر 4-4 لاکھ روپے معاوضہ کی رقم دینے کی ہدایت دی ہے۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ مصیبت کے اس وقت میں وہ متاثرہ خاندانوں کے ساتھ ہیں۔ ساتھ ہی نتیش کمار نے لوگوں سے اپیل کی ہے کہ “سبھی لوگ خراب موسم میں پورا احتیاط برتیں۔ خراب موسم ہونے پر آسمانی بجلی سے بچاؤ کے لیے ڈیزاسٹر مینجمنٹ محکمہ کے ذریعہ وقت وقت پر جاری کیے گئے مشوروں پر عمل کریں۔ خراب موسم میں گھروں میں رہیں اور محفوظ رہیں۔”

غور طلب ہے کہ اتوار کو بھی ریاست کے الگ الگ اضلاع میں آسمانی بجلی کی زد میں آنے سے 10 لوگوں کی موت ہو گئی تھی۔ ایک طرف جہاں ریاست میں آسمانی بجلی کا قہر برپا ہے، وہیں دوسری طرف سیلاب نے الگ زبردست تباہی مچا رکھی ہے۔ نیپال میں موسلادھار بارش کی وجہ سے والمیکی نگر میں گنڈک براج سے ریکارڈ 4.20 لاکھ کیوسیک اور ویرپور میں کوسی براج میں 3.20 لاکھ کیوسک پانی چھوڑا گیا ہے۔

پانی چھوڑے جانے سے شمالی اور مشرقی بہار کے گنڈک اور کوسی متاثرہ علاقوں کے ذیلی مقامات میں سیلاب کی حالت سنگین ہوتی جا رہی ہے۔ ڈیزاسٹر مینجمنٹ محکمہ نے بتایا کہ گنگا کو چھوڑ کر کئی ندیاں خطرے کے نشان کے اوپر بہہ رہی ہیں۔ سیلاب کے پانی نے 8 اضلاع کے تقریباً 4 لاکھ لوگوں کو متاثر کیا ہے۔(قومی آواز)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں