راہل گاندھی نے اپنے ٹوئٹ میں لکھا کہ ’’میں یہ ماننے کو تیار نہیں ہوں کہ شری رام کے بھکت ایسا کر سکتے ہیں۔ ایسا وحشی پن انسانیت سے کوسوں دور ہے اور سماج و مذہب دونوں کے لیے شرمناک ہے۔‘‘
غازی آباد میں کچھ شر پسند نوجوانوں کے ذریعہ عبدالصمد سیفی نامی بزرگ شخص کے ساتھ کیے گئے ظلم کو ایک طرف پولس مذہبی نفرت کی جگہ آپسی رنجش کا معاملہ بتا رہی ہے، لیکن عبدالصمد کا صاف طور پر کہنا ہے کہ انھیں مسلمان ہونے کی وجہ سے زد و کوب کیا گیا۔
انھوں نے اپنے بیان میں صاف طور پر کہا کہ ان سے جبراً ’جے شری رام‘ اور ’وندے ماترم‘ کا نعرہ لگوایا گیا اور چاقو سے داڑھی بھی کاٹ ڈالی گئی۔
اب اس معاملے میں کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی کا رد عمل سامنے آیا ہے۔ انھوں نے عبدالصمد کی پٹائی کرنے والوں اور ان سے ’جے شری رام‘ کا نعرہ لگوانے والوں کے بارے میں کہا ہے کہ وہ کبھی بھی ’رام بھکت‘ نہیں ہو سکتے۔
मैं ये मानने को तैयार नहीं हूँ कि श्रीराम के सच्चे भक्त ऐसा कर सकते हैं।
ऐसी क्रूरता मानवता से कोसों दूर है और समाज व धर्म दोनों के लिए शर्मनाक है। pic.twitter.com/wHzMUDSknG
— Rahul Gandhi (@RahulGandhi) June 15, 2021
دراصل راہل گاندھی نے ’نوبھارت ٹائمز ڈاٹ کام‘ کی ایک خبر کا اسکرین شاٹ اپنے ٹوئٹر ہینڈل پر پوسٹ کیا ہے جس کا عنوان ہے ’جے شری رام نہ کہنے پر بزرگ کی پٹائی، کنپٹی پر بندوق رکھ کر کاٹی داڑھی، غازی آباد پولس نے دو کو کیا گرفتار‘۔ اس اسکرین شاٹ کو شیئر کرنے کے ساتھ ہی راہل گاندھی نے لکھا ہے ’’میں یہ ماننے کو تیار نہیں ہوں کہ شری رام کے بھکت ایسا کر سکتے ہیں۔
ایسا وحشی پن انسانیت سے کوسوں دور ہے اور سماج و مذہب دونوں کے لیے شرمناک ہے۔‘‘








