اتر پردیش میں یوگی راج کے خاتمہ سے ہی جمہوریت کا دفاع ممکن: آل انڈیا مسلم مجلس

مسلم مجلس کے قومی صدر پروفیسر ڈاکٹر بصیر احمد خاں نے کہا ہے کہ آل انڈیا مسلم مجلس نے فیصلہ کیا ہے کہ آنے الے یوپی اسمبلی الیکشن میں وہ بڑی پارٹیوں کے ساتھ سمجھوتہ کرکے حصہ لے گی یہ اطلاع انہوں نے آج یہاں جاری ریلیز میں دی ہے، بصیر احمد خاں جو اندرا گاندھی نیشنل اوپن یونیورسٹی کے سابق پرووائس چانسلر اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی طلبا یونین کے سابق صدر رہ چکے ہیں، نے ایک بیان میں کہا کہ یوپی میں بی جے پی کو شکست دینے کے لیے اپوزیشن کا اکٹھا ہونا ضروری ہے۔ مختلف محاذ بنا کر یا اکیلے لڑکر اسے ہرانا مشکل ہوگا بلکہ اس سے بی جے پی کو فائدہ ہوگا۔ انہوں نے وضاحت کی کہ مسلم مجلس چھوٹی چھوٹی پارٹیوں کے کسی بھی محاذ میں شامل نہیں ہے اور نہ ہی ہم ایسے کسی بھی کارواں کے ساتھ ہیں۔

بصیر احمد خان نے کہا کہ بی جے پی کو چونکہ ہار کا ڈر ستا رہا ہے لہذا وہ اپنے مخالف ووٹوں کی تقسیم کرانے کی پالیسی پر کام کر رہی ہے۔ لہذا نادان دوستوں اور ہمیں دوست نما دشمنوں کو پہچاننا ہوگا۔ بی جے پی کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے عوام بیروزگاری، مہنگائی، بد انتظامی اور لاقانونیت کی مار جھیل رہے ہیں، گنگا کے کنارے کورونا سے مرنے والوں کی لاشیں نکلنے کا سلسلہ ابھی تک جاری ہے۔ کسان مہینوں سے دھرنے دے رہے ہیں لیکن سرکار گونگی بہری ہوگئی ہے۔ سیاست دانوں، میڈیا، دانشوروں اور ججوں تک کی جاسوسی کرائی جا رہی ہے۔ بے قصور لوگوں کو گرفتار کیا جا رہا ہے، جائیدادیں ضبط کی جا رہی ہیں، انکاؤنٹر کی دھمکی دی جا رہی ہے لہذا ملک میں جمہوریت کو بچانے اور قانون کا راج قائم کرنے کے لئے اور عوام کو بیروزگاری اور مہنگائی سے چھٹکارا دلانے کے لئے یوپی کو یوگی مُکت کرنا ضرورہی ہے۔

بصیر احمد خان نے مزید کہا کہ مسلم مجلس یوپی کی بیس اسمبلی سیٹوں پر الیکشن لڑے گی اور اپنے بانی ڈاکٹر فریدی مرحوم کی پالیسی پر عمل کرتے ہوئے جمہوریت نواز، کسان اور نوجوان حامی پارٹیوں سے انتخابی سمجھوتہ کرے گی۔ ماضی میں مسلم مجلس کے وزیر یوپی اور مرکز کی مخلوط حکومتوں میں شامل رہ چکے ہیں۔ لہٰذا مسلم مجلس اسی پالیسی پر عمل کر رہی ہے۔ آخری فیصلہ ہمارا پارلیمنٹری بورڈ کرے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں