ارلیمنٹ میں حزب اختلاف کے ہنگامہ کے دوران پیگاسس جاسوسی معاملہ پر سپریم کورٹ میں آج سماعت

نئی دہلی: پیگاسس جاسوسی معاملہ پر آج سپریم کورٹ میں سماعت ہوگی۔ چیف جسٹس این وی رمنا اور جسٹس سوریہ کانت کی بنچ اس معاملے کی سماعت کرے گی۔ سپریم کورٹ میں اس معاملہ پر سینئر صحافیوں این رام اور ششی کمار، سی پی ایم کے راجیہ سبھا کے رکن جان بریٹاس اور وکیل ایم ایل شرما کی جانب سے عرضیاں دائر کی گئی ہیں۔ خیال رہے کہ پیگاسس معاملہ کی تحقیقات کے حوالے سے حزب اختلاف پارلیمنٹ میں روزانہ ہنگامہ آرائی کر رہی ہے۔

سپریم کورٹ میں داخل کی گئیں عرضیوں میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ حکومتی اداروں کی جانب سے مخصوص شہریوں، سیاستدانوں اور صحافیوں کی اسرائیلی اسپائی ویئر پیگاسس کے ذریعے مبینہ جاسوسی کی رپورٹوں کی تحقیقات کی ہدایت جاری کی جائے۔ صحافیوں کی جانب سے پیش ہونے والے سینئر ایڈوکیٹ کپل سبل نے عدالت کو بتایا تھا کہ عرضی کے وسیع تر اثرات کے پیش نظر اس پر فوری سماعت کئے جانے کی ضرورت ہے۔ عرضی میں کہا گیا ہے کہ مبینہ جاسوسی ہندوستان میں صدائے احتجاج کو دبانے اور اس کی حوصلہ شکنی کی ایجنسیوں اور تنظیموں کی کوششوں کی ایک مثال ہے۔

عرضی میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر حکومت یا اس کی کسی ایجنسی نے پیگاسس سپائی ویئر کو لائسنس دیا ہے، اسے براہ راست یا بالواسطہ طور پر استعمال کیا ہے اور اگر کوئی نگرانی کی گئی ہے تو مرکز کو ہدایت دی جائے کہ وہ اسے ظاہر کرے۔ یہ مسئلہ شہریوں اور اپوزیشن لیڈروں، صحافیوں اور یہاں تک کہ عدالتی اہلکاروں کی آزادی کو متاثر کرنے والا ہے۔

خیال رہے کہ ایک بین الاقوامی میڈیا ایسوسی ایشن نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ 300 سے زیادہ تصدیق شدہ ہندوستانی موبائل فون نمبر اسرائیل کے پیگاسس سپائی ویئر کے ذریعے نگرانی کے ممکنہ اہداف کی فہرست میں شامل کئے گئے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں