یوگی حکومت نے ڈاکٹر کفیل خان کے خلاف دوبارہ جانچ کا فیصلہ واپس لیا

اتر پردیش کی یوگی حکومت نے ڈاکٹر کفیل خان معاملہ کی دوبارہ تحقیقات کے تعلق سے الٰہ آباد ہائی کورٹ کے ذریعہ گزشتہ دنوں جاری نوٹس کا تحریری جواب داخل کرتے ہوئے بتایا ہے کہ ڈاکٹر کفیل کے خلاف آکسیجن ٹریجڈی معاملہ میں 24 فروری 2020 کو دوبارہ شروع کی گئی جانچ کو واپس لے لیا گیا ہے۔ ساتھ ہی حکومت نے گزشتہ جانچ کے ریزلٹ کو ماننے کی بھی بات کہی ہے جس میں ڈاکٹر کفیل خان کو پوری طرح سے بے قصور بتایا گیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں : ’کانسہ‘ کی جنگ میں بجرنگ پونیا نے ماری بازی، ہندوستان کی جھولی میں آیا چھٹا تمغہ
اتر پردیش حکومت نے الٰہ آباد ہائی کورٹ کے نوٹس کے جواب میں 6 اگست کو اپنے وکیل کے ذریعہ سے جواب داخل کر بتایا کہ اس نے ڈاکٹر کفیل خان کے خلاف 24 فروری 2020 کو شروع کی گئی از سر نو جانچ کو واپس لینے کا فیصلہ کیا ہے۔ ساتھ ہی حکومت نے کہا کہ بی آر ڈی کالج میں ہوئی آکسیجن ٹریجڈی کے جانچ افسر چیف سکریٹری ہمانشو کمار نے 15 اپریل 2019 کو جو جانچ رپورٹ دیا تھا، حکومت نے اس کو ہی قبول کر لیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں : ٹوکیو اولمپکس: نیرج چوپڑا نے ہندوستان کی جھولی میں ڈالا ’گولڈ‘، مبارکبادیوں کا سلسلہ شروع

قابل ذکر ہے کہ اپنی جانچ رپورٹ میں چیف سکریٹری ہمانشو کمار نے ڈاکٹر کفیل خان کو پوری طرح سے بے قصور بتاتے ہوئے کہا تھا کہ وہ اسپتال کے سب سے جونیئر ڈاکٹر تھے۔ جانچ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا تھا کہ بی آر ڈی میڈیکل کالج میں پروبیشن پر 8 اگست 2016 کو ان کی تقرری ہوئی تھی۔ واقعہ کے دن 10 اگست 2017 کو چھٹی پر ہونے کے باوجود وہ بچوں کی جان بچانے کے لیے بی آر ڈی میڈیکل کالج گورکھپور پہنچے اور اپنی ٹیم کے ساتھ ان 54 گھنٹوں میں 500 سلنڈروں کا انتظام کرنے میں کامیاب رہے۔ ڈاکٹر کفیل خان نے اس خوفناک رات کو 26 لوگوں کو فون کیا تھا۔

تحقیقاتی افسر نے کہا کہ پوچھ تاچھ کے دوران یہ بھی پتہ چلا ہے کہ ڈاکٹر کفیل خان نے اپنی پوری صلاحیت سے ہر ممکن کوشش کی تھی جس میں بی آر ڈی میڈیکل کالج کے سبھی افسران کے ساتھ کیے گئے فون کال بھی شامل تھے۔ ڈاکٹر کفیل کے بدعنوانی میں ملوث ہونے کا کوئی ثبوت نہیں ہے۔ وہ آکسیجن فراہمی کی ادائیگی/حکم/ٹنڈر/رکھ رکھاؤ کے لیے ذمہ دار نہیں تھے۔ وہ انسفلائٹس وارڈ کے چیف بھی نہیں تھے۔ اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ہے کہ وہ 8 اگست 2016 کے بعد پرائیویٹ پریکٹس کر رہے تھے۔ ان پر علاج میں لاپروائی اور بدعنوانی کے الزامات بے بنیاد اور غلط تھے۔

واضح رہے کہ چیف سکریٹری ہمانشو کمار کے ذریعہ 15 اپریل 2019 کو جانچ رپورٹ دینے کے باوجود ریاستی حکومت نے 11 مہینے تک کوئی کارروائی نہیں کی اور 24 فروری 2020 کو ڈاکٹر کفیل خان کے خلاف پھر سے جانچ کا حکم دے دیا۔ حکومت کے اس فیصلے کے خلاف ڈاکٹر کفیل خان نے الٰہ آباد ہائی کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا تھا جس پر عدالت نے یو پی حکومت کو نوٹس جاری کر یہ بتانے کے لیے کہا تھا کہ ڈاکٹر کفیل خان کو چار سال سے زیادہ مدت سے معطل کیوں رکھا گیا ہے، جب کہ بی آر ڈی کالج آکسیجن ٹریجڈی کے بعد معطل کیے گئے ڈاکٹر راجیو مشرا سابق پرنسپل، ڈاکٹر ستیش آکسیجن انچارج اور دیگر کلرک کو بحال کر دیا گیا تھا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں