حراستی تشدد اورپولیس مظالم معاشرے میں غالب: چیف جسٹس رمنا

چیف جسٹس آف انڈیا این وی رمنا نے اتوار کو ملک میں حراستی تشدد اور پولیس مظالم کے بڑھتے ہوئے معاملات پر اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آئینی تحفظ اور ضمانتوں کے باوجود انسانی حقوق اور جسمانی وجود کےلئے خطرہ سب سے زیادہ ہے۔ جیف جسٹس نے نیشنل لیگل سروسز اتھارٹی کے زیر اہتمام ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا: “تھانے میں انسانی حقوق اور جسمانی سالمیت کے لیے خطرہ سب سے زیادہ ہے، حراستی تشدد اور پولیس کے دیگر مظالم وہ مسائل ہیں جو اب بھی ہمارے معاشرے میں موجود ہیں“۔ انہوں نے مزید کہا آئینی اعلانات اور ضمانتوں کے باوجود پولیس سٹیشنوں میں موثر قانونی نمائندگی کا فقدان گرفتار یا حراست میں لئے گئے شخص کے لئے بہت بڑا نقصان ہے۔انہوں نے کہا کہ پولیس کی زیادتیوں کو روکنے کے لیے ، قانونی امداد کے آئینی حق اور مفت قانونی امداد کی خدمات کی دستیابی کے بارے میں معلومات کی اشاعت ضروری ہے۔ ہر تھانے یا جیل میں بورڈ آویزان کرنے اور باہر بھی اسی طرح کی ہورڈنگز کی تنصیب اس سمت میں ایک قدم ہے۔رمنا نے اس موقع پر لیگل ایڈ سروسز ایپ کی نقاب کشائی کی اور کہا ، “لیگل ایڈ سروسز ایپ ، جس کی آج رونمائی کی جارہی ہے ، قانونی خدمات اور اداروں کی پوری قانونی افرادی قوت کے موبائل فونز میں لازمی طور پر انسٹال ہوگی۔ اس سے وہ ملک میں کسی بھی جگہ سے چند سیکنڈ میں قانونی امداد کی درخواست جمع کر سکیں گے۔COVID وبائی مرض کے باوجود ، ہم اپنی قانونی امداد کی خدمات کو کامیابی سے جاری رکھنے میں کامیاب رہے ہیں۔ اس طرح ٹیکنالوجی ٹولز کے تعارف نے اس بات کو یقینی بنایا ہے کہ مستقبل میں آنے والے ایسے چیلنجز قانونی امداد کے اداروں کے کام میں رکاوٹ نہیں بنیں گے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں