علی گڑھ کا نام تبدیل کرنے کی قرارداد پر حزب اختلاف کا سخت ردعمل، کانگریس نے پولیرائزیشن کی کوشش قرار دیا

آس محمد کیف
علی گڑھ: علم کی سرزمین اور تاریخی شہر علی گڑھ کا نام تبدیل کرنے کی ضلع پنچایت کی جانب سے منظور کی گئی قرارداد سے شہر کے ذی شعور افراد بے چین نظر آ رہے ہیں۔ کانگریس سمیت حزب اختلاف کی تمام جماعتوں نے اس اقدام کو انتخابات سے قبل تقسیم کاری کی کوشش قرار دیا ہے۔ خیال رہے کہ ایک روز قبل علی گڑھ ضلع پنچایت کی جانب سے علی گڑھ کا نام ہری گڑھ کرنے کی قرارداد منظور کی گئی ہے اور اب اسے ریاست کی یوگی حکومت کے پاس حتمی فیصلہ کے لئے بھیجا ہے۔ علی گڑھ کے علاوہ مین پوری میں بھی ضلع پنچایت کی جابب سے بھی مین پوری کا نام تبدی کرنے کی قرارداد منظور کی گئی ہے۔

علی گڑھ سے تعلق رکھنے والے سابق ایم ایل سی اور کانگریس کے ہریانہ انچارج وویک بنسل نے علی گڑھ کا نام بدل کر ہری گرھ کرنے کی قرارداد پر تنقید کرتے ہوئے اس فیصلہ کو انتہائی نامناسب قرار دیا ہے۔ قومی آواز سے بات چیت کے دوران انہوں نے کہا کہ علی گرھ کی ایک خاص ثقافتی اور تاریخی اہمیت ہے۔ یہ ضلع فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور بھائی چارگی کی مثال پیش کرتا رہا ہے، لہذا اس کا نام تبدیل کرنے کی کوئی تک نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ شہر کا نام تبدیل کرنے سے عوام کے مسائل کا ازالہ نہیں ہونے والا۔

وویک بنسل نے کہا کہ حکومت کو شہریوں کی زندگی بہتر بنانے پر توجہ دینی چاہیئے لیکن انہیں دکھ ہے کہ یوپی حکومت ایسی منفی سیاست کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ شہروں کے نام تبدیل کرنے سے ایک غلط رائے قائم ہوگی اور یہ بالکل خوش آئند اقدام نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ سیاسی فائدہ اٹھانے کے لئے لیا گیا اور وہ اپنی پوری قوت کے ساتھ اس کی مخالفت کریں گے۔

سماج وادی پارٹی کے یوتھ ونگ کے قومی صدر محمد فہد نے بھی بی جے پی حکومت والی ضلع پنچایتوں کی نام تبدیل کرنے کی قراردادوں پر تنقید کی ہے۔ فہد نے کہا کہ اپنی ناکامی کو چھپانے کے لیے بی جے پی ان مسائل کو اٹھا رہی ہے جن کے فرقہ وارانہ مضمرات ہیں۔ نام تبدیل کر کے وہ دو فرقوں کے درمیان فاصلہ پیدا کرنا چاہتی ہے، جبکہ علی اور ہری میں کوئی فرق نہیں ہے۔

علی گڑھ مسلم یونیورسٹی طلبا یونین کے سابق صدر سلمان امتیاز نے نام تبدیل کرنے کی قرارداد کو مایوس کن قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ انہیں حالیہ دنوں میں بارش کے پانی کی وجہ سے علی گڑھ کی کیا حالت ہوئی تھی وہ یاد آ رہی ہے۔ شہر کا نام تبدیل کرنے کے بجائے اس میں رہنے والے لوگوں کی پریشانیوں کو دو کیا جانا زیادہ ضروری ہے۔ ایک طرف مہنگائی اور بے روزگاری نے کمر توڑ دی ہے اور اس کے بعد یہ فرقہ وارانہ سازش یقینی طور پر علاقہ کو پیچھے لے جائے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں