کسانوں کی دس ماہ کی ایجی ٹیشن رنگ لائی

سرینگر:کسانوں کی ایجی ٹیشن کے دس ماہ بعد مرکزی سرکار نے متنازعہ قوانین کو واپس لینے کا فیصلہ کیا ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے تینوں متنازعہ زرعی قوانین کو منسوخ کرنے کا اعلان کیا اور کم از کم امدادی قیمت اور زیرو بجٹ فارمنگ کی سفارش کرنے کے لیے ایک کثیر جہتی کمیٹی کے قیام کا بھی اعلان کیا۔ادھر کانگریس کے راہل گاندھی اور پرینکا گاندھی نے کسانوں کو مبارکباد دی ہے۔

اس دوران دیگر مختلف سیاسی جماعتوں اور لیڈران نے کسانوں کومبارکباد دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ کسانوں کی جانب سے چلائی جارہی پُرامن تحریک کی جیت ہے کرنٹ نیو زآف انڈیا کے مطابق وزیر اعظم نریندر مودی نے جمعہ کو تینوں متنازعہ زرعی قوانین کو منسوخ کرنے کا اعلان کیا اور کم از کم امدادی قیمت (ایم ایس پی) اور زیرو بجٹ فارمنگ کی سفارش کرنے کے لیے ایک کثیر جہتی کمیٹی کے قیام کا بھی اعلان کیا۔

وزیر اعظم مودی نے دیو دیوالی اور گرو نانک دیو جی کے پرکاش پرو کے موقع پر قوم سے خطاب کرتے ہوئے آج یہاں کہا کہ وہ نیک نیتی کے ساتھ کسانوں کی فلاح و بہبود کے لیے یہ تینوں زرعی قوانین لائے تھے۔ کافی عرصے سے اس کا مطالبہ کیا جا رہا تھا۔ انہوں نے کہا کہ کچھ کسان بھلے ہی تعداد کم ہو، انہوں نے اس کی مخالفت کی۔ غالباً یہ ہمارے عزم کی کمی تھی کہ ہم انہیں ان تینوں قوانین کے بارے میں سمجھا نہ کر سکے۔وزیر اعظم مودی نے کہا کہ ان تینوں قوانین کو منسوخ کرنے کا عمل پارلیمنٹ کے اسی اجلاس میں کیا جائے گا۔

پارلیمنٹ کا اجلاس 29 نومبر سے شروع ہو رہا ہے۔ انہوں نے کسانوں سے اپیل کی کہ وہ احتجاج چھوڑ کر اپنے اپنے گھروں کو واپس چلے جائیں۔وزیر اعظم نے کہا کہ ایم ایس پی پر انتخاب کے لیے کمیٹی میں مرکزی حکومت کے نمائندوں کے علاوہ ریاستی حکومتوں، کسان تنظیموں، زرعی ماہرین اور زرعی ماہرین اقتصادیات رکھے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ میں کسانوں اور دیہی لوگوں کے لیے پہلے سے زیادہ محنت کرتا رہوں گا۔واضح رہے کہ کسانوں کی کئی تنظیموں نے دہلی کی سرحدوں پر مورچے بنارکھے ہیں اور ان کے احتجاج کو تقریباً ایک سال ہونے والا ہے۔

ادھر وزیر اعلیٰ پنجاب چرنجیت سنگھ چنی نے زرعی قوانین کی واپسی کے مرکزی حکومت کے فیصلہ کو تاخیر سے لیا گیا مگر خوش آئند فیصلہ قرار دیا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ احتجاج کے دوران ریاست اور کسانوں کو ہونے والے جانی و مالی نقصان کا بھی ازالہ کیا جائے۔دریں اثناء کسان لیڈر راکیش ٹکیت نے کہا، ”تحریک ختم نہیں ہو رہی۔

آپ سے یہ کس نے کہا کہ تحریک ختم ہو رہی ہے؟ یہ جاری رہے گی، سنیوکت کسان مورچہ کی 9 ممبران پر مشتمل ایک کمیٹی آج میٹنگ کرنے جا رہی ہے۔ ہم قانونی پہلوؤں پر غور کریں گے اور جو بھی فیصلہ ہوگا پریس کانفرنس کے ذریعے اس کی اطلاع دی جائے گی۔“ٹکیت نے مزید کہا کہ حکومت نے ابھی قوانین واپس لینے کا صرف اعلان کیا ہے، اس کے لئے انہیں پارلیمنٹ میں جانا ہوگا۔ اب ایم ایس پی کے حوالہ سے قانون سازی بھی ایک مسئلہ ہے۔

کمیٹی حکومت سے تمام مسائل پر بات چیت کرے گی۔سنیوکت کسان موچہ کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا، ”ہم تین کسان مخالف قوانین کو واپس لینے پر وزیر اعظم مودی کا استقبال کرتے ہیں۔ پارلیمانی کارروائی کے ذریعے اس اعلان کو عملی جامہ پہنانے تک ہم انتظار کریں گے۔ اگر یہ ہوتا ہے تو یہ ایک سال سے جدوجہد کر رہے کسانوں کے لئے بڑی فتح ہوگی۔“اس دوران وزیر اعظم نریندر مودی نے بھلے ہی تینوں زرعی قوانین کی واپسی کا اعلان کر دیا ہے لیکن کسان اپنی تحریک کو جلدبازی میں واپس لینے کے موڈ میں نہیں ہے۔

کسان لیڈر راکیش ٹکیت نے ٹوئٹ کیا، ”تحریک فوری واپس نہیں ہوگی، ہم اس دن کا انتظار کریں گے جب زرعی قوانین کو پارلیمنٹ کے ذریعے منسوخ کیاجائے گا۔ حکومت ایم ایس پی کے ساتھ ساتھ دوسرے مسائل پر بھی بات چیت کرے۔“زرعی قوانین کی واپسی پر غازی پور بارڈر پر جشن منایا جا رہا ہے۔ تین قوانین کی خوشی میں یہاں لوگوں میں جلیبی تقسیم کی جا رہی ہے۔دریں اثناء کانگریس لیڈر ملکارجن کھڑگے نے زرعی قوانین کی واپسی کو کسانوں کی جیت قرار دیا اور کہا کہ یہ ان کسانوں کی جیت ہے جو کافی دنوں سے زرعی قوانین کے خلاف سراپا احتجاج بنے ہوئے تھے، 700 سے زیادہ کسانوں کی موت ہو گئی۔

یوں محسوس ہوتا ہے کہ مرکز احساس جرم کا شکار ہے۔ لیکن اس دوران کسانوں کو جن مشکلات کا سامنا رہا اس کی ذمہ داری کون لے گا؟ ہم ان مسائل کو پارلیمنٹ میں اٹھائیں گے۔اس دوران وزیر اعظم نریندر مودی کی جانب سے تینوں زرعی قوانین کی واپسی کے بعد کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی نے رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ کسانوں نے اپنے عزم سے تکبر کا سر جھکا دیا ہے۔ راہل گاندھی نے ٹوئٹر پر لکھا، ”ملک کے انداتا نے ستیہ گرہ سے تکبر کا سر جھکا دیا۔

ناانصافی کے خلاف یہ جیت مبارک ہو! جے ہند، جے ہند کا کسان!“راہل گاندھی نے اپنے ٹوئٹ کے ساتھ اپنی ایک پرانی ویڈیو بھی شیئر کی ہے جس میں وہ کسانوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہہ رہے ہیں کہ میری یہ بات یاد رکھنا کہ حکومت کو ایک دن زرعی قوانین کو واپس لینے پر مجبور ہونا پڑے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں