نظام الدین درگاہ پر عبادت کرنے پہنچے پاکستانی زائرین

سرینگر:نظام الدین درگاہ پر حاضری دینے کیلئے آئے ہوئے پاکستانی شہروں نے ہندوستان اور پاکستان کی قیادت پر زور دیا ہے کہ وہ آپسی تعلقات بہتر بنانے کیلئے مذاکراتی عمل پھر شروع کریں اور جو بھی تصفیہ طلب معاملات ہے ان کو آپسی مشاورت سے حل کریں تاکہ دونوں ممالک کے کروڑوں لوگوں کو راحت ملے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے مابین خلیج سے عام لوگوں کو پریشانی ہوتی ہے۔

کرنٹ نیو زآف انڈیا کے مطابق پاکستان کے 60 عقیدت مندوں نے راجدھانی دہلی کی مشہور حضرت نظام الدین درگاہ پر زیارت کی۔ واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے کرتارپور گلیارے کو دوبارہ کھولنے کے اعلان کے ساتھ ہی ہندوستان نے پاکستان کے عقیدت مندوں کو ہندوستان آنے کی اجازت دی تھی۔ کورونا بحران کے دوران ہندوستان پاک کے درمیان عقیدتمندوں کے آنے جانے پر پابندی تھی۔

حالانکہ اب 1974 کے دو طرفہ معاہدے کے تحت عقیدت مندوں کی آمدورفت پھر شروع ہوگئی ہے۔ حضرت نظام الدین اولیا کے 718 ویں عرس کے موقع پر پاکستانی عقیدت مند 18 نومبر سے 25 نومبر تک ہندوستان دورے پر ہیں۔درگاہ حضرت نظام الدین پر زیارت کرنے آئے محمد ارشد نے کہا کہ وہ لاہور سے پہلی بار ہندوستان آئے ہیں، انہیں ہندوستان آکر بہت اچھا لگا اور سفر کے دوران انہیں کوئی پریشانی نہیں ہوئی۔ ایک دیگر عقیدت مند نے کہا کہ انہیں ہندوستان میں بہت پیار ملا۔

انہوں نے کہا کہ ان کی بچپن کی خواہش تھی کہ وہ نظام الدین درگاہ آکر حاضری دیں، جو اب پوری ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے دعا کی کہ دونوں ممالک کے د رمیان کشیدگی کم ہو، رشتے اچھے ہوں اور عقیدتمندوں کا آنا جانا برقرار رہے۔ انہوں نے کہا کہ ویزا پالیسی آسان ہونی چاہئے، تاکہ عقیدتمند آسانی سے سفرکرسکیں۔پاکستانی عقیدتمندوں کے ساتھ درگاہ پر آئے پاکستان کے کارگزار ڈپٹی ہائی کمشنر آفتاب حسن نے کہا کہ عرس کے موقع پر پاکستان سے 60 عقیدتمند آئے ہیں، کووڈ کے سبب کچھ وقت کے لئے آمدورفت بند رہی، لیکن اب دوبارہ شروعات ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ 1974 کے پروٹوکول کے تحت عقیدتمند آ جا رہے تھے۔

آفتاب حسن نے کہا کہ امید ہے کہ عقیدتمندوں کا آنا جانا آگے بھی جاری رہے گا اور یہ ہندوستان-پاکستان دوطرفہ تعلقات کے لئے خوش آئند اشارے ہیں۔ہندوستان-پاکستان کے درمیان جاری کشیدگی کے باوجود ایک بار پھر مذہبی ڈپلومیسی مضبوط ہو رہی ہے۔ گزشتہ ہفتے مودی حکومت نے ہندوستان اور پاکستان کے درمیان کرتار پور گلیارے کو ایک بار پھر سے عقیدت مندوں کے لئے کھول دیا گیا ہے۔ گرو پرب کے موقع پر سکھ عقیدتمندوں کے جذبات کو مد نظر رکھتے ہوئے یہ فیصلہ لیا گیا تھا۔

ساتھ ہی واگھہ – اٹاری سرحد سے تقریباً ڈھائی ہزار سکھ عقیدتمندوں کا جتھہ پاکستانی دورے پر گیا ہوا ہے۔ واضح رہے کہ 1974 کے معاہدے کے سبب ہندوستان اور پاکستان کے عقیدتمند ایک دوسرے ملک جاکر مذہبی مقامات کا دورہ کرسکتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں