ایوان بالا میں جنرل راوت اور فوج کے جوانوں کو خراج عقیدت

نئی دہلی، (یو این آئی) ایوان بالا راجیہ سبھا میں جمعرات کو ملک کے اولین چیف آف اسٹاف آنجہانی جنرل بپن راوت اور ان کی اہلیہ مدھولیکا راوت اور گیارہ دیگر فوجیوں کو خراج عقیدت پیش کیا گیا ایوان کی کارروائی شروع ہوتے ہی ڈپٹی چیئرمین ہری ونش نے کل ہیلی کاپٹر حادثے میں جنرل راوت کی موت کے بارے میں جانکاری دی اور کہا کہ ان کی موت سے ملک نے ایک بہت ہی بہادر جنگجو کو کھو دیا ہے انہیں سال 2016 میں چیف آف اسٹاف اور 2019 میں چیف آف ڈیفنس بنایا گیا۔
مسٹر ہری ونش نے کہا کہ جنرل راوت نے تقریباً چار دہائیوں تک فوج میں مختلف عہدوں پر خدمات انجام دیں۔ انہوں نے کانگو میں اقوام متحدہ کی امن فوج میں بھی خدمات انجام دیں۔
وہ 11 مارچ 1958 کو گڑھوال، اتراکھنڈ میں ایک فوجی گھرانے میں پیدا ہوئے۔ کل تمل ناڈو کے نیل گری میں ایک ہیلی کاپٹر حادثے میں ان کی موت ہوگئی۔ بعد ازاں اراکین نے مرحوم کے اعزاز میں دو منٹ کی خاموشی اختیار کی اور انہیں خراج عقیدت پیش کیا۔

اس کے بعد قائد حزب اختلاف ملکارجن کھڑگے نے حادثے کو بڑا واقعہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ تمام سیاسی جماعتوں کے قائدین کو خراج عقیدت پیش کرنے کا موقع دیا جانا چاہئے۔ کانگریس کے آنند شرما نے کہا کہ یہ قومی سوگ کا معاملہ ہے اور قائدین کے جذبات ان سے جڑے ہوئے ہیں۔ ترنمول کانگریس کے ندیم الحق نے کہا کہ ان کی پارٹی کے ارکان ایوان سے واک آؤٹ کرتے ہیں کیونکہ انہیں اس معاملے پر اپنے جذبات کا اظہار کرنے کی اجازت نہیں دی جارہی ہے۔ مسٹر ہری ونش نے کہا کہ ایوان کی جانب سے اجتماعی تعزیت کا اظہار کیا گیا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں