گیانواپی مسجد سروے: سپریم کورٹ نے وارانسی ڈسٹرکٹ کورٹ کے حکم پر 26 جولائی تک روک لگائی

نئی دہلی، سپریم کورٹ نے گیانواپی مسجد کمپلیکس کا آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا (اے ایس آئی) سروے کرانے کے وارانسی ضلع عدالت کے حکم پر پیر کو 26 جولائی تک روک لگا دی 21 جولائی 2023 کو ضلعی عدالت کے حکم پر اے ایس آئی کی 30 رکنی ٹیم نے پیر کی صبح سے سروے کا کام شروع کردیا تھا چیف جسٹس ڈی وائی چندر چوڑ، جسٹس جے بی پارڈی والا اور جسٹس منوج مشرا کی بنچ نے یہ حکم سینئر وکیل حذیفہ احمدی کے فوری ذکر پر دیا، جو انجمن انتظامیہ مسجد کمیٹی، وارانسی کی طرف سے پیش ہوئے۔

حکم دیتے ہوئے بنچ نے کہا کہ ضلع جج کے حکم پر 26 جولائی کی شام 5 بجے تک عمل درآمد نہیں کیا جائے گا۔ اس دوران مسلم فریق الہ آباد ہائی کورٹ میں اپیل دائر کر سکتا ہے۔ بنچ نے ہائی کورٹ رجسٹری سے یہ بھی کہا کہ معاملہ سماعت کے لیے ہائی کورٹ کے متعلقہ بنچ کے سامنے رکھا جائے۔

سپریم کورٹ نے نوٹ کیا کہ سروے کا حکم جمعہ کی شام 4:30 بجے ضلع جج نے دیا تھا۔ ایسی صورت حال میں درخواست گزار کو ہائی کورٹ کے سامنے اپنے قانونی طریقے کی پیروی کرنے کے لیے کچھ وقت دیا جانا چاہیے۔

سروے کرانے کے حکم کی مخالفت کرتے ہوئے مسٹر احمدی نے ضلعی عدالت کے حکم کی صداقت پر سوال اٹھایا۔ انہوں نے اس معاملے میں جمود برقرار رکھنے کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ ضلعی عدالت نے عدالت عظمیٰ کے حکم کی توہین کرتے ہوئے اے ایس آئی کو مسجد کی جگہ کی کھدائی کی اجازت دی۔

اس پر سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے عدالت کو بتایا کہ فی الحال مسجد کے احاطے میں کوئی کھدائی نہیں کی جا رہی ہے۔

اپنی اطلاعات کا حوالہ دیتے ہوئے مسٹر مہتا نے کہاکہ “ایک اینٹ بھی نہیں ہٹائی جا رہی ہے۔ وہ صرف پیمائش، فوٹو گرافی، ریڈار امیجنگ کر رہے ہیں۔”

قبل ازیں جسٹس چندر چوڑ کی سربراہی والی بنچ نے مسٹر مہتا سے گیانواپی مسجد کی حیثیت کا پتہ لگانے اور عدالت کو مطلع کرنے کو کہا تھا۔

سینئر وکیل شیام دیوان نے ہندو فریق کی طرف سے عدالت عظمیٰ میں بحث کی۔ انہوں نے کہا کہ اگر سپریم کورٹ کی طرف سے جمود کا کوئی حکم دیا جاتا ہے تو یہ غیر معینہ مدت تک جاری رہے گا۔

مسٹر دیوان نے کہا کہ ہائی کورٹ کو اس معاملے پر غور کرنے کی اجازت دی جائے۔

انہوں نے کہا کہ ڈسٹرکٹ جج کا حکم واضح تھا کہ مسجد کے ڈھانچے کو کوئی نقصان نہیں ہونا چاہئے۔

یواین آئی۔ ظ ا

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں