بی جے پی حکومت کسان اور گاؤں مخالف ہے: چوٹالہ

سرسہ، ہریانہ کے سابق وزیر اعلیٰ اوم پرکاش چوٹالہ نے کہا ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت کسانوں اورگاؤں کے خلاف ہے یہی وجہ ہے کہ آج گھگھر ندی اور رنگولی نالے میں سیلاب کے بعد کسانوں اورگاؤں کے وسائل بڑھانے کے بجائے حکومت اور انتظامیہ کے لوگ ان کے نام پر بل بنانے میں مصروف ہیں۔

مسٹر چوٹالہ نے الزام لگایا کہ اگر وقت رہتے حکومت سیلاب سے نمٹنے کے انتظامات کرتی تو آج ریاست کے کسانوں کی لاکھوں ایکڑکھڑی فصل برباد نہیں ہوتی۔ انہوں نے پیر کو گاؤں پنیہاری میں سیلاب سے متاثرہ لوگوں سے ملاقات کی۔

اس دوران گاؤں کے سابق سرپنچ رام چندر، نمبردار گروچرن داس اوم پرکاش جاکھڑ اور دنیش ڈھاکہ نے سیلاب سے نمٹنے کے سلسلے میں ضلعی انتظامیہ کے عدم تعاون پر بات کہی اور بتایا کہ ضلع انتظامیہ نے قواعد و ضوابط کو بالائے طاق رکھتے ہوئے سرسہ۔ برنالہ روڈ پر پانی کی نکاسی کے لیے بنائے گئے سائفن روک دئے، جس کی وجہ سے پنہاڑی، نیجا ڈیلا اور برج کرم گڑھ کے کھیتوں میں کھڑی فصلیں تباہ ہوگئی۔

وہیں کرم گڑھ میں بھی پانی گھروں میں داخل ہوگیا۔ دیہاتیوں نے مسٹر چوٹالہ کو بتایا کہ ان کے کھیتوں میں لاکھوں روپے کی لاگت سے لگائے گئے ٹیوب ویل اور مویشیوں کے لیے سال بھر کا ذخیرہ کیا ہوا توڑی، بھوسہ بھی پانی مل گیا جس کی وجہ سے پورے سال مویشیوں کو چارہ دینا مشکل ہو جائے گا۔

مسٹر چوٹالہ نے کہا کہ حکومت کی سوچ کسانوں کے حق میں نہیں ہے۔ بی جے پی کے لوگ صرف امیر اور غریب، ہندو اور مسلم اور سکھ اور عیسائی کو ایک دوسرے سے لڑا کر اپنی سیاست ک یروٹیا ں سینکنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے گاؤں والوں سے کہا کہ’پریورتن پد یاترا‘کے دوران انہیں کئی حصوں میں جانے کا موقع ملاتو عوام نے صرف ایک بات بتائی کہ کھیتوں کو سیراب کرنے کے لیے کافی پانی نہیں ہے۔ مہنگائی اس قدر ہے کہ بچوں کی پرورش مشکل ہو گیا ہے۔ ریاست میں سڑکیں ٹوٹیپڑی ہیں سرکاری دفتروں میں پیسے دیے بغیر کوئی کام نہیں ہوتا۔

انہوں نے کہا کہ آج حکومت سیلاب کے انتظام کے لیے سرپنچوں کو رقم دینے سے ہچکچا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ریاستی حکومت کی نیت اگر سیلاب میں ڈوبی ہوئی فصلوں کو معاوضہ دینے کا فیصلہ کرتی تو وہ کسانوں کو پورٹل پر اپنی تفصیلات درج کرنے کی بات نہیں کرتی۔ انہوں نے کہا کہ مصیبت کی اس گھڑی میں وزیراعلیٰ اپنے خصوصی اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے سیلاب سے متاثرہ افراد کو فوری طور پر معاوضہ فراہم کریں تاکہ کسان پانی خشک ہونے کے بعد اپنی اگلی فصل کی بوائی کر سکیں۔

سابق وزیر اعلیٰ چوٹالہ نے ا س کے بعد گاؤں روڈی گئے اور ہریانہ اسکول ایجوکیشن بورڈ کے سابق چیئرمین ماسٹر شیر سنگھ اور کالانوالی میں میونسپلٹی کے نائب سربراہ راجیو کے والد کے انتقال پران کے گھر والوں سے مل کر گھر والوں سے تعزیت کا اظہار کیا۔

اس دوران ان کے ساتھ کالانوالی حلقہ کے صدر جسوندر بندو، ونود بینیوال، مہنت بلدیو داس، سابق ضلع کونسلر بدھ سنگھ اور مگھر سنگھ بھی تھے۔

یو این آئی۔ خ س۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں