مظلوم فلسطینیوں کی حمایت میں این سی پی اقلیتی شعبہ کی جانب سے انڈیا اسلامک کلچرل سینٹر میں نیشنل کانفرنس کا انعقاد ، علمائے کرام ، ایران ، فلسطین ، گانبیا ، افریقہ جیسے کئی ممالک کے سفارتکاروں کی شرکت
نئی دہلی، 09 اپریل (یو این آئی) نیشنلسٹ کانگریس پارٹی،اقلیتی شعبہ کی جانب سے مظلوم فلسطینیوں کی حمایت میں اور اسرائیلی قتل عام کے خلاف انڈیا اسلامک کلچرل سینٹر، نئی دہلی میں ایک عظیم الشان بین الاقوامی کانفرنس کا اہتمام کیا گیا جس کی صدارت ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کے نمائند ہند آیت اللہ مہدی مہدوی پور نے کی جبکہ بطور مہمان خصوصی فلسطین کے سفیر عدنان ابوالحیجا نے شرکت کی این سی پی کے قومی جنرل سکریٹری اور اقلیتی شعبہ کے چیئرمین ایڈوکیٹ سید جلال الدین نے خطبہ استقبالیہ پیش کیا اور این سی پی اقلیتی شعبہ کے قومی جنرل سکریٹری اور قومی میڈیا انچارج ڈاکٹر ممتاز عالم رضوی نے نظامت کے فرائض انجام دیے ۔
اس کانفرنس میں ایران کے سفیر ڈاکٹر ایرج الہٰی ،گانبیا کے سفیر عمر سومپومی ،ایران کلچرل ہائوس کے کلچرل قونصلر فریدالدین فریدی،امیرشریعت اتراکھنڈ اور سابق چیئرمین مدرسہ بورڈ اور حج کمیٹی مولانا زاہد رضا رضوی ، کشمیری گیٹ شیعہ جامع مسجد کے امام و خطیب مولانا سید محسن علی تقوی ،مولانا حسین عباس ، مولانا محمد قاسم ،مولانا عشرت ،مولانا اشتیاق برکاتی خطیب جامع مسجد خواجہ قطب مہرولی شریف ،جے ڈی یو کے قومی جنرل سکریٹری اور سابق رکن پارلیمنٹ کے سی تیاگی، معروف صحافی قمر آغا، این سی پی کے قومی جنرل سکریٹری اور چیف ترجمان برج موہن سریواستو ، قومی جنرل سکریٹری کے کےشرما ،ایڈوکیٹ سپریم کورٹ زیڈ کے فیضان ،معروف صحافی شکیل حسن شمسی ، خانقاہ رشیدی مین پور ی کے نائب سجادہ نشین حسن میاں رشیدی، انجمن حیدری کے جنرل سکریٹری بہادر عباس، وقف سکریٹری جامی رضوی،این سی پی دہلی پردیش کارگزار صدر ویریندر سنگھ ،این سی پی کی نیشنل سکریٹری روحی سلیم ،قاری سلمان رضا اشرفی،ایڈوکیٹ سپریم کورٹ تیج سنگھ ورون ، این سی پی لیگل سیل ،ایڈوکیٹ سدیس جیٹھوال ،این سی پی لیگل سیل ، این سی پی اقلیتی شعبہ کے سینئر وائس چیئرمین نورالنبی خان ،فیض احمد فیض،آر جے آدی ،یوپی این سی پی اقلیتی شعبہ کے کارگزار صدر سلطان حیدری ، مرادآباد منڈل کے کارگزار انچارج عارف محمد خان کے علاوہ کئی علمائے کرام اور اہم شخصیات نے شرکت کی۔
تقریب کا آغاز مولانا زاہد رضا رضوی کی تلاوت قرآن کریم سے ہوا جبکہ حمد و نعت پاک قاری سلمان رضا اشرفی نے پیش کیا۔خطبہ استقبالیہ میں سید جلال الدین نے کہا کہ گزشتہ 6؍مہینے سے حماس اور اسرائیل کے درمیان جنگ جاری ہے جس میں اب تک غزہ کے 33؍ہزار آن ریکارڈ افراد شہید کیے جا چکے ہیں جن میں 12؍ہزار سے زائد صرف بچے ہیں اور یہی تعداد خواتین کی ہے۔ قریب 80؍ہزار افراد زخمی ہیں جبکہ میڈیا میں یہ بات عام ہے کہ جس طرح سے اسرائیل کی جانب سے غزہ پر فضائی حملے ہوئے ہیں اور یہ حملے بستیوں، اسپتالوں، اسکولوں،یونیورسٹیوں اور رہائشی علاقوں پر ہوئے ہیں کہ جن کی وجہ سے قریب 20؍لاکھ غزہ کے شہری بے گھر ہو گئے ہیں جبکہ ان کی کل آبادی 24؍لاکھ ہے ۔آج حالت یہ ہے کہ پناہ گزینوں کے لیے نہ تو کھانا ہے اور نہ ہی پانی ہے ، اب تو بھوک اور پیاس سے لوگ مر رہے ہیں اور دنیا خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے لیکن ہندوستان خاموش نہیں رہے گا۔ہم انھیں ریلیف بھی بھیجنے کا کام کریں گے۔این سی پی کے قومی صدر اور نائب وزیر اعلی مہاراشٹر اجیت پوار اور این سی پی کے کارگزار صدر اور رکن پارلیمنٹ پرفل پٹیل کے حوالہ سے سید جلال الدین نے کہا کہ عید کے بعد ہم ایک کروڑ سے زائد کی امداد غزہ بھیجنے کا کام کریں گے اور اس کے لیے وزیر خارجہ ایس جے شنکر سے بات بھی کریں گے۔ انھوں نے کہا کہ این سی پی ملک کی پہلی جماعت ہے جس نے آواز بلند کی اور آپ حضرات نے لبیک کہی ۔
فلسطینی سفیر ابولحیجا نے فلسطین کی تاریخ بیان کرتے ہوئے موجودہ افسوسناک حالات پر روشنی ڈالی اور کہا کہ غزہ پر جاری اسرائیلی حملے فوری طور پر بند کرنا چاہئے اور مستقل جنگ بندی ہونی چاہئے۔ ایرانی سفیر ڈاکٹر ایرج الٰہی نے اسرائیلی حملے کی سخت مذمت کی اور کہا کہ سب کو متحد ہوکر جواب دینا چاہئے ،فلسطین ایک بار پھر کامیاب ہوگا۔آیت اللہ مہدی مہدوی پور نے کہا کہ ایسا ظلم اس سے پہلے نہیں دیکھا گیا ،اس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔برج موہن سریواستو نے کہاکہ ہمیشہ کی طرح آج بھی ہندوستان فلسطین کے ساتھ کھڑا ہے اور اس کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کے خلاف ہے ۔ کے کے شرما نے اسرائیلی حملے کی شدید مذمت کی اور کہا کہ ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ ظلم کے خلاف آواز بلند کریں ۔مولانا زاہد رضا رضوی نے عرب ممالک کی شدید مذمت کی اور ان کی مجرمانہ خاموشی پر لعنت بھیجی ۔شکیل حسن شمسی نے اسرائیل کے خطرناک منصوبوںکی روشنی میں گفتگو کی اور ظلم کو بے نقاب کر دیا ۔مولانا محسن علی تقوی نے اسرائیل کی سخت مذمت کی اور کہا کہ اب اسرائیل اور امریکہ کو انسانیت کی بات کرنے کا کوئی حق نہیں ہے ۔
یو این آئی-ف ا-م ا








