لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈرراہول گاندھی اورراجیہ سبھامیں اپوزیشن لیڈر ملکارجن کھرگے بنام وزیراعظم نریندر مودی

مانسون اجلاس میں جموں و کشمیر کی ریاستی حیثیت سے متعلق قانون سازی کا مطالبہ
6پیراگرافس پر محیط تفصیلی خط ارسال،جموں وکشمیرکومکمل ریاستی درجہ دینے سے متعلق کئے گئے وعدوں کی یاددہانی کرائی
سرینگر :جے کے این ایس : ان امکانات کے بیچ کہ پارلیمان کے آئندہ اجلاس کے دوران مرکزی حکومت جموں وکشمیرکو ریاستی درجہ بحال کرنے سے متعلق بل ایوان میں پیش کرسکتی ہے ،لوک سبھا میں حزب اختلا ف کے لیڈر راہول گاندھی اور راجیہ سبھامیں اپوزیشن کے لیڈر ملکارجن کھرگے نے وزیراعظم نریندر مودی سے جموں کشمیر کو مکمل ریاست کا درجہ دینے کیلئے پارلیمان کے مانسون اجلاس میں قانون سازی کرنے کی اپیل کی ہے۔جے کے این ایس کے مطابق پارلیمنٹ کا مانسون اجلاس 21 جولائی 2025 سے شروع ہونے جا رہا ہے۔ ایسے میں کانگریس کی جانب سے حکومت کو مختلف ایشوز پر گھیرنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔اسی منصوبہ کے تحت کانگریس نے مرکزی حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ جموں و کشمیر کو مکمل ریاست کا درجہ دینے کےلئے پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس میں قانون سازی کرے۔ اس ضمن میں کانگریس صدر ملکارجن کھرگے اور راجیہ سبھامیں اپوزیشن کے لیڈر اور لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے وزیراعظم نریندر مودی کو ایک خط لکھا ہے۔16جولائی2025کو ارسال کردہ 6پیراگرافس پر محیط اس خط میں دونوں لیڈران نے وزیراعظم مودی نے مطالبہ کیا ہے کہ پارلیمان کے آئندہ مانسون اجلاس میں جموں کشمیر کی ریاستی حیثیت کو بحال کرنے کےلئے قانون سازی عمل میں لائی جائے۔خط میں لکھا گیا کہ، پچھلے5سالوں سے جموں و کشمیر کے عوام نے مسلسل مکمل ریاست کی بحالی کا مطالبہ کیا ہے۔ یہ مطالبہ ان کے آئینی اور جمہوری حقوق میں جائز بھی ہے اور مضبوطی سے بھی۔کانگریس صدر ملکارجن کھرگے اور راہل گاندھی کے خط میں لکھا گیا ہے کہ، یہ تسلیم کرنا ضروری ہے کہ ماضی میں مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو ریاست کا درجہ دیا گیا ہے، جموں و کشمیر کا معاملہ آزاد ہندوستان میں نظیر ہے،کیونکہ یہ پہلا موقع ہے جب کسی مکمل ریاست کی تقسیم کے بعد اسے مرکز کے زیر انتظام علاقہ بنایا گیا ہے۔ راہول گاندھی اور ملکارجن کھرگے نےخط میں وزیراعظم مودی کو جموں کشمیر کا ریاستی درجہ بحال کئے جانے سے متعلق ا ن کا وعدہ یاد دلاتے ہوئے لکھا ہے کہ، آپ نے کئی مواقع پر ذاتی طور پر ریاست کی بحالی کےلئے حکومت کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔ 19 مئی2024 کو بھونیشور میں اپنے انٹرویو میں، آپ (وزیراعظم مودی) نے کہاکہ جموں وکشمیرکیلئے ریاست کی بحالی ایک پختہ وعدہ ہے جو ہم نے کیا ہے اور ہم اس پر قائم ہیں۔ ایک بار پھر، 19 ستمبر2024 کو سری نگر میں ایک ریلی سے خطاب کرتے ہوئے، آپ (وزیراعظم مودی) نے اس بات کی تصدیق کی، ہم (مرکزی حکومت) نے پارلیمنٹ میں کہا ہے کہ ہم خطے(جموں وکشمیر) کی ریاستی حیثیت کو بحال کریں گے۔خط میں مرکزی حکومت کی جانب سے سپریم کورٹ میں بھی ریاستی درجہ بحال کرنے کی یقین دہانی کو یاد دلایا گیا ہے، اس میں لکھا گیا ہے، مزید برآں، مرکزی حکومت نے آرٹیکل370 کے معاملے میں عزت مآب سپریم کورٹ آف انڈیا کے سامنے اسی طرح کی یقین دہانیاں کرائی ہیں، یہ کہتے ہوئے کہ ریاست کا درجہ جلد سے جلد اور جلد از جلد بحال کیا جائے گا۔ راہول گاندھی اور ملکارجن کھرگے کی جانب سے وزیراعظم مودی کو لکھے گئے خط میں کہا گیا ہے، ہم حکومت پر زور دیتے ہیں کہ وہ پارلیمنٹ کے آئندہ مانسون اجلاس میں ایک قانون سازی کرے تاکہ جموں و کشمیر کے مرکز کے زیر انتظام علاقے کو مکمل ریاست کا درجہ دیا جائے۔خط میں لداخ سے متعلق اپیل کی گئی ہے کہ، حکومت لداخ کے مرکز کے زیر انتظام علاقے کو آئین کے چھٹے شیڈول کے تحت شامل کرنے کے لیے قانون سازی کرے۔ یہ لداخ کے لوگوں کے حقوق، زمین اور شناخت کے تحفظ کے ساتھ ساتھ ان کی ثقافتی، ترقیاتی اور سیاسی امنگوں کو پورا کرنے کی طرف ایک اہم قدم ہوگا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں