عوامی اعتماد کو بحال کرنے کیلئے غلط فیصلے منسوخ اور جمہوری عمل شروع کیا جائے: نیشنل کانفرنس

مرکز جموں و کشمیر مخالف پالیسی میں تبدیلی لائے
خبراردو:-

سرینگر:نیشنل کانفرنس کے معاون جنرل سکریٹری ڈاکٹر شیخ مصطفےٰ کمال نے کہا ہے کہ جموں وکشمیر اور لداخ میں جہاں نظر دوڑائی جائے وہاں عام آدمی تذبذب اور غیر یقینیت کا شکار ہیں ، تینوں خطوں کے طول و ارض میں بے چینی ہی بے چینی نظر آرہی ہے اور ہر جگہ لوگ اپنے اور اپنے وطن کے مستقبل کو لیکر مایوسی اور تشویش میں مبتلا ہے کیونکہ نئی دلی کے رویہ سے صاف ظاہر ہورہا ہے کہ مرکز کو جموں وکشمیر کے عوام سے نہیں بلکہ یہاں کی زمین چاہئے ۔

انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت کے رویہ سے اس بات کی عکاسی ہوتی ہے کہ یہ لوگ جموں و کشمیر کے بہتر اور روشن مستقبل کے تئیں سنجیدہ نہیں ، یہ لوگ ہمارا وجود ختم کرنے کیلئے کام کررہے ہیں ، اس گھناونی پالیسی میں تبدیلی آنی چاہئے، ملک ایک جسم کی مانند ہوتا ہے اور اگر جسم کے کسی بھی حصے میں درد یا تکلیف ہوتی ہے تو اس کا اثر سارے جسم پر پڑتا ہے، اسی طرح اگر جموں وکشمیر کو زخم دیئے گئے تو اس کا منفی اثر پورے ملک پر پڑے گا ۔ ڈاکٹر کمال کا کہنا تھا کہ ایک جمہوری ملک میں کسی ریاست کے جمہوری حقوق سلب کرکے تاناشاہی پر مبنی نظام مسلط کرنے سے جمہویت تار تار ہوجاتی ہے اور ایسا ہی کچھ جموں و کشمیر میں کیا جارہاہے ۔ گذشتہ 2سال سے مرکزی حکومت یہاں نئی دلی سے ریموٹ کنٹرول کے ذریعے یہاں اپنی من مانی چلا رہی ہے اور اس طریقہ کار سے جموں وکشمیر کے عوام بددل اور انتہائی مایوس ہوگئے ہیں ۔

مرکزی حکومت کی سخت گیر پالیسی کی وجہ سے نوجوان سخت فیصلے لیکر جنگجوئیت کی طرف راغب ہورہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت کے جموں وکشمیر کی خصوصی پوزیشن کا خاتمہ کرکے حالات سدھارنے کے تمام دعوے سراب ثابت ہوئے ہیں اس لئے نئی دلی کو یہاں امن و سکون لانے کیلئے پہل کرنی چاہئے ۔ معان جنرل سکریٹری نے کہا کہ مرکزی حکومت کو وقت رہتے تمام غیر جمہوری اور غیر آئینی فیصلوں کو منسوخ کرکے یہاں جمہوری نظام قائم کرنے کیلئے پہل کرنی چاہئے ۔

اس کے علاوہ آبادی والے فوج اور فورسز کی موجودگی کم کرنی چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ جموں وکشمیر کے عوام سلجھے ہوئے ہیں اور مرکزی حکومت کو یہاں کے عوام کا اعتماد اور بھروسہ بحال کرنے کیلئے ٹھوس اور فوری اقدامات اٹھانے چاہئیں ۔ اُمید ہے حالات و واقعات اور زمینی صورتحال کو دیکھتے ہوئے بھاجپا کی مرکزی حکومت اپنی غلطی کو سدھارنے کی شروعات کریگی ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں