کوویڈ- 19: کشمیر کی معشیت تباہی کے دہانے پر

کوویڈ- 19 کی وبائی بیماری نے دنیا کی معشیت کی کمر توڑ کر رکھ دی. جبکہ یہ دنیا کے لگ بھگ ہر کونے میں کہرام مچارہی ہے ہمارا خطہ ارض بھی اس بیماری کی لپیٹ میں پوری طرح سے آچکا ہے. ابتک جموں کشمیر میں پندرہ ہزار سے زائد مریض سامنے آچکے ہیں اس کی وجہ سے یہاں کے اقتصادی حالات دن بدن بدتر ہورئے ہیں.
جموں کشمیر میں اقتصادی بدحالی کا دورپچھلے سال اگست سے شروع ہوگیا تھا. جب پانچ اگست کو سابقہ ریاست کی خصوصی پوزیشن ختم کردی گئی اور اسے دو حصوں میں بانٹا گیا .تو انتظامیہ نے یہاں پر اس فیصلے کے رد عمل کو روکنے کے لئے کرفیو نافذ کرکے فون اور انٹر نیٹ کی خدمات کو لگ بھگ پانچ مہینوں تک معطل رکھا.
جس کی وجہ سے کاروبار اور اقتصادی سرگرمیاں پوری طرح ٹھپ ہوکر رہ گئی اس وقت ”کشمیر چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹریز” نے جو اعدادوشمار جاری کئے اس کے مطابق ان پانچ مہینوں میں جموں کشمیر کی اقتصادیات کو اٹھارہ ہزار کروڑ کا نقصان اٹھانا پڑا.
اب اس سال مارچ سے کوویڈ-19نے اقتصادی سرگرمیوں کو پوری طرح منجمد کر کے رکھ دیا ہے یہاں کے کاروباری حلقے خاص طور پر دکاندار،ٹرانسپورٹر، چھوٹے کاروباری، ریڈے فروش وغیرہ تباہ و برباد ہوگئے. اور کشمیر کی اقتصادی حالت تباہی کے دہانے پر پہونچ گئی ہے.
کشمیر کی معاشی حالت بحران کا شکار ہوگئی چاہے وہ تاجر ہو چھوٹا بیوپاری ہو دکاندار ہو .آج ہر کوئی پریشانی کی حالت میں ہے.سیاحت کے لئے مشہور اس علاقے کے ہوٹل مالکان نے کئی مہینوں تک ملازمین کو اپنی جیبوں سے تنخواہیں دیں.لیکن آخر کتنی دیر تک؟ آج نوبت یہاں تک پہونچ گئی کہ انہیں اپنے ہوٹلوں سے بیشتر ملازمین کو عارضی طور پر فارغ کرنا پڑا. ہرطرف بے بسی کا عالم ہے.جسے دیکھو اپنی خستہ حالی کا رونا رو ہا ہے.انتظامیہ نے حالات کی نزاکت کو بھانپتے ہوئے سرینگر اور دوسرے اہم شہروں میں دوسری مرتبہ ”لاک ڈاون” نافذ کردیا ہے.
اور لوگوں کو اپنے اپنے گھروں کے اندر ہی رہنے کی تلقین کی.لوگ پچھلے پانچ مہینوں سے اس بیماری سے بچنے کے لئے گھروں کے اندر رہنے کو مجبور ہیں لیکن کشمیر کے تناظر میں اقتصادی شعبہ پچھلے بارہ مہینوں سے انہی حالات سے جوجھ رہا ہے. اور انتظامیہ ان کے لئے کچھ بھی نہیں کر رہی ہے. ایسے میں لوگ پیٹ پالنے کے لئے وہ سب کچھ کر رہے ہیں جو ان کے بس میں ہیں.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں