لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے جموں و کشمیر پولیس کے معطل شدہ ڈی ایس پی دیویندر سنگھ اور شمالی ضلع کپوارہ سے تعلق رکھنے والے مزید دو اساتذہ کو ‘ملک کی سلامتی کے مفاد میں’ ملازمت سے فارغ کرنے کے احکامات جاری کر دیے ہیں۔
قبل ازیں لیفٹیننٹ گورنر نے قریب تین ہفتے قبل تین کشمیری سرکاری ملازمین بشمول ایک اسسٹنٹ پروفیسر، ایک نائب تحصیلدار اور ایک مڈل سکول ٹیچر کو ملازمت سے فارغ کر دیا تھا۔
جمعرات کو جاری برطرفی کے تین الگ الگ احکامات، جن کا متن ایک جیسا ہے، میں کہا گیا ہے کہ لیفٹیننٹ گورنر مطمئن ہیں کہ ملک کی سلامتی کے مفاد میں ان معاملات (کیسز) کی تحقیق کرنا لازمی نہیں ہے۔
ضلع کپواڑہ سے جن دو اساتذہ کو ملازمت سے فارغ کیا گیا ہے ان میں بشیر احمد شیخ ولد غلام محمد شیخ اور محمد یوسف گنائی ولد غلام قادر گنائی شامل ہیں۔
روان ماہ کے اوائل میں سرکاری ملازمین کی برطرفی کا سلسلہ جن تین ملازموں سے شروع کیا گیا تھا اُن میں گورنمنٹ ڈگری کالج وومن ادھم پور میں تعینات جغرافیہ کے اسسنٹ پروفیسر ڈاکٹر عبدالباری نائیک، پلوامہ کے نائب تحصیلدار نذیر احمد وانی اور گورنمنٹ مڈل سکول کرالپورہ کپوارہ میں تعینات ٹیچر ادریس جان شامل تھے۔
واضح رہے کہ دیویندر سنگھ کو سال رواں کے ماہ جنوری میں اس وقت سری نگر – جموں قومی شہراہ پر گرفتار کیا گیا تھا جب وہ حزب المجاہدین جنگجو تنظیم سے وابستہ دو جنگجوؤں نوید بابو اور الطاف کو اپنی گاڑی میں جموں لے جارہے تھے۔ ان کی تحویل سے کچھ اسلحہ بھی برآمد کیا گیا تھا۔
تاہم کپواڑہ سے تعلق رکھنے والے اساتذہ کو بظاہر اور مبینہ طور پر اس بنیاد پر برطرف کیا گیا ہے کہ ان کے خلاف مختلف پولیس تھانوں میں مقدمے درج ہیں جن میں ان کے خلاف ‘ملک سے بغاوت’ یا ‘ملک مخالف سرگرمیاں انجام دینے’ کے الزامات لگے ہیں۔
ملازمین کی برطرفی کے لیے بھارتی آئین کی دفعہ 311 کی ذیلی شق 2 (سی) کا سہارا لیا جا رہا ہے جس کے تحت صدر جمہوریہ یا ریاست کے گورنر تحقیقات کے بغیر کسی بھی سرکاری ملازم کو ‘ملک کی سلامتی کے مفاد’ میں ملازمت سے فارغ کر سکتے ہیں۔
پانچ اگست 2019 (وہ دن جب کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت ختم کر دی گئی) سے قبل بھارتی آئین کی دفعہ 311 کا کشمیر پر اطلاق نہیں ہوتا تھا۔ایک رپورٹ کے مطابق حکومت نے متذکرہ دفعہ کے تحت کشمیر میں ‘ملک مخالف سرگرمیوں’ میں ملوث ہونے کے الزام میں سینکڑوں ملازموں کو برطرف کرنے کا منصوبہ بنایا ہے جس کے لئے ایک خصوصی ‘ٹاسک فورس’ تشکیل دی گئی ہے۔
سرکاری ملازمین کی نمائندہ تنظیمیں اور علاقائی سیاسی جماعتیں سرکاری ملازمین کو نوکری سے برطرف کرنے کی پالیسی پر سخت برہمی کا اظہار کر چکی ہیں۔








