خبر اردو وئب ڈسک
کچھ دنوں سے میڈیا میں بعض خبریں گشت کررہی ے کہ رواں مہینہ کے ۲۴ جون کو وزیراعظم نریندر مودی جموں کشمیر میں سیاسی جماعتوں کی ایک آل پارٹی میٹنگ بلا رہے ے۔
خبروں کے مطابق اس ہاے پروفائل میٹنگ میں جموں کشمیر کی سیاسی صورتحال کا جائزہ لیا جائے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ مقامی سیاسی جماعتوں کو سیاسی سرگرمیاں شروع کرنے کی تلقین بھی کی جائے گی۔
جس کے بعد صابقہ ریاست کا ریاستی درجہ بحال کرنے کے لے راہ ہموار کی جائے گی۔ تاہم ان خبروں کو نہ ہی سرکار تصدیق کرتی ہے اور نہ ہی کوئی سیاسی پارٹی۔
مقامی میڈیا اور تجزیہ نگار تاہم مطفق ہیں کہ جموں کشمیر میں سیاسی لوکجام اب شاید ختم ہونے والا ے۔ ۵ اگست ۲۰۱۹ کو مرکزی سرکار نے آینی ترمیم کرکے صابقہ ریاست کی خصوصی پوزیشن کو ختم کیا تھا اور اسے لداخ علحیدہ کرکے اسے یونین ٹیروٹری کا درجہ دیا تھا۔
بی جے پی کو چھوڑ کر تمام سیاسی لیڈروں کو نظر بند رکھا گیا تھا۔ جس کے بعد مرکزی حکومت اور مقامی سیاسی جماعتوں کے درمیان کافی حد تک تعلقات خراب ہوگے۔
حال ہی میں ۷ ماہ کے بعد پی اے جی ڈی نے ایک ہنگامی میٹنگ بلائی جس کی صدارت نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے پی ڈی پی صدر اور صابقہ وزیر اعلی محبوبہ مفتی کی رہائش گاہ پر کی۔
اس میٹنگ کے بعد ہی خبریں گردش کرنے لگی کہ مرکز عنقریب مقامی سیاسی جماعتوں کے سربراہوں کی میٹنگ طلب کرنے جارہی ہے۔
واضح رہے ۱۹ جون 2019 کو بی جے پی نے پی ڈی پی سے حمایت واپس لے کر جموں کشمیر میں پریذیڈنٹ رول کے لے راہ ہموار کی۔ اب کیا مرکزی سرکار جموں کشمیر کا ریاستی درجہ واپس بحال کرتی ہے یا نہیں اور کیا مقامی سیاسی جماعتیں جو ریاستی درجے کے ساتھ ساتھ دفعہ 370 کی بحالی بھی چاہتی ہے مرکز کے کہنے پر سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لیتی ہے کہ نہیں آنے والا وقت ہی بتائے گا۔








