’’ عوام کی آواز‘‘ قسط سوم | امن، سکون اور ترقی یوٹی کا مقصد اور مستقبل

سرینگر// لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے کہاہے کہ یونین ٹریٹری میں ‘جوں کی توں صورتحال’ برقرار رہے گی۔انہوں نے کہا کہ یہ بات پوری دنیا جانتی ہے کہ جموں و کشمیر کے لوگ امن اور ترقی پسند ہیں اور حکومت بھی ان کی امیدوں پر کھرا اتر رہی ہے ۔لیفٹیننٹ گورنر نے اتوار کو اپنے ماہانہ ریڈیو پروگرام ‘عوام کی آواز’ کی تیسری قسط میں بات کرتے ہوئے کہا: ‘پچھلے کچھ مہینوں سے جس طرح سے ترقیاتی کاموں میں تیزی لائی جا رہی ہے ، موسم سرما میں بڑی تعداد میں سیاح یہاں آئے ، جس طرح سے کورونا کا ہم سب نے مقابلہ کیا ہے یہ کچھ لوگوں کو اچھا نہیں لگا ہے ‘۔انہوں نے کہا: ‘ان لوگوں نے معصوم لوگوں کے جذبات کو بھڑکانے کا کام کیا اور غلط افواہیں پھیلانے کی کوششیں کیں۔ میں ان افواہوں کو پوری ذمہ داری سے خارج کرتا ہوں۔ آج جو جموں و کشمیر کی صورتحال ہے وہی بنی رہنے والی ہے ۔ میں اس بات کو پھر سے دہرانا چاہتا ہوں’۔منوج سنہا نے کسی کا نام لئے بغیر کہا کہ بعض لوگوں نے کئی برسوں تک یہاں کے لوگوں کے جذبات کے ساتھ کھلواڑ کیا، نوجوان کو گمراہ کیا اور زندگی کو مشکل بنایا۔انہوں نے کہا: ‘امن، سکون اور ترقی ہی اب جموں و کشمیر کا مقصد اور مستقبل ہے ‘۔لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ مفاد خصوصی عناصر نے دنیا کے سامنے کشمیر کی پہچان الگ ہی بنا دی تھی۔لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ اُنہوں نے اَپنی محنت سے جموں وکشمیر کے مستقبل کے لئے سنگ بنیا د رکھا ہے ۔آج جموںوکشمیر مساوی معاشرے کی حیثیت سے آگے بڑھ رہا ہے ۔ اِس کا سہرا ان وارئیروں کو جاتا ہے جنہوں نے اَپنے آپ کو اس مقصد کے لئے وقف کیا۔اُنہوں نے کہا کہ یوٹی میں کووِڈ صورتحال بہتر ہو رہی ہے اوریہ صرف ان ہی لوگوں کی اِجتماعی کوششوں کی وجہ سے ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ حالیہ اعلان میں 12,600کروڑ روپے ضلع کیپکس بجٹ تاریخی ہے اور گزشتہ برس کے بجٹ 5134 کروڑ روپے کے مقابلے میں دوگنا ہے ۔ لیفٹیننٹ گورنر نے جموں خطے میں بجلی کی بندش / کٹوتیوں کے مسئلے پر لوگوں کو یقین دِلایا کہ ان کی تکلیف کے ذمہ داروں کو جوابدہ بنایا جائے گا۔اُنہوں نے کہا کہ گزشتہ 11 مہینوں سے اِنتظامیہ آئندہ 4برسوں میں اختیارات کی کھوج کرنے اور گزشتہ 74 برسوں میں پیداواری بجلی کی فراہمی کے لئے پوری کوشش کر رہی ہے ۔ اِس کے لئے 52,821کروڑ روپے پہلے منظور ہوچکے ہیں۔گزشتہ دومہینوں سے وہ اِس بات کو یقینی بنا رہی ہے کہ ہر شخص صحت مند رہے ، ٹیکے لگائے اور کووِڈ رہنما خطوط اور پروٹوکول پر من و عن عمل پیرا رہیں۔اُنہوں نے کہاکہ نہ صرف آکسیجن بستروں کی تعداد میں اِضافہ ہوا بلکہ 15,000ایل ایم پی آکسیجن کی گنجائش تین گنا سے زیادہ بڑھا کر53,000 ایل پی ایم کردی گئی ہے جو آنے والے دِنوں میں 90 ہزار ایل پی ایم تک کی جائے گی۔لیفٹیننٹ گورنر نے کہا ’’ ہم کرونا سے متاثرہ کاروبار ، صنعت اور سیاحت کے شعبوں پر بھی پوری توجہ دے رہے ہیں اور ان کی سہولیت کے لئے فیصلے کئے جائیں گے۔ جموں وکشمیر کے فن و ثقافت کو فروغ دینے کے لئے ہنگامی بنیادوں پر بھی کام کیا جائے گا۔ ‘‘اُنہوں نے کہا کہ وَبائی اَمراض کی وجہ سے نئی صنعتی سکیم کی رفتار بھی رُک گئی تھی ۔ اَب آنے والے وقتوں میں اسے زمینی سطح پر کوششیں تیز کی جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ زیڈ موڈ ٹنل کا کام ابھی مکمل ہوا ہے جس سے سونہ مرگ کے لوگوں کو کافی سہولیت ہوگی اور جلد ہی 8 کلومیٹر طویل بانہال ۔ قاضی گنڈ ٹنل بھی شروع کی جائے گی جس سے سری نگر اور جموں کے مابین موسمی رابطہ قائم ہوگا۔آج جموںوکشمیر اِنتظامیہ مکمل طور پر اِی ۔ آفس میں منتقل ہوگئی ہے اور اس طرح سینکڑوں برس پرانے دربار اقدام کا عمل ختم ہوگیا ہے ۔اَب جموں اور سری نگر دونوں سیکرٹریٹ بارہ ماہ تک کام کرسکتے ہیں ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں