پمبئی کولگام میں پولیس پر حملہ، ماچھوا میں مسلح جھڑپ

کولگام + پلوامہ +سرینگر +راجوری// کولگام میں سنیچر کی شام جنگجوﺅں نے پولیس پر گھات لگاکر حملہ کیا جس میں ایک کانسٹیبل جاں بحق جبکہ دو دیگر زخمی ہوئے۔ادھر ماچھوا باغ مہتاب میں شبانہ جھڑپ کے دوران اونتی پورہ کا جنگجو جاں بحق جبکہ اسکا ساتھی کھریو سے گرفتار کیا گیا۔ دریں اثناءراجوری کے تھنہ منڈی کے جنگلاتی علاقے میں جمعہ کو ہوئی مسلح جھڑپ سنیچر کی شام تک جاری رہی ۔
کولگام
جنوبی ضلع کولگام کے پمبئی گاﺅں میں مسلح جنگجوﺅں نے سنیچر کی شام گھات لگاکر ایک پولیس پارٹی پر حملہ کیا جس کے دوران مٹن کا ایک پولیس کانسٹیبل جاں بحق جبکہ دو دیگر اہلکار شدید زخمی ہوئے۔پولیس کے مطابق شام قریب 7بجکر 20 منٹ پر دمحال ہانجی پورہ پولیس اسٹیشن کے ایس ایچ او اپنے اسکارڈ کے ہمراہ پیپلز کانفرنس لیڈر عبدالمجید پڈر کو گھر تک حفاظت دینے کے بعد واپسی پر پمبئی کراسنگ پر جونہی پہنچ گئے تو جنگجوﺅں نے حملہ کیا۔ پولیس کے مطابق یہاں ٹریفک کا بھاری رش تھا جس کی آڑ میں جنگجوﺅں نے ایس ایچ او کے قافلے پر اندھا دھند فائرنگ کی۔اس موقعہ پر پولیس سکارڈ نے جوابی کارروائی کرنے میں صبر و تحمل کا مظاہرہ کیا کیونکہ یہاں لوگوں کی بھاری بھیڑ تھی اور شہری ہلاکتوں کا خدشہ تھا۔فائرنگ کے اس واقعہ میں 3پولیس اہلکار زخمی ہوئے جنہیں فوری طور پر نزدیکی اسپتال منتقل کردیا گیا لیکن کانسٹیبل نثار ا حمد وگے نمبر 652 ولد عبدلرزاق ساکن ہاکورہ مٹن زخموں کی تاب نہ لا کر دم توڑ بیٹھا۔نثار احمد آئی آر پی 17بٹالین سے وابستہ تھا۔اس واقعہ میں دیگر دو زخمی پولیس اہلکاروں کو اننت ناگ ضلع اسپتال منتقل کردیا گیا ، جن کی حالت مستحکم ہے۔ حملے کے فوراً بعد کولگام سے سیکورٹی فورسز کی بھاری تعداد پمبئی پہنچ گئی اور پورے علاقے کو محاصرے میں لیکر جنگجوﺅں کی تلاش شروع کی گئی۔
ماچھوا باغ مہتاب
ماچھوا باغ مہتاب علاقے میں سنیچر کوجھڑپ کے دوران البدر سے وابستہ گوری پورہ اونتی پورہ کا جنگجو جاں بحق ہوا جبکہ جھڑپ کے دوران اسکا ساتھی فرار ہوا جسے کھریو پانپور سے حراست میں لیا گیا اور جس ٹرک میں وہ فرار ہوا اسے ضبط کر کے ڈرائیور کی گرفتاری بھی عمل میں لائی گئی۔ پولیس نے بتایاکہ کچھ جنگجوﺅں کی موجودگی سے متعلق مصدقہ اطلاع ملتے ہی50آر آر ،181بٹالین سی آر پی ایف اور پولیس کے سپیشل آپریشن گروپ نے سنیچرعلی الصبح ماچھوا باغ مہتاب علاقہ کومحاصرے میں لیا۔پولیس نے بتایاکہ محاصرے کی کارروائی کے بعد دوران جب جنگجوﺅں کے چھپنے کی جگہ کا علم ہوا تو انہیں سرنڈر کرنے کی پیشکش کی گئی لیکن انہوں نے جواب میں اندھا دھند فائرنگ کی جس کے بعد مسلح جھڑپ ہوئی۔ پولیس کے مطابق فائرنگ کے تبادلے میں ایک جنگجو جاں بحق ہوا جو البدر سے وابستہ تھا۔مذکورہ جنگجو کی لاش بر آمد کی گئی جسکی شناخت شاکر احمدڈا ر ولد بشیراحمد ڈارساکن گوری پورہ پلوامہ کے بطور ہوئی۔پولیس نے کہا کہ اسکی تحویل سے دو میگزین اور 32راﺅنڈس کیساتھ ایک اے کے47 رائفل اور 2میگزین اور 16 راﺅنڈس کیساتھ ایک چینی ساخت کا پستول اور ایک پاﺅچ بر آمد کئے گئے۔ شاکر پہلے جنگجوﺅں کا اپر گراونڈ ورکر تھا اور27جولائی 2021 میں لشکرطیبہ میں شامل ہواتھا۔ شاکر کمپوٹر سائنس میں ڈپلومہ کررہا تھا۔پولیس بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ جب یہاں آپریشن جاری ہی تھا تو یہ سامنے آئی کہ مہلوک جنگجو کا ایک ساتھی فرار ہونے میں کامیاب ہوا ہے۔چنانچہ اونتی پورہ پولیس کیساتھ معلومات کا تبادلہ کیا گیا جس کے بعد50آر آر ، پولیس اور 185بٹالین سی آر پی ایف نے منتقی کالونی کھریو کا محاصرہ کیا اور تلاشی آپریشن شروع کیا جس کے دوران ماچھوا سے فرار شدہ جنگجو شبیر احمد نجار ولد غلام محمدساکن ووین کھریو کو گرفتار کیا گیا۔وہ 19مئی 2021 کو جنگجوﺅں کی صف میں شامل ہوا تھا۔وہ پیشے سے درزی ہے۔اسکے ساتھ ہی پولیس نے ٹرک زیر نمبر JK13/2397کو بھی اپنی تحویل میں لیکر اسکے ڈرائیورمحمد شفیع ڈار ساکن گرٹہ ونی محلہ کھریو کو بھی حراست میں لیا۔ مذکورہ جنگجو اسی ٹرک میں فرار ہوا تھا۔ اسکی تحویل سے7راﺅنڈس اور اور ایک میگزین کیساتھ چینی ساخت کا ایک پستول،دواے کے میگزین کیساتھ 50راﺅنڈس، ایک چینی ساخت کا گرینیڈ، 5کلو بارودی سرنگ( جسے ناکارہ بنایا گیا) بر آمد کیا گیا۔
راجوری
سرحد پار سے دراندازی کرکے اِس پار داخل ہوئے تقریباً 3جنگجوﺅں پر مشتمل گروپ کی موجودگی کی اطلاع پر پولیس کے سپیشل آپریشن گروپ اور 48آر آر نے بھنگائی جنگلاتی علاقے کا جمعہ کی صبح 5بجے محاصرہ کیا اور جب سیکورٹی فورسز کمین گاہ کے نزدیک پہنچ گئے تو صبح 6بجے جنگجوﺅں نے فائرنگ شروع کی جو گذشتہ روز دن بھر وقفے وقفے سے جاری رہی۔شام کے وقت مسلح تصادم آرائی کے دوران 2جنگجوجاں بحق ہوئے جنکی لاشیں بر آمد کی گئیں ن اور مزید جنگجوﺅں کی موجودگی کے خدشے کے پیش نظر یہاں آپریشن جاری رکھا گیا۔ سنیچر کی صبح 11بجے سیکورٹی فورسز نے تلاشی آپریشن کے دوران ایک جنگجو کو دیکھا جس نے فائرنگ کی اور جنگلاتی علاقے میں چھپ گیا۔اسکے بعد جب آپریشن جاری رکھ کر جنگل کو کھنگالا گیا تو بعد دوپہر 3بجے طرفین کے درمیان دوبارہ فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔ پھر دو گھنٹے تک خاموشی چھا گئی اور سہ پہر 5بجے فائرنگ کا ایک بار پھر مختصرتبادلہ ہوا ۔ پولیس کا کہنا کہ جنگل میں کم سے کم ایک جنگجو مصدقہ طور پر موجود ہے البتہ اس سے زیادہ بھی ہوسکتے ہیں لیکن وہ وثوق کیساتھ نہیں کہہ سکتے۔انہوں نے کہا کہ مہلوک دو جنگجوﺅں کی شناخت نہیں ہوسکی ہے اورانکی لاشیں دفنا دی گئی ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں