جموں و کشمیر کو تقسیم کرنا ہمارے ساتھ بہت بڑا مذاق تھا: غلام نبی آزاد

سینئر کانگریس لیڈر غلام نبی آزاد کا کہنا ہے کہ مرکزی حکومت نے سابق ریاست جموں و کشمیر کو دو وفاقی حصوں میں منقسم کر کے ”ہمارے ساتھ سب سے بڑا مذاق کیا ہے“۔ انہوں نے کہ جموں و کشمیر کی خصوصی پوزیشن ختم کر کے ایک ایسی انہونی کی گئی جس کی مثال دنیا کی کسی بھی جمہوریت میں نہیں ملتی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پانچ اگست 2019 کے بعد جو حالات جموں و کشمیر میں پیدا ہوئے ان کو یاد کرنے سے دل کے دورے پڑ سکتے ہیں۔
موصوف نے ان باتوں کا اظہار منگل کو یہاں پارٹی دفتر پر منعقدہ ایک تقریب میں پارٹی کارکنوں سے اپنے خطاب کے دوران کیا۔ اس موقع پر کانگریس کے سینئر لیڈر اور رکن پارلیمان راہل گاندھی بھی موجود تھے۔
انہوں نے کہا”سال 2014 کے بعد ملک کے حالات عجیب ہونے لگے، جموں و کشمیر میں پی ڈی پی اور بی جے پی کی مخلوط سرکار تھی، اسمبلی کو برخاست کیا گیا اور بی جے پی نے حکومت اپنے ہاتھوں لے لی اور اس کے ایک سال بعد ایک ایسی انہونی چیز کی گئی جس کی مثال دنیا کی کسی بھی جمہوریت میں نہیں ملتی ہے“۔
ان کا کہنا تھا: ’ہمارے ملک میں سال 1947 کے بعد ایسی مثال رہی ہے نہ شاید رہے گی‘۔
آزاد نے کہا کہ پارلیمنٹ کی تاریخ میں بھی پہلی دفعہ ایسا ہوا کہ جو بل پڑی تھی اس کو نہیں بلکہ دوسری بل کو پڑھا گیا۔
انہوں نے کہا کہ پانچ اگست 2019 کی رات کو ہی 16500 لوگوں، جن میں سابق وزرائے اعلیٰ، سابق وزرا، سابق ارکان اسمبلی وغیرہ شامل تھے، کو جیلوں میں ڈال دیا گیا۔
ان کا کہنا تھا: ’پانچ اگست 2019 کے بعد جو جموں و کشمیر میں حالات پیدا ہوئے ان کو بھولنا ہی بہتر ہے کیونکہ اگر ان یادوں کو دل و دماغ سے محو نہ کیا گیا تو دل کے دورے پڑ سکتے ہیں‘۔
موصوف کانگریس لیڈر نے کہا ” ہم نے یہاں آنے کی کوشش کی لیکن ہمیں واپس بھیج دیا گیا“۔
انہوں نے کہا: ’ہم نے یہاں آنے کی کوشش کی راہل گاندھی جو اس وقت پارٹی کی سربراہی کر رہے تھے، کے ہمراہ ہم یہاں آئے لیکن ہمیں سری نگر ہوائی اڈے سے پانچ گھنٹوں کے بعد واپس بھیج دیا گیا‘۔
ان کا کہنا تھا: ’اس سے پہلے میں اکیلے یہاں آیا اس دن بھی مجھے پانچ گھنٹوں کے بعد واپس بھیج دیا گیا پھر مجھے عدالت عظمیٰ نے یہاں آنے کی مشروط اجازت دی‘۔
آزاد نے کہا کہ اس طرح کی پابندیاں جملہ سیاسی جماعتوں پر عائد تھیں۔
انہوں نے کہا کہ کانگریس نے پارٹی صدر سونیا گاندھی کی صدارت میں مننعقدہ ایک میٹنگ میں مرکزی سرکار سے پانچ چیزوں کا مطالبہ کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ ان میں ایک یہ کہ اسمبلی انتخابات سے پہلے جموں و کشمیر کو مکمل ریاستی درجہ واپس دیا جانا چاہئے۔
موصوف لیڈر نے کہا کہ یہ سرحدی ریاست ہے یہاں عوامی سرکار ہونی چاہئے اور وزیر اعلیٰ ہی یہاں کا نظام بخوبی چلا سکتا ہے۔
انہوں نے کہا ” ہمیں دفعہ 35 اے کے پروویژنز واپس چاہئےں تاکہ ہماری زمین اور نوکریاں محفوظ رہ سکیں“۔
ان کا کہنا تھا کہ ملک کی دیگر کئی ریاستوں میں بھی یہ قانون موجود ہے یہ صرف جموں وکشمیر کے لئے مخصوص نہیں تھا۔
سینئر کانگریس لیڈر نے کہا کہ یہ قانون جموں و کشمیر کو شیخ عبداللہ یا ڈاکٹر فاروق عبداللہ یا کسی دوسرے وزیر اعلیٰ نے نہیں دیا تھا بلکہ یہ قانون مہاراجہ ہری سنگھ نے سال 1927 میں بنایا تھا۔
انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ کے بجٹ سیشن میں ہی جموں و کشمیر کے ریاستی درجے کی بحالی کی بل پاس کی جانی چاہئے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں