جموں و کشمیر ہی نہیں پورا بھارت حملوں کی زد میں ہے: راہل گاندھی

کانگریس کے سینئر رہنما و رکن پارلیمان راہل گاندھی نے کہا کہ آج صرف جموں و کشمیر نہیں بلکہ پورا بھارت حملوں کی زد میں ہے۔انہوں نے کہا کہ فرق صرف اتنا ہے کہ جموں و کشمیر پر راست حملے ہو رہے ہیں جبکہ ملک کے باقی حصوں پر بالواسطہ حملے جاری ہیں۔انہوں نے کہا کہ پورے ملک میں میڈیا سے وابستہ لوگ اور ادارے سہمے ہوئے ہیں کیوں کہ موجودہ حکومت سچ لکھنے والوں کو دھمکاتی ہے، دباتی ہے۔
راہل گاندھی نے یہ باتیں منگل کو یہاں مولانا آزاد روڑ پر تعمیر کانگریس کے نئے پارٹی دفتر کی افتتاحی تقریب سے اپنی خطاب کے دوران کہیں۔
انہوں نے کہا”آج صرف جموں و کشمیر پر حملے نہیں ہو رہے ہیں۔ حملے پورے ہندوستان پر ہو رہے ہیں۔ غلام نبی آزاد جی نے اپنی تقریر میں کہا کہ ہمیں معاملات کو پارلیمنٹ میں اٹھانا چاہیے مگر وہاں تو ہمیں بولنے نہیں دیا جاتا۔ وہاں ہمیں دبایا جاتا ہے“۔
انہوں نے کہا”میں پارلیمنٹ میں پیگاسس، رافیل، جموں و کشمیر، کرپشن اور بے روزگاری کے بارے میں بات نہیں کر سکتا۔ ہندوستان کے سبھی اداروں پر یہ لوگ حملہ کر رہے ہیں۔ عدلیہ، راجیہ سبھا، لوک سبھا اور اسمبلیوں پر حملے کئے جا رہے ہیں۔ ہمارے پریس کے لوگوں کو جو سچائی لکھنی چاہیے نہیں لکھ پاتے ہیں۔ ان کو دبایا اور دھمکایا جاتا ہے۔ پورے ہندوستان میں یہ لوگ ڈرے ہوئے ہیں۔ انہیں ڈر ہے کہ اگر کچھ لکھیں گے تو نوکری چلی جائے گی۔ یہ اپنی ذمہ داری کو پورا نہیں کر پاتے ہیں“۔
ان کا مزید کہنا تھا: ’غرض پورا دیش حملے کی زد میں ہے۔ ہمارا جمہوری خیال نیز آئین بھی حملے کی زد میں ہے۔ جموں و کشمیر پر راست جبکہ باقی ہندوستان پر بالواسطہ حملے جاری ہیں‘۔
راہل گاندھی نے کہا ” ہم نے اپنی پوزیشن واضح کی ہے کہ جموں و کشمیر کو ریاست کا درجہ واپس ملنا چاہیے اور یہاں پر شفاف انتخابات منعقد کئے جانے چاہئیں۔انہوں نے کہا: ’میں یہاں عزت اور پیار لے کر آیا ہوں۔ میں چاہتا ہوں کہ جموں و کشمیر کو ریاست کا درجہ جلد از جلد واپس ملے اور یہاں پے جمہوری عمل بحال ہو‘۔
کانگریس رہنما نے کہا ” ہم نے اپنی سرکار کے دوران یہاں پر پنچایت کے انتخابات کرائے، نوجوانوں کے لئے اڑان نامی پروگرام شروع کیا اور کشمیری نوجوانوں کو دوسری ریاستوں میں بھیجا“۔
ان کا مزید کہنا تھا: ’ہم پیار سے جوڑنے کا کام کر رہے تھے۔ بی جے پی والوں نے اس عمل کو ترک کیا۔ جموں و کشمیر کے لوگوں کو درد ہوا ہے۔ آپ سے کہنا چاہتا ہوں کہ میں آپ کے ساتھ ہوں۔ عزت اور پیار کا رشتہ چاہتا ہوں۔ میں نریندر مودی کے خلاف لڑتا ہوں۔ ہم نریندر مودی کی ہندوستان کو توڑنے اور تشدد کو فروغ دینے کی سوچ سے لڑیں گے اور انہیں ہرائیں گے‘۔
راہل گاندھی نے کہا کہ سری نگر میں ہمارا نیا پارٹی آفس ایک نئی شروعات ہے۔
انہوں نے پارٹی کارکنوں سے مخاطب ہو کر کہا: ’آپ ہماری سینا ہو۔ میں آپ کو یہ آفس کھلنے پر مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ میں نے کووڈ سے پہلے بھی یہاں آنے کی کوشش کی تھی لیکن تب مجھے ایئرپورٹ سے باہر آنے نہیں دیا گیا تھا‘۔
ان کا مزید کہنا تھا: ’میں نفرت اور ڈر کے خلاف لڑتا ہوں۔ ہم میں اور باقی جماعتوں میں یہ فرق ہے کہ ہم کسی سے نفرت نہیں کرتے ہیں۔ ہم کسی پر تشدد نہیں کرتے، ہم تمیز سے بات کرتے ہیں۔ کانگریس پارٹی پیار کی سینا ہے‘۔
راہل گاندھی نے گاندھی خاندان کے کشمیر کنکشن پر بات کرتے ہوئے کہا: ’آج کل میرا خاندان دلی میں رہتا ہے، دلی سے پہلے میرا خاندان الہ آباد میں رہتا تھا، اور الہ آباد سے پہلے میرا خاندان یہاں کشمیر میں رہتا تھا۔ میرے خاندان کے لوگوں نے بھی جہلم کا پانی پیا ہوگا۔ آپ کی سوچ کو ہم کشمیریت کہتے ہیں۔ وہ تھوڑی سی میرے اندر بھی ہے۔ جب بھی یہاں آتا ہوں تو مجھے لگتا ہے کہ میں اپنے گھر آ رہا ہوں‘۔
انہوں نے کہا: ’آپ کا بھائی چارہ اور ایک دوسرے کی عزت کرنا آپ کی سب سے بڑی طاقت ہے۔ ہندوستان کی بنیاد میں کشمیریت بھی ہے۔ جو آپ مجھ سے پیار اور عزت سے کروا سکتے ہو وہ ا?پ نفرت اور تشدد سے کبھی نہیں کروا سکتے۔ وہی کشمیریت ہے‘۔
ان کا مزید کہنا تھا: ’آپ نے جموں و کشمیر کے لوگوں سے پیار اور عزت سے بات کی، آپ گلے لگے تو جو بھی آپ کام کروانا چاہتے ہو کروا سکتے ہو۔ مگر اگر آپ نے جموں و کشمیر کو نفرت دکھائی، تشدد دکھایا، عزت نہیں دکھائی تو آپ کامیاب نہیں ہو سکتے‘۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں