کشمیر کی حفاظتی صورتحال کے حوالے لفٹننٹ گورنراور حفاظتی ایجنسیوں کے مابین اعلیٰ سطحی میٹنگ منعقد

سرینگر / خبر اردو / لفٹنٹ گورنر کی سربراہی میں کشمیر کی صورتحال کو لے کر ایک اعلیٰ سطحی میٹنگ منعقد ہوئی جس میں پولیس چیف اور دیگر سیکورٹی ایجنسیوں کے عہدیداروں نے شرکت کی۔ میٹنگ کے دوران ایل جی نے بتایا کہ شہری ہلاکتوں کو کسی بھی صورت میں برداشت نہیں کیا جائے گا اور جوکوئی بھی ان ہلاکتوں میں ملوث ہوگا اُس کو بہت جلد کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا۔

ذرایع کے مطابق شہر سرینگر میں شہری ہلاکتوں کے بعد پولیس اور دیگر سیکورٹی ایجنسیوں کے درمیان میٹنگوں کا سلسلہ جاری ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ ایل جی منوج سنہا کی سربراہی میں بھی ایک اعلیٰ سطحی میٹنگ منعقد ہوئی جس میں پولیس چیف اور دیگر سینئر آفیسران نے شرکت کی۔ معلوم ہوا ہے کہ میٹنگ کے دوران پولیس چیف نے ایل جی کو بتایا کہ وادی کشمیر کے حالات میں نظر گزر رکھی جارہی ہے اور حالیہ شہری ہلاکتوں میں ملوث افراد کو بہت جلد کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ پولیس چیف نے میٹنگ کے دوران بتایا کہ شہر سرینگر میں سیکورٹی گرڈ کو مضبوط کرنے کی خاطر زمینی سطح پر اقدامات اُٹھائے گئے ہیں جبکہ ملی ٹینٹوں اور اُن کے مدد گاروں پر نظر گزر رکھنے کی خاطر ہیومن انٹیلی جنس کو مضبوط کیا گیا ہے۔ میٹنگ کے دوران کل ہوئی شہری ہلاکتوں کے بعد شہر میں سیکورٹی کو مضبوط کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ امن دشمن عناصر کے منصوبوں کو ناکام بنایا جاسکے۔ ذ

رائع نے بتایا کہ میٹنگ کے دوران ایل جی منوج سنہا نے پولیس آفیسران کو ہدایت دی کہ شہری ہلاکتوں میں ملوث افراد کو جلدازجلدبے نقاب کیا جائے تاکہ ایسے واقعات کو دوبارہ رونما ہونے سے ٹالا جاسکے۔ ایل جی نے بتایا کہ عام شہریوں کی زندگیوں کو تحفظ فراہم کرنا ہماری ذمہ داری ہے لہذا اس میں کوئی چوک نہیں ہونی چاہئے۔

واضح رہے کہ پچھلے ایک ہفتے سے شہر سرینگر میں شہری ہلاکتوں کا نہ تھمنے والا سلسلہ جاری ہے۔ گزشتہ دنوں ہی کرن نگر سرینگر اور بٹہ مالو میں پی ڈی ڈی ملازم پر نامعلوم بندوق برداروں نے گولیاں چلائیں جس کے نتیجے میں دونوں کی موت واقع ہوئی۔ اس سے قبل خانیار میں اسسٹنٹ سب انسپکٹر پر بھی مسلح افراد نے فائرنگ کی جس وجہ سے وہ بھی اپنی جان گنوا بیٹھا۔ شہر میں مسلسل بندوق برداروں کی جانب سے لوگوں کو نشانہ بنانے کے بعد سیکورٹی ایجنسیاں متحرک ہو گئی ہیں اور ایسے افراد کو تلاش کرنے کی خاطر بڑے پیمانے پر کارروائی شروع کی گئی ہیں جو ان واقعات میں ملوث ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں