سرینگر اسکول میں فائرنگ، دو اساتذہ ہلاک

سرینگرکے عید گاہ علاقے میں جمعرات کو نامعلوم بندوق برداروں نے دن دہا ڑے ایک اسکول احاطے میں ایک پرنسپل سمیت دو اساتذہ کو گولیاں برسا کر ابدی نیند سلا دیا۔ حملہ آور اتھل پتھل کے عالم میں پلک جھپکتے ہی جائے واردات سے فرار ہونے میں کامیاب ہوئے تاہم پولیس و فورسز کے ساتھ فوج نے بھی حملہ آور جنگجو ؤں کے خلاف آپریشن شروع کردیا۔

سی این ایس کے مطابق عید گاہ کے سنگم علاقے میں جمعرات کو نامعلوم اسلحہ برداروں نے بائز ہائر سکنڈری اسکول عید گاہ کے احاطے میں گیار ہ بجے کے قریب دو اساتذہ پر گولیاں بر سائیں جس کے نتیجے میں دونوں شدید زخمی ہوگئے۔ پولیس کے مطابق دونوں پر اسوقت حملہ کیا گیا جب وہ اسکول احا طے میں بیٹھے تھے۔

گولیاں چلانے کی آواز سنتے ہی لوگ سراسیمگی کے عالم میں اْدھر ادھر بھاگنے لگے اور اسکول میں موجود تدریسی عملہ اور کم تعداد میں آ ئے طلاب دم بخود ہوکے رہ گئے۔حملہ آور اتھل پتھل کے عالم میں پلک جھپکتے ہی جائے واردات سے فرار ہونے میں کامیاب ہوئے۔ اس دوران اسکو ل کے آ س پاس موجود لوگ اسکول احاطے میں داخل ہوئے جہاں انہوں نے دونوں کو خون میں لت پت پایا۔۔حملے کے بعد فورسزاور پولیس کے کئی سینئر افسران وہاں پہنچ گئے۔

دونوں کو نازک حالت میں شیر کشمیر انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز صورہ منتقل کیا گیا جہاں ڈاکٹروں نے انہیں مردہ قرار دیا۔دونوں سکھ اور کشمیری پنڈت اساتذہ کی شناخت ستیندر کور آ لوچہ باغ سرینگر اور دیپک چند حال بٹہ مالو ساجن جموں کے طور پر کی گئی ہے۔

واقعہ کے ساتھ دونوں مہلوکین کی تصا ویر سوشل میڈیا پر وائر ئل ہوئیں اور لوگ اس واقعہ پر افسوس کر نے لگے۔پولیس اور فورسز اہلکاروں نے آس پاس کے علاقوں کی تلاشی کارروائیوں کا سلسلہ شروع کردیا تاہم کسی کی بھی گرفتاری عمل میں نہیں لائی گئی۔ خیال رہے کہ کہ اس واقعہ سے ایک دن پہلے نامعلوم اسلحہ براداروں نے تین افراد کوہلاک کیا تھا۔ ان میں سالہ مکھن لال بندرو، گو ل گھوپی بیچنے والے ویریندر پاسوان اور ٹیکسی اسٹینڈ کے چیئرمین محمد شفیع لون کا نام شامل ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں