Supinder Kour
Supinder Kour
Supinder Kour

مقتولہ اسکول پرنسپل کی لاش کو لیکرسیول سکریٹریٹ کے باہر دھرنا اور انصا ف کا مطالبہ

عید گاہ سرینگر میں نامعلوم اسلحہ برادروں کے ہاتھوں قتل ہونے والی اسکول پرنسپل کے اہلخانہ، رشتہ داروں اور دیگر احباب و اقارب نے سیول سکریٹریٹ کے باہر دھرنا دیا اور انصاف کا مطالبہ کیا۔ بعد میں مقتولہ پر نسپل کی آ خر ی رسومات کرن نگر جبکہ مہلوک ٹیچرکی آ خر ی رسومات جموں میں ادا کی گئیں۔ سی این ایس کے مطابق جمعرات کو عید گاہ سرینگر کے ایک ہائر سیکنڈری اسکول میں نامعلوم عسکریت جنگجو ؤں کی فائرنگ میں اسکول پرنسپل ستیندر کور اور ٹیچردیپک چند ازجان ہوئے تھے جس کے بعد پوری وادی میں تشویش کی لہردوڑ گئی تھی۔

جمعہ کی صبح سرینگر کے آولوچی باغ علاقے سے آج صبح گیارہ بجے ستیندر کور کے آخری سفر کا آغاز ہو۔ اس موقع پر ماحول غمگین تھاا جس دوران سکھ برادریسے وابستہ لوگوں کی ایک بڑی تعداد، جن میں زیادہ تر مقتولہ کے رشتہ دار شامل تھے، نے مقتولہ کی لاش کو ایک اسٹریچر پر رکھ کر آلوچی باغ سے سیول سکریٹریٹ تک پیدل مارچ کیا اور وہاں پہنچ کر خاموش دھرنا دیا۔

احتجاج میں دیگر مذاہب سے وابستہ افراد موجود تھے۔ مظا ہرین ہم کیا چاہتے انصاف،جس کشمیر کو خون سے سینچا وہ کشمیر ہمارا ہے جیسے نعرے لگارہے تھے۔ انہوں نے اس واقعہ میں ملوث افراد کو جلد از جلد بے نقاب کرنے کا مطالبہ کیا ہے بعد میں وہ پرامن طور دھر نے سے اٹھ گئے جس کے بعد جلوس کی صورت میں اس کی میت کر نگر میں موجود شمشا ن بھومی تک پہنچا ئی گئی جہاں ان کی پر نم آنکھوں اور مایوس چہروں کی موجودگی میں آخری رسومات میں انجام دی گئی۔

اس دوران اس واقعہ میں قتل کئے گیے دیپک چند کی لاش جموں پہنچتے ہی سارا کنبہ غم میں ڈوب گیا اور ہر طرف ماتم چھا گیا۔ آخری رسومات کے لیے دیپک چند کی لاش ترنگے میں لپٹی ہوئی تھی۔ لوگ دیپک چندمر رہیں کے نعرے لگا رہے تھے۔ جس کے بعد ان کی آخری رسومات شاستری نگر کریمیشن گراؤنڈ میں ادا کی گئی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں