کشمیر میں اقلیتی طبقوں کو مکمل تحفظ فراہم کرنے کی مانگ

کشمیر میں اقلیتی طبقوں کو مکمل تحفظ فراہم کرنے کی مانگ
سرینگر9 اکتوبر/سی این ایس/ گر دوارہ پر بند ھک کمیٹی سرینگر نے کشمیر میں اقلیتی طبقوں کو مکمل تحفظ فراہم کرنے کی مانگ کرتے ہوئے سوال کیا ہے کہ کیا بندوق بردار برہان وانی کے والد کو پندرہ اگست کی تقریب میں شرکت کے لیے قتل کریں گے۔گر دوارہ پر بند ھک کمیٹی سرینگر کے صدربڈا سنگھ، جنرل سکریٹری، نوتیج سنگھ شامل اور معرو ف سکھ لیڈرڈاکٹرجوگیند ر سنگھ شان نے ایک مشتر کہ پر یس کانفرنس کیدوران اسکول کے ایک ٹیچر اور اس کے پرنسپل کی نا معلوم بندوق برداروں کے ہاتھوں ہلاکت کی مذمت کرتے ہوئے اقلیتوں کی سلامتی پر تشویش کا اظہار کیا۔ان کا کہنا تھا کہ وادی میں قتل کی وارداتوں کا سلسلہ جاری ہے، ہماری کمیونٹی کے افراد مسلسل خوف میں زندگی گزار رہے ہیں۔انہوں نے کہاکہ بار بار کی گذارشات کے باوجود حکام کی طرف سے اقلیتی برادری کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے کوئی ٹھوس کارروائی نہیں کی گئی ہم اس جگہ کو چھوڑنا نہیں چاہتے، لیکن جب تک ہم محفوظ محسوس نہ کریں۔انہوں نے کہا،کشمیری سکھ کشمیر کا حصہ ہیں اور ہم ہمیشہ اپنے کشمیری مسلمان بھائیوں کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر کھڑے ہیں۔ہمارا ایک مطالبہ ہے کہ حکومت ہمارے لوگوں کو تحفظ فراہم کرے ہم واپس نہیں جا رہے ہیں لیکن حکومت سے ہماری درخواست ہے کہ انہیں ہمیں مضبوط کرنے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہاکہ جموں وکشمیر میں جاری نامسا عد حالات کے دوران سکھوں نے ہمیشہ اکثر یتی طبقے کا ساتھ دیا ہے لیکن گذ شتہ روز سرینگر میں ہمار ی طبقے سے تعلق رکھنے والی ایک خا تون کو قتل کیوں کیا گیا اس کا کیا قصور تھا کیا وہ صرف اس لئے ماری گئی کہ وہ مقامی مسلمان بچوں کو پڑ ھا رہی تھی۔ انہوں نے کہا کہ اگر اس کا قصو ر یہی بتلا یا جا تا ہے کہ اس نے 15 اگست کے روز منعقد ہونے والی تقریب میں شر کت کی تھی کیا وہ برہان وانی کے والد کو بھی اسی طرح قتل کریں گے۔کیا بندوق بردار برہان وانی کے والد کو اس کے اسکول میں پندرہ اگست کی تقریب میں شرکت کے لیے قتل کرنے جا رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ یہ ظلم برداشت نہیں کریں گے۔ انھوں حکومت پر عام لوگوں کی حفاظت کرنے میں ناکام ہونے کا الزام لگایا۔

انہوں نے کہا کہ ہم اس واقعہ کی تحقیقات چاہتے ہیں ہم یہاں کے مسلمانوں کے اس بات کیلئے کا فی مشکور ہیں کہ انہوں نے اس ہلاکت کی مذ مت کی لیکن دکھ اس بات کا ہے جب ہم نے کل جلوس نکالا تو ہو خاموش رہے اور وہ ہمارے جلوس میں شامل نہیں ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے میرواعظ کشمیر مولوی عمر فاروق سے برسوں پہلے ایک ایکارڈ کیا تھا کہ اگر ہمار ے طبقے کا کوئی بھی کسی بھی ایسی غلطی کا مرتکب ہوتا ہے جو کشمیر ی کے جذ بے کوٹھیس پہنچا تی ہے تو ہمیں مطلع کیا جائے تاکہ ہم از خود اس پر سزا کا تعین کر سکے۔ انہوں نے مرکزی حکومت سے اپیل کی ہے کہ وہ لوگوں کو خاص طور پر کشمیر میں رہنے والے اقلیتوں کو تحفظ فراہم کرے اور یہ معلوم کرے کہ کشمیر میں یہ حالات کیسے اور کیوں پیدا ہوئے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں