دیوندر سنگھ رانا کے نیشنل کانفرنس سے اخراج کا معاملہ مودی کے ایک بڑے منصوبے کا حصہ:سیف الدین سوز

سرینگر : سابق مرکزی وزیرپروفیسر سیف الدین سوزنے کہا کہ”دہلی سے ایک جانکار دوست نے مجھے سمجھایا کہ دیوندر سنگھ رانا کے نیشنل کانفرنس سے اخراج کا معاملہ وزیر اعظم مودی کے ایک بڑے منصوبے کا حصہ ہے،جس کے مطابق کشمیر کی صورت حال کی طرف مودی ایک منصوبہ بند طریقے سے متوجہ ہو گیا ہے۔

اس جانکار دوست نے مجھے مزید بتایا کہ اس بڑے منصوبے کا ایک سب پلان یہ بھی ہے جس کے مطابق سرحدی علاقوں مثلاً کرناہ، کیرن، گریز، تلیل، کرگل اور لداخ کی طرف خصوصی توجہ مبذول ہے اور اس سلسلے میں پی ایم او اور وزارت داخلہ میں خصوصی سیل قائم کئے گئے ہیں.

اُس نے مجھے سمجھایا کہ مثال کے طور بی جے پی نے گریز میں ایک سرکردہ سیاسی کارکن فقیر خان کی طرف خصوصی توجہ دی اور اُس کی اقتصادی زندگی میں خاطر خواہ بدلاؤ لایا اور اب وہ تن من سے گریز اور تُلیل کے علاقوں میں اپنے بیٹے کے ساتھ بی جے پی کا پروگرام کامیابی سے چلارہا ہے۔اب یہی عمل کرناہ، کیرن، کرگل اور لداخ پر مکمل طور محیط ہوگا!دہلی کے اس جانکار نے بتایا کہ دیوندرسنگھ رانا کی بی جے پی میں شمولیت،ایک بڑے منصوبے کا حصہ ہے،جس کی طرف وزیر اعظم مودی اور وزیر داخلہ امیت شاہ کی توجہ براہ راست مبذول ہے۔

اب اگلے دنوں میں دیکھنا ہوگا کہ آیا کشمیر کی مین اسٹریم جماعتوں کا سنگٹھن اس طرف متوجہ ہوتا ہے یا نہیں یا وہ بیان بازی تک ہی محدود رہے گا۔ادھر دوسری طرف یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے کہ اگر ہم بُرے حالات میں گھرے ہوئے ہیں،تو اگلے دنوں میں اور زیادہ مشکل حالات پیدا ہو سکتے ہیں،اسی لئے عوامی حلقوں میں یہ رائے پیدا ہو رہی ہے کہ کشمیر کی مین اسٹریم جماعتوں کو قابل عمل طریقے سے متحّد ہونا چاہئے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں