شوپیان میں دو مسلح خونین معرکہ آ را ئیاں، پانچ جنگجو ہلاک۔ رہاشی مکان زمین بوس

مہلوک جنگجوؤں میں سے ایک پانی پوری بیجنے والے غیر ریاستی باشند ے کی ہلاکت میں ملوث تھا۔ پولیس
سرینگر: واد ی کے شمال وجنو ب میں جنگجومخا لف کاروائیوں میں تیز ی آ نے کے بیچ جنوبی قصبہ شوپیان میں دو مسلح خونین معرکہ آ رائیوں کے دوران لشکر طیبہ کی ذیلی تنظیم ٹی آر ایف سے وابستہ 5 جنگجو مارے گئے جبکہ ایک رہاشی مکان زمین بوس ہو گیاہے۔کشمیر پولیس زون کے انسپکٹر جنرل وجے کمار نے نے جنگجوؤں کی ہلاکت کو ایک بڑی کامیابی قرار دیتے ہوئے کہا کہ مہلوک جنگجوؤں میں سے ایک کی شناخت مختار شاہ ساکن گاندربل کے بطور ہوئی ہے جو سری نگر میں بہار سے تعلق رکھنے والے مزدور وریندر پاسوان کی ہلاکت میں ملوث تھا۔

سی این ایس کے مطابق شوپیان کے تلرن امام صاحب علاقے میں جنگجو ؤں کے چھپے ہونے کی مخفی اطلاعات ملی تھی، جس کے بعد انہوں نے علاقے کا محاصرہ کیا اور تلاشی کارروائی شروع کردی۔لوگوں نے بتایا کہ شام8بجے تک جنگجوؤں کو ہتھیار ڈالنے پر قائل کرنیکی کوششیں کی گئیں لیکن وہ کامیاب نہ ہوسکی اسکے بعد پولیس کے ایک ڈی ایس پی نے اپیلیں کیں اور علاقے کے معززین کی خدمات بھی حاصل کی گئیں جنہوں نے جنگجوؤں کو قائل کرنا چاہا لیکن سبھی کوششیں بے سود ثابت ہوئیں.

اسکے بعد 9بجکرپانچ منٹ پر جنگجوؤں کیخلاف فورسز کا آپریشن شروع کیا گیا جو دن کے 12بجکر 30منٹ تک جاری رہا۔معلوم ہوا ہے کہ جھڑپ کے ساتھ ہی فورسز کی مزید کمک طلب کی گئی جبکہ علاقے کو پوری طرح سیل کر دیا گیا اور جنگجوؤں کے فرار ہونے کے تمام راستے کو سیل کر دیا گیا۔ اس دوران مکان پر مارٹر شلنگ بھی کی گئی جس سے مکان کو شدید نقصان پہنچا اور تینوں جنگجو جاح بحق ہوئے فائرنگ کا تبادلہ تھم جانے کے ساتھ ہی جھڑپ کے مقام سے تلاشی کے دوران تین جنگجو کی لاش بر آمد کر لی گئی اور اس کے قبضے سے ہتھیار بھی بر آمد کر لیا گیا۔

فورسز کا دعویٰ ہے کہ یہ ایک بڑی کامیابی ہے کیونکہ یہ تینوں جنگجو کئی مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث تھے۔ پولیس نے اپنے بیان میں بتایا کہ مارے گئے تین جنگجوؤں میں ضلع گاندربل کا رہنے والا مختار احمد شاہ بھی شامل ہے جو پولیس کے مطابق سرینگر میں حالیہ ایک پانی پوری بیچنے والے کی ہلاکت میں شامل تھا۔ فورسز نے تینوں جنگجوؤں کو سرینڈر کرنے کی اپیل بھی کی تھی لیکن انہوں نے پولیس پر فائرنگ کردی اور جوابی کارروائی میں تینوں جنگجومارے گئے۔

جھڑ پ کے دوران جس مکان میں جنگجو موجود تھے اس مکان کو نذر آتش کرکے زمین بوس کردیا گیا ہے۔ مہلوک جنگجوؤں کی تحویل سے اسلحہ و گولہ بارود کے علاوہ کچھ قابل اعتراض مواد بھی بر آمد کیا گیا۔اھر سرکاری ذرائع نے بتایا کہ جنگجوؤں کے چھپنے کی اطلاع موصول ہونے پر فوج کی 34 آر آر، سی آر پی ایف کی 14 بٹالین اور پولیس کی ایک مشترکہ ٹیم نے شوپیاں کے فری پورہ گاؤں کو محاصرے میں لیااور تلاشی کارورائی شروع کر دی۔

ذرائع کے مطابق علاقے میں اس وقت گولیوں کی گن گرج سنائی دی جب فوج و فورسز اہلکاروں نے بستی کی طرف پیش قدمی کی کوشش کی جس میں جنگجوؤں چھپے بیٹھے تھے تو بستی میں موجود جنگجوؤں نے فرار ہونے کی کوشش میں اندھا دھند گولیاں برسائی۔ گولیوں کی گن گرج کے ساتھ ہی علاقے کے لوگ گھروں میں سہم کر دہ گئے جبکہ ابتدائی فائرنگ کے ساتھ ہی فوج و فورسز نے علاقے کا محاصرہ تنگ کر دیا اور فوج و فورسز کی مزید کمک طلب کر لی گئی جس کے ساتھ ہی پورے علاقے کو سیل کرکے جنگجوؤں کے خلاف آپریشن شروع کر دیا گیا۔ ذرائع نے بتایا کہ ابتدائی گولی باری میں دو عدم شناخت جنگجو ہلاک ہوئے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں