ترال میں ایک خونین معرکہ آ را ئی: جیش محمدکا اعلی کماندر شمہ صوفی مارا گیا

سرینگر :جنوبی قصبہ ترال میں ایک خونین معرکہ آ را ئی کے دوران جیش محمدکا ایک اعلی کماندر شمہ صوفی مارا گیا۔سی این ایس کے مطابق ترال کے تیلونی محلہ واوگنڈعلاقے میں جنگجو ؤں کے چھپے ہونے کی مخفی اطلاعات ملی تھی، جس کے بعد انہوں نے علاقے کا محاصرہ کیا اور تلاشی کارروائی شروع کردی۔

ذرائع کے مطابق علاقے میں اس وقت گولیوں کی گن گرج سنائی دی جب فوج و فورسز اہلکاروں نے بستی کی طرف پیش قدمی کی کوشش کی جس میں جنگجوؤں چھپے بیٹھے تھے تو بستی میں موجود جنگجوؤں نے فرار ہونے کی کوشش میں اندھا دھند گولیاں برسائی۔ پولیس نے وہاں موجود جنگجوؤں کو ہتھیار ڈالنے پر قائل کرنیکی کوششیں کی گئیں لیکن سبھی کوششیں بے سود ثابت ہوئیں۔

گولیوں کی گن گرج کے ساتھ ہی علاقے کے لوگ گھروں میں سہم کر دہ گئے جبکہ ابتدائی فائرنگ کے ساتھ ہی فوج و فورسز نے علاقے کا محاصرہ تنگ کر دیا اور فوج و فورسز کی مزید کمک طلب کر لی گئی جس کے ساتھ ہی پورے علاقے کو سیل کرکے جنگجوؤں کے خلاف آپریشن شروع کر دیا گیا۔معلوم ہوا ہے کہ جھڑپ کے ساتھ ہی فورسز کی مزید کمک طلب کی گئی جبکہ علاقے کو پوری طرح سیل کر دیا گیا اور جنگجوؤں کے فرار ہونے کے تمام راستے کو سیل کر دیا گیا۔

ہی جھڑپ کے مقام سے تلاشی کے دوران جیش محمدکا ایک اعلی کماندر شمہ صوفی نامی جنگجو کی لاش بر آمد کر لی گئی اور اس کے قبضے سے ہتھیار بھی بر آمد کر لیا گیا۔ فورسز کا دعویٰ ہے کہ یہ ایک بڑی کامیابی ہے کیونکہ یہ جنگجو کئی مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث تھا۔کشمیر زون پولیس کے انسپکٹر جنرل وجے کمار نے اپنے ایک ٹویٹ میں کہا کہ ترال تصادم میں جیش محمد نامی جنگجو تنظیم سے وابستہ ایک اعلیٰ کمانڈر ہلاک ہوا ہے۔انہوں نے مہلوک کمانڈر کی شناخت شام صوفی کے بطور کی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں