این آئی اے کی وادی کشمیر میں 16 مقامات پر چھاپے مار کا روائی

این آئی اے نے چھاپوں کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے سرینگر، پلوامہ اور شوپیاں اضلاع میں 16 مقامات پر چھاپے مار کر چار مشتبہ جنگجو اعانت کاروں کو گرفتار کیا ہے۔ اس دوران قومی تحقیاتی ایجنسی (این آئی اے) کے ڈائریکٹر جنرل کلدیپ سنگھ بدھ کے روز سری نگر پہنچے یہاں انہوں نے سکیورٹی اور انٹلی جنس افسران کے ساتھ میٹنگیں کیں۔

سی این ایس کے مطابق این آئی اے کے ایک بیان میں کہا کہ ملی ٹنسی سازش کیس کے سلسلے میں این آئی اے نے سری نگر، پلوامہ اور شوپیاں اضلاع میں سولہ مقامات پر چھاپے مار کر چار لوگوں کو گرفتار کیا ہے۔انہوں نے گرفتار شدگان کی شناخت وسیم احمد صوفی ساکن چھتہ بل سری نگر، طارق احمد ڈار ساکن شیر گڑھی سری نگر، بلال احمد میر ساکن پارمپورہ سری نگراور طارق احمد بفنڈو ساکن راجوری کدل سری نگر کے بطور کی ہے

۔وادی کشمیر میں حالیہ شہری ہلاکتوں اور مسلح تصادم آرائیوں میں تیزی کے بیچ موجودہ صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے قومی تحقیاتی ایجنسی (این آئی اے) کے ڈائریکٹر جنرل کلدیپ سنگھ بدھ کے روز سری نگر پہنچے۔سرکاری ذرائع نے بتایا کہ اپنے یک روزہ دورے کے دوران کلدیپ سنگھ یہاں سینیئر سکیورٹی اور انٹلی جنس افسران کے ساتھ میٹنگیں کیں جس کے بعدوہ شام کو ہی دہلی روانہ ہوئے۔خیا ل رہے کہ قومی تحقیقاتی ایجنسی نے منگل کی صبح شوپیان، پلوامہ اور بڈگام کے متعدد مقامات پر چھاپہ مارکاروائی کی تھی جس دوران پلوامہ کے گلبْگ علاقے میں این آئی اے نے اویس احمد ڈار کے گھر پر چھاپہ مارا۔

اس دوران ان کے گھر سے تین موبائیل فون ضبط کئے گئے ہیں۔ اویس احمد ڈار پچھلے تین دنوں سے پولیس حراست میں ہیں اور آج ان کے گھر پر چھاپہ مارا گیا بعد میں این آئی اے کی طرف سے جاری بیان میں کہا گیا تھا کہ منگل کو دہلی، این سی آر، اترپردیش اور جموں وکشمیر کے کئی مقامات پر چھاپہ ماری کی ہے۔بیان میں کہا گیا تھا کہ ریزسٹنس فرنٹ سمیت مختلف عسکری تنظیموں کے اوور گراونڈ ورکرس سے جڑے نئے معاملے میں جموں وکشمیر کے16 ٹھکانوں پر چھاپہ ماری کی گئی ہے گے کہ گزشتہ28 مہینوں سے مسلسل غیر قانونی اور غیر اخلاقی طور پر نظر بند رکھے گئے انجمن اوقاف کے سربراہ جناب میرواعظ ڈاکٹر مولوی محمد عمر فاروق کی نظربندی بھی ہٹا لی جائیگی تاکہ موصوف صدیوں پر محیط اپنے اکابر و اسلاف میرواعظین کشمیر کے طرز پر قال اللہ وقال الرسولؐ پر مبنی مواعظ حسنہ مرکزی جامع مسجد کے منبر و محراب سے ادا کرکے نہ صرف اپنی منصبی ذمہ داریاں پورے کرسکیں بلکہ ماہ ربیع الاول کی مناسبت سے شہر و گام میں کشمیری سماج کو درپیش گوناگوں مسائل کے تئیں عوامی رہنمائی کا فریضہ انجام دے سکیں .

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں