مسلسل ہلاکتوں کے بعد غیرریاستی مزدوروں میں خوف طاری ہزاروں سرکاری عمارتوں میں منتقل

غیر ریاستی باشندوں پر ہورہے حملوں کو لے کر پوری وادی میں تشویش کی لہر کے بیچ انتظامیہ نے ہزاروں غیر ریاستی مزدوروں کو سرکاری عمارتوں میں منتقل کیا گیاہے جبکہ غیر سوموار کوغیر ریاستی مزدور، کاریگر اور تاجر وادی کشمیر چھوڑ کر آبائی ریاستوں کو لوٹ رہے ہیں۔ اس سلسلے میں نوگام ریلو ئے اسٹیشن اورٹی آ ر سی سرینگر میں غیر ریاستی مزدروں کا کافی رش دیکھا گیا۔

سی این ایس کے مطابق کولگام کے ونپوہ علاقہ میں اتوار کی شام نامعلوم بندوق برداروں نے مبینہ طور پر دو غیر مقامی مزدوروں کو ہلاک کردیا ہے، جبکہ ایک تیسرا شخص زخمی ہوا ہے۔کولگام میں دو غیر مقامی مزدوروں کی ہلاکت سے محض 24 گھنٹے قبل یعنی ہفتے کی شام سرینگر اور پلوامہ اضلاع میں ٹارگیٹ کلنگ کے دو الگ الگ واقعات میں دو غیر مقامی مزدور مارے گئے تھے۔ان حملوں کے بعدکشیدگی میں وقت کے ساتھ اضافہ ہو رہا ہے.

پولیس نے ان ہلاکتوں کے لئے جنگجوؤں کو ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔ادھران ہلاکتوں سے یہاں کام کرنے والے ان مزدوروں میں خوف طاری ہوا ہے اور وہ اب اپنے گھروں کی جانب روانہ ہو رہے ہیں۔ ان پر مسلسل حملوں کے بعد وادی بھر میں خوف کا ماحول پیدا ہوگیا ہے ان کی سلامتی کو لیکرمختلف مقامات پر بھی چوکیاں لگائی گئی ہیں جن میں اضافی نفری کو بھی تعینات کیا گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق فورسز کو انٹیلیجنس ایجنسیوں کی جانب سے کچھ مخصوص اطلاع ملی ہے جس کے بعد یہ سکیورٹی اقدامات کئے گئے ہیں۔ اگر چہ سوشل میڈیا پر اتوار کی شام ایک آر ڈر جاری ہوا تھا کہ جس میں پولیس کو یہ ہدایت جاری کی گئی تھی کہ وہ کشمیر میں کام کر رہے تمام غیر مقامی مزدوروں کو متعلقہ پولیس اسٹیشن، آرمی کیمپوں میں لائیں تاہم پولیس نے اس آرڈر کاپی کو فرضی بتاتے ہوئے اس کی تردید کی ہے۔

اس کے باوجود بھی اتوار کی شام سے غیر ریاستی باشندوں کی سلامتی کو یقینی بنانے کیلئے انہیں محفوظ مقامات پر منتقل کیا جاہا ہے۔ سوپور قصبہ اور اسکے اردگر د میں موجود غیر ریاستی باشندوں کو ڈگر ی کالیج منتقل کیا گیا۔صفاپورہ گاندربل میں مقیم غیرریاستی باشندوں کو سینک اسکول مانسبل میں رکھا گیا۔ اسی طرح وادی کے تمام علاقوں سے ان غیر ریاستی باشندوں کو منتقل کرکے محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا ہے تاکہ ان کی حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے۔ بتایا جاتا ہے کہ مسلسل حملوں کے بعد غیرریاستی مزدور جن میں نائی، ترکھان، پینٹرس وغیرہ کے علاوہ سڑکوں کی مرمت کا کام کرنے والے مزدور بھی شامل ہیں، وادی چھوڑنے پر مجبورگئے ہیں جس کے باعث کئی کام متاثر ہو سکتے ہیں۔گذ شتہ دس روز سے اس صورت حال کے باعث غیر مقامی مزدور، کاریگر اور تاجر بھی وادی چھوڑ کر آبائی ریاستوں کو جا رہے ہیں۔

سرینگر کے ٹیورسٹ رسپشن سنٹر پر صبح سے ہی یہ غیر مقامی مزدور اپنا سامان لے کر روانہ ہو رہے ہیں۔ہر سال موسمِ بہار کی آمد پر بہار، اْتر پردیش، مغربی بنگال اور دیگر ریاستوں سے لاتعداد کاریگر اور مزدور بہتر روزگار کے مواقع سے فائدہ اٹھانے کے لیے اہل خانہ کے ہمراہ کشمیر کا رخ کرتے ہیں جبکہ موسم بدلتے ہی یہ لوگ واپس چلے جاتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں