وزیر داخلہ کا دورہ کشمیر صرف اکتوبر میں وادی میں 11 عام شہری ہلاکتوں کے پس منظر پر مبنی

مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ جموں وکشمیر کے اپنے تین روزہ دورے پر سرینگر پہنچ گئے ہیں جہاں انہوں نے اپنے تین روزہ دورے کے پہلے دن سرینگرکے ہوائی اڈے پر سرینگر اور متحدہ عرب امارات میں پہلی بین الاقوامی پرواز کا براہ راست افتتاح کیا۔ مرکزی وزیر داخلہ نے ہفتہ کے روز وادی کشمیر میں عام شہریوں بالخصوص غیر مقامی مزدوروں اور اقلیتوں پر حملوں کے تناظر میں سیکورٹی صورتحال اور عسکریت پسندی سے نمٹنے کے لیے اٹھائے گئے اقدامات کا جائزہ لیا۔اس دوران وزیر داخلہ کو وزیر داخلہ کو جموں و کشمیر سے عسکریت پسندی کے خاتمے کے لیے اٹھائے گئے اقدامات اور فورسز کی جانب سے انسداد دراندازی کے اقدامات کے بارے میں جانکاری دی گئی۔ایس این ایس کے مطابق 5اگست 2019کوجموں وکشمیر کی خصوصی پوزیشن اور دفعہ 370اور 35-Aکو مرکزی سرکار کی طرف سے منسوخ کئے جانے کے بعد وزیر داخلہ امت شاہ کا یہ یوٹی کا پہلا دورہ ہے۔وزیر داخلہ نے سرینگرکے راج بھون میں منعقدہ اجلاس میں سیکورٹی منظر نامے کا جائزہ لیاجس میں سول انتظامیہ کے اعلیٰ عہدیداروں نے شرکت کی جن میں لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا، فوج، سی آر پی ایف، پولیس اور دیگر ایجنسیوں کے سینئر سیکورٹی حکام شامل تھے۔

ایس این ایس کے مطابق اجلاس کے دوران سیکورٹی میٹنگ کی صدارت کرتے ہوئے انہوں نے یوتھ کلبوں کے ممبران کے ساتھ بات چیت بھی کی۔واضح رہے کہ امت شاہ کا دورہ کشمیر وادی میں حالیہ شہری ہلاکتوں کے پس منظر میں سامنے آیا ہے۔ ان شہری ہلاکتوں میں ہلاک ہونے والوں میں سے پانچ بہار کے مزدور تھے جبکہ تین اساتذہ سمیت کشمیر میں اقلیتی برادریوں سے تعلق رکھتے تھے۔مرکزی وزیر داخلہ کے مرکز کے زیر انتظام دورہ سے قبل سرینگر میں متعدد جگہوں پر ٹریفک کی نقل وحمل پر پابندیاں عائد کی گئیں جبکہ سخت حفاظتی بندوبست کے بیچ بائیکوں اور سکوٹیوں کی باریک بینی سے چھان بین کی گئی۔سرکاری ذرائع کے مطابق حالیہ شہری ہلاکتوں کے تناظر میں اضافی نیم فوجی دستوں کی 50 کمپنیاں وادی میں شامل کی جا رہی ہیں۔ذرائع کے مطابق نیم فوجی CRPF کے زیر انتظام بنکر شہر کے کئی علاقوں کے ساتھ ساتھ وادی کشمیر کے دیگر حصوں میں بھی آئے ہیں۔

ایس این ایس کوپولیس ذرائع سے ملی تفصیلات کے مطابق جموں وکشمیر میں حالیہ شہری ہلاکتوں کے بعد مرکز کے زیر انتظام علاقے میں تقریباً 7سولوگوں کو حراست میں لیاگیاہے جن میں سے کچھ افراد پر پی ایس اے یعنی پبلک سیفٹی ایکٹ بھی لگا دیا گیاہے۔دریں اثناء 26قیدیوں کو پبلک سیفٹی ایکٹ 1978کے تحت جموں اورسرینگر کی مختلف جیلوں سے نکال کر وادی کے باہر آگرہ سینٹرل جیل منتقل کیا گیا ہے۔

اس بیچ وزیر داخلہ امت شاہ نے نوگام سرینگر جا کر جنگجوؤں کے ہاتھوں مارے گئے پولیس انسپکٹر پرویز احمد کے لواحقین کے ساتھ تعزیت کی اور مہلوک کی بیوی فاطمہ کے ساتھ ملاقات کرکے اسے سرکاری ملازمت کے کاغذات پیش کئے۔اس موقعے پر وزیر داخلہ کے ہمراہ جموں وکشمیر کے لیفٹنٹ گورنر منوج سنہا،مرکزی وزیر ڈاکٹر جتندر سنگھ اور ڈائریکٹر جنرل پولیس دلباغ سنگھ بھی تھے۔ایس این ایس کے مطابق مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ جموں وکشمیر کے تین روزہ دورے پر ہیں تاکہ یوٹی میں سیکورٹی صورتحال کا جائزہ لے سکیں۔واضح رہے کہ 5اگست 2019کو جموں وکشمیر کی خصوصی پوزیشن اوردفعہ 370اور 35-Aکے خاتمے کے بعد مرکزی وزیر داخلہ کا یہ جموں وکشمیر کا پہلا دورہ ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں