جموں وکشمیر میں خصوصی پوزیشن اور ریاستی درجے کی بحالی تک امن لوٹ آنے کی کوئی اُمید نہیں: ڈاکٹر فاروق

جموں وکشمیر میں تب تک امن لوٹ آنے کی کوئی اُمید نہیں جب تک نہ یہاں کی خصوصی پوزیشن اور ریاستی درجے کو واپس نہیں کیا جاتاہے، جو لوگ دفعہ370اور35-A کے خاتمے کولیکر بلند بانگ دعوے کرتے تھے اُن کے دعوے آج زمینی صورتحال دیکھ کر ریت کی دیوار ثابت ہوجاتے ہیں۔

ایس این ایس کے مطابق ان باتوں کا اظہار نیشنل کانفرنس کے صدر اور رکن پارلیمان ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے صوبہ جموں کے اپنے دورکے چوتھے روز حلقہ انتخاب نوشہرہ کے سندر بندی اور حلقہ انتخاب کالاکوٹ میں پارٹی کارکنوں اور عہدیداروں کے اجتماعات سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ برستی بارشوں کے باوجود بھی یوتھ نیشنل کانفرنس کے کارکنوں نے ڈاکٹر فاروق عبداللہ کا پُرتپاک خیر مقدم کیا۔اُن کے ہمراہ پارٹی جنرل سکریٹری حاجی علی محمد ساگر، معاون جنرل سکریٹری ڈاکٹر شیخ مصطفےٰ کمال، صوبائی صدر جموں ایڈوکیٹ رتن لعل گپتا، خالد نجیب سہروردی، مشتاق گورو، صدرِ صوبہ یوتھ اعجاز جان، انچارج کانسچونسی یشو وردن سنگھ اور دیگر لیڈران بھی تھے۔

ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا کہ جو لوگ کہتے تھے کہ دفعہ370ختم ہونے کے بعد تمام مسائل حل اور حالات ٹھیک ہوجائیں گے، اُن سے آج سوال کیا جانا چاہئے کہ کشمیر میں جو کچھ ہورہا ہے کہ وہ کیوں ہورہا ہے؟انہوں نے کہا کشمیر میں تب تک امن نہیں آئے گا جب تک نہ جموں وکشمیر کی خصوصی پوزیشن اور ریاستی درجہ کو بحال نہیں کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ بی جے پی الیکشن جیتنے کیلئے ہند کو الگ اور مسلمانوں کو الگ کررہی ہے۔ یو پی کے الیکشن کے پیش نظر فرقہ پرستی کو پھر ایک بار ہوا دی جارہی ہے اور یہ ایک خطرناک رجحان ہے۔ ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا کہ ہمیں تقسیمی عناصر کا توڑ کرنا ہے اور اس کے لئے ہندوؤں، مسلمانوں، سکھوں اور دیگر مذاہب سے تعلق رکھنے والے افراد کو مل کر کام کرنا ہے۔ایس این ایس کے مطابق انہوں نے اس بات پر خوشی کا اظہار کیا کہ کالاکوٹ میں ہندو، مسلم اور سکھ متحد ہیں اور مجھے اُمید ہے یہاں کے لوگ ہمیشہ آپسی ہم آہنگی اور بھائی چارے کی مشعل کو فروزان رکھیں گے۔

ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا کہ یہاں سے ہمارے 3ڈی ڈی سی ممبر جیت کر آئے ہیں، ان میں سے دو ہندو ہیں اور ایک مسلمان ہے، یہی نیشنل کانفرنس کی خصوصیت ہے،یہ ہر ایک مذہب اور ہر طبقے کے لوگوں کی اپنی جماعت ہے اور اس جماعت نے کبھی بھی کسی کیساتھ امتیازی سلوک نہیں کیا۔ کالاکوٹ کی تقریب میں شرمتی انیتا ٹھاکر(ڈی ڈی کالاکوٹ)، شری رمیشور سنگھ(ڈی ڈی ڈانگری)، شمیم اختر(ڈی ڈی سی موگلا، سوکیلاکا کوتوال(بی ڈی سی موگلا)، پروین اختر(بی ڈی سی ڈانگری)، بھوشن اوپل(ضلع صدر) اور دیگر عہدیداران بھی موجود تھے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں