امیت شاہ نے تولہ مولہ گاندربل میں واقع ماتا کھیر بھوانی پہنچ کر حاضری دی اور مندر میں پوجا کی

سرینگر/ جموں وکشمیر کے تین روزی دورے پر آئے ہوئے مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے کہا ہے کہ وادی کشمیر میں کسی کو بھی امن وامان میں رخنہ ڈالنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔جموں و کشمیر کے تین روزی دورے کے آخری دن آج سرینگر کے ایس کے آئی سی سی میں ایک جلسی عام سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ جموں وکشمیر میں اب تک سیکورٹی دستوں کے اہلکاروں، ملی ٹینٹوں اور عام شہریوں سمیت 40ہزار لوگ مارے گئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ وقت آگیا ہے کہ خونریزی سے باہر آیا جائے اور امن،ترقی اور خوشحالی کا ایک نیا دور شروع کیا جائے۔ایس این ایس کے مطابق انہوں نے کہا کہ وہ وعدہ کرتے ہیں کہ سابقہ ریاست جموں وکشمیر کو 2024 تک وہ سب کچھ ملے گا جس کی یہ مستحق ہے۔نیشنل کانفرنس اور پی ڈی پی سیاسی جماعتوں کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان دو جماعتوں کے لیڈران نے کبھی بھی ایسے لوگوں کی مذمت نہیں کہ جنہوں نے معصوم شہریوں کو ہلاک کیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ وہ وقت چلا گیا جب ملی ٹینٹ صورتحال کا استحصال کررہے تھے اور اب کسی کو بھی یہاں کی صورتحال میں رخنہ ڈالنے اور بے گناہ لوگوں کو قتل کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ انہوں نے یقین دلایا کہ جموں وکشمیر میں امن و امان برقرار رہے گا۔وزیر داخلہ نے ان افواہوں کے حوالے سے کہ دفعہ 370 اور 35-A کی تنسیخ کے بعد جموں وکشمیر کے عوام کی زمین اور روزگار چھینا جائے گا،کہاکہ کسی بھی ایک گاؤں میں ایک ایسی نے مثال پیش کی جائے جہاں کسی بھی باشندے کی زمین چھین گئی ہو۔

انہوں نے کہا کہ جموں وکشمیر کے لیفٹنٹ گورنر منوج سنہا کی قیادت کے تحت روزگار کے 20ہزار مواقعے فراہم کئے گئے جبکہ 6ہزار مزید مواقعے دئے جارہیہیں۔انہوں نے کہا کہ اقرباء پروری اور رشوت ستانی کا خاتمہ ہوا ہے۔انہوں نے کہا کہ اب ہمارے پاس نوجوان سرپنچ،پنچ اور دیگر نمائندے موجود ہیں جو پارلیمنٹ اور اسمبلی ممبر بننے کے ساتھ ساتھ وقت آنے پر وزیر اعلیٰ بھی بن سکتے ہیں اور جموں وکشمیر میں ایسا وزیر اعلیٰ ہوگا جو یہاں کے اضلاع میں عام لوگوں کے ساتھ رہے گا۔امت شاہ نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں سرکار نے جموں وکشمیر کو میڈیکل کالج،ایمز اور آئی ٹی آئیز کے ساتھ دیگر ادارے دئے اور جموں وکشمیر میں 30ہزار پنچائتی نمائندے ہیں۔وزیر موصوف نے کہا کہ جموں وکشمیر میں ملی ٹینسی گھٹ رہی ہے اوریہاں اب بندوق کے بجائے قلم سے مسائل حل کرنے کے پھل نکلنا شروع ہوگئے ہیں۔

انہوں نے نیشنل کانفرنس اور پی ڈی پی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ جماعتیں پاکستان اور حریت کے ساتھ بات چیت کرنے کی وکالت کرتی ہیں اور اس طرح وہ اقتدار کے مزے لوٹنے کیلئے کشمیر کی معیشت کا گلا گھونٹتے رہے۔انہوں نے کہا کہ وہ یہ بات واضح کرناچاہتے ہیں کہ اگرمسئلہ کشمیرپر کسی سے بات کی جائے گی تو وہ جموں وکشمیر کے عوام اور نوجوان ہی ہوں گے۔

اس سے قبل مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ نے پیر کو گاندربل ضلع میں ماتا کھیر بھوانی مندر میں حاضری دی اور یہاں پوجا کی۔ایس این ایس کو نمائندے سے ملی تفصیلات کے مطابق مرکزی وزیر داخلہ جو جموں کشمیر کے تین روزہ دورے پر ہیں نے پیر کی صبح تولہ مولہ گاندربل میں واقع ماتا کھیر بھوانی پہنچ کر حاضری دی اور مندر میں پوجا کی۔ اْن کے ہمراہ لفٹنٹ گورنر منوج سنہا اور دیگر افسران بھی تھے۔ وزیر داخلہ کے آمد کے حوالے سے ضلع میں سیکورٹی کے غیر معمولی انتظامات کئے گئے تھے جس دوران ٹریفک کی آواہ جاہی بھی کچھ دیر تک متاثر ہوء واضع رہے ماتا کھیر بھوانی کشمیری پنڈتوں کا ایک مقدس اور کافی اہمیت کا حامل مندر ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں