‘دِلّی اور جموں وکشمیر کے درمیان اعتماد کی بحالی وقت کی اہم ضرورت’

سرینگر/ایس این ایس/25 اکتوبر/نئی دلی اور جموں وکشمیر کے درمیان اعتماد کی بحالی کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیتے ہوئے صدرِ نیشنل کانفرنس ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا ہے کہ جب تک یہ اعتماد بحال نہیں ہوگا اُس وقت تک یہاں کے حالات ٹھیک نہیں ہوسکتے۔ایس این ایس کے مطابق ان باتوں کا اظہار انہوں نے آج صوبہ جموں کے دورے کے چھٹے روز منڈی پونچھ میں ایک عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

اس موقعے پر پارٹی جنرل سکریٹری حاجی علی محمد ساگر، معاون جنرل سکریٹری ڈاکٹر شیخ مصطفےٰ کمال، صوبائی صدر جموں ایڈوکیٹ رتن لعل گپتا، سینئر لیڈران خالد نجیب سہروردی، سید مشتاق بخاری، اعجاز جان، ہرچند سنگھ خالصا اور اسرار خان کے علاوہ دیگر لیڈران اور عہدیداران بھی موجود تھے۔ صدرِ نیشنل کانفرنس کانفرنس نے کہا کہ ”24جون کو جب وزیر اعظم ہند نے جموں وکشمیر کی کُل جماعتی میٹنگ طلب کی تھی میں نے اُسی وقت وزیر عظم سے کہا کہ ’آپ کو ہم پر اعتماد نہیں اور ہم کو آپ پر اعتماد نہیں‘ اور جب تک اس اعتماد کو بحال نہیں کیا جاتا اُس وقت تک ریاست کبھی بھی امن نہیں آئے گاا ور وزیر اعظم نے اس بات کو تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ ”دل کی دوری اور دلی کی دوری“کو ختم کرنے کی ضرورت ہے لیکن آج اتنے ماہ ہونے کے بعد بھی اس سمت میں کوئی اقدام نہیں اُٹھایا گیا، نہ دل کی دوری ختم ہوسکی اور نہ دلی کی دوری کم ہوئی۔

یہاں منتری بھیجے گئے لیکن وہ صرف اور صرف دکھاوا ہی ثابت ہوا اور ان وزراء کا یہاں آنے سے زمینی سطح پر کوئی فرق نہیں پڑا۔ انہوں نے کہا کہ دفعہ370اور 35اے کے خاتمے کے بعد مرکزی حکومت نے دعوے کئے تھے کہ تمام مسائل ختم ہوگئے ہیں اور اب آتنکواد کیلئے کوئی جگہ نہیں لیکن آج آتنکواد اتنا بڑگیا ہے کہ اس کو ختم کرنا انتہائی مشکل دکھائی دے رہا ہے۔ مرکز نے 9اگست2019کو جموں وکشمیر کے لوگوں کیساتھ جو وشواس گھات کیا اُس کا خمیازہ آج یہاں کے لوگوں کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب تک آپ یہاں کے ہندؤں، مسلمانوں، سکھوں اور بودھوں کیساتھ انصاف نہیں کریں گے تب تک یہاں حالات کے سدھار کا کوئی امکان نہیں۔

عوام سے اپنے حقوق کیلئے جدوجہد جاری رکھنے کی اپیل کرتے ہوئے ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا کہ مشکلیں بہت آئینگی، یہ اللہ کی طرف سے ہمارے لئے امتحان ہے اور ہمیں اس میں ثابت قدم رہنے کی ضرورت ہے، اسی صورت میں ہم سرخرو ہوسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دفعہ370اور 35اے ہمیں مشروط الحاق کی بنیاد پر ملے تھے اور ملک کی سب سے بڑی عدالت نے دو بار دفعہ370کو مستقل قرار دیا ہے اور کہا کہ یہ دفعہ عارضی نہیں ہے لیکن بھاجپا نے اپنے ایجنڈا کے تحت اس کو ختم کردیا اور نتیجہ سب کے سامنے ہے، جس امن کے قیام کے دعوے کئے جارہے تھے وہ کہیں موجود نہیں ہے، آج وزیر داخلہ امیت شاہ بھی سرینگر یہی دیکھنے آئے ہیں کہ امن کیسے قائم ہوگا۔ امن و امان کیلئے پاکستان کیساتھ بات چیت کو ضروری قرار دیتے ہوئے ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا کہ جب تک مسئلہ کشمیر کو پاکستان کیساتھ مل بیٹھ کر حل نہیں کیا جائے گا اُس وقت تک امن نہیں آئے گا۔ اس سے پہلے کہ جنگ کی صورت حال پیدا ہوجائے اس مسئلے کو سلجھانے میں ہی عقلمندی ہے اور یہی ایک واحد راستہ ہے۔

عوام کو تقسیمی عناصر سے ہوشیار کرتے ہوئے ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا کہ ہر علاقے میں ایسے افوا باز رکھے گئے ہیں جو نفرتیں پھیلانے کا کام کررہے ہیں۔ یہ عناصر ہند کو مسلمان سے، گوجر کو پہاڑی سے، شیعہ کو سنی سے، بریلوی کو دیوبندی سے الگ کررہے ہیں، ایسی سازشوں کا مل کر مقابلہ کرنا انتہائی ضروری ہے۔ نیشنل کانفرنس نے کبھی نفرت کی سیاست نہیں کی اور نہ کبھی نفرت کا ساتھ دیا، ہم سب کو ساتھ مل کرنا چلنا ہوگا اور فرقہ پرست عناصر کی سازشوں کو ناکام بنانا ہوگا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں