آگرہ میں گرفتار کیے گئے کشمیری طالب علم کے رشتہ داروں کاپریس کالونی میں رہائی کا مطالبہ

اگر اس سے کوئی غلطی سرزد ہوئی ہے تو ہم اس کے لئے ہاتھ جوڑ کر معافی مانگتے ہیں۔ اہلخا نہ

سر ینگر: آگرہ میں گرفتار کیے گئے کشمیری طالب علم کے رشتہ داروں نے جمعہ کوپریس کالونی میں جمع ہو کر ان کی رہائی کا مطالبہ کیا۔

سی این ایس کے مطا بق چند روزآگرہ کے ایک انجیئرنگ کالج میں پاکستان کی ہندوستان کے خلاف ٹی ٹونٹی میچ میں جیت کے بعد مبینہ طور پر پاکستان کے حق میں نعرے لگانے کے الزام میں شوکت احمد گنائی سمیت تین کشمیری طلبا کو گرفتار کیا گیا۔

جمعہ کوپریس کالونی میں جمع ہو کر شوکت احمد گنائی کی رہائی کا مطالبہ کی کرتے ہوئے ان کے رشتہ داروں نے کہ ہمارا بیٹا بے قصور ہے اور اگر اس سے کوئی غلطی سرزد ہوئی ہے تو ہم اس کے لئے ہاتھ جوڑ کر معافی مانگتے ہیں۔

اس کے والد محمد شعبان گنائی نے کہا کہ مجھے اس کے بارے میں کوئی معلومات نہیں ہے کہ اس نے کیا پوسٹ کیا ہے لیکن اگر اس نے غلطی کی ہے تو اسے معاف کیا جائے اور اسے خود کو درست کرنے کا موقع دیا جائے۔

میں حکومت سے نوجوان طلباء پر مقدمہ واپس لینے کی اپیل کرتا ہوں،ان کا کہنا ہے کہ وہ بہت غریب ہیں اور ان کی کفالت کے لیے ایک بڑا خاندان ہے۔

محمد شعبان گنائی نے کہا کہ شوکت ہمارے خاندان کی واحد امید ہے۔ وہ ایک ہونہار طالب علم ہے اور کالج میں ہر سال اچھے نمبروں کے ساتھ پاس ہوتا ہے۔ وہ ایک معروف کمپنی میں شامل ہونے اور ایک اچھا کیریئر شروع کرنے کی تیاری کررہا تھا’اگر میرے بیٹے نے کچھ غلط کیا ہے تو اسے معاف کر دو ہم بہت غریب ہیں۔

ہم معافی کے سوا کچھ نہیں کر سکتے،“ شوکت کی والدہ نے آنسو بھری آنکھوں کے ساتھ کہا کہ جبسے اسے گرفتار کیا گیا تب سے ہمار ے گھر میں چولہا ہی نہیں جلا ہم ذہنی کے کوفت کے شکار ہو چکے ہیں۔ شوکت کے خاندان نے اس ضمن مے جموں وکشمیر کے لیفٹنٹ گورنر سے فوری مداخلت کی اپیل کی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں