علامتی تصویر
علامتی تصویر
علامتی تصویر

ماہ اکتوبر رواں سال کا مہلک ترین مہینہ ثابت

45 ہلاکتوں میں 20 جنگجو 13 عام شہری اور 12 فوجی اہلکار بھی شامل

سر ینگر: ماہ اکتوبر اس سال جموں و کشمیر کے لیے سب سے زیادہ خونین ثابت ہوا جس میں 45 ہلاکتیں ہوئیں، جن میں 20 جنگجو 13 عام شہری اور 12 فوجی اہلکار شامل ہیں۔سی این ایس کے مطابق اس ماہ متعدد محاذوں پر تشدد میں اضافہ ہواہے اور یہ ماہ سب سے خونی مہینہ ثابت ہوا جس میں جموں و کشمیر میں ملٹنسی متعلق واقعات میں 45 افراد مارے گئے۔

چھ دستی بم حملوں، چار آئی ای ڈیز کی برآمدگی، دو پٹرول بم پھینکے جانے اور ٹارگٹ حملوں جن میں پانچ غیر مقامی مزدور اور اقلیتی برادریوں کے تین افراد شامل ہیں، نے بگڑتے ہوئے حالات میں اضافہ کیا حالانکہ اس سال سب سے زیادہ عسکریت پسند جولائی کے مہینے میں مارے گئے اور ان کی تعداد 31 تھی۔۔

ماہ اکتوبر میں ہی ایک شہری مبینہ طور پر سی آر پی ایف سیکورٹی چیک پوسٹ پر اور دوسرا سی آر پی ایف کیمپ کے قریب ہلاک ہو گیا۔رواں ماہ مزید دو غیر مقامی مزدور پراسرار حالات میں مردہ پائے گئے۔ان اموات کی وجہ سے وادی سے غیر مقامی لوگوں کی نقل مکانی شروع اور کافی تعداد میں وہ یہ علاقہ چھوڑ کرچلے گئے۔ اس مہینے کے دوران فورسز نے شوپیاں، تلران، دراگڑھ اور فیری پورہ کولگام، باغات اور بمنہ سری نگر، گنڈ جہانگیر بانڈی پورہ ڈورو علاقے، ترال اور پلوامہ میں ہونے والے مختلف جھڑ پوں میں 20 جنگجو جابحق ہو گئے۔

ماہ اکتوبر میں جنگجو یانہ کاروائیوں میں اضافہ ہوا ہے اور سری نگر میں تشدد کے کم از کم دس واقعات رونما ہوئے ہیں۔ این آ ئی اے نے بھی صورتحال پر قابو پانے کے لیے 10 اکتوبر کو کئی افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا۔ ایجنسی نے اکتوبر میں جموں و کشمیر میں چالیس سے زیادہ مقامات پر چھاپے مارے اور باضابطہ طور پر25 افراد کو گرفتار کیا۔ انتظامیہ نے پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت مارے گئے کم از کم 48 قیدیوں کو گزشتہ ماہ آگرہ کی ہائی سکیورٹی جیل میں منتقل کیا۔

اکتوبر کے آخری ہفتے میں، پولیس نے سرینگر کے دو میڈیکل کالجز کے طلبا کے خلاف بھی مبینہ طور پر جاری ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں پاکستان کرکٹ ٹیم کی ہندوستانی ٹیم کے خلاف جیت کا جشن منانے کے الزام میں دو مقدمات درج کیے۔ دریں اثنا، جموں کے راجوری پونچھ رینج کے جنگلات میں آپریشن 20ویں دن لگ بھگ ختم ہو گیا۔ آپریشن میں اب تک دو جونیئر کمیشنڈ افسران سمیت نو فوجی مارے جا چکے ہیں دو روزقبل ہی ایل او سی کے قریب راجوری میں ہفتہ کو مسلح افواج کے دو اہلکار اس وقت مارے گئے جب وہ گشت پر تھے۔اس مہینے کے دوران کشمیر میں ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بننے والے گیارہ میں سے چھ مقامی شہری تھے جن میں اقلیتی کشمیری پنڈت فرقے سے تعلق رکھنے والا ایک کیمسٹ، ایک استاد، سری نگر کے ایک سرکاری اسکول کی سکھ پرنسپل اور ایک کیب ڈرائیور سمیت تین مسلم باشندے شامل تھے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں