محبوبہ مفتی اپنے گھر میں نظر بند

کو لگام جانے کے تعزیتی پر گروام پر رو ک

سر ینگر: سابق وزیر اعلیٰ اور پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی کو کو لگام جانے سے روک کر اپنے گھر میں نظر بند رکھا گیا۔انہیں کولگام کے آروانی گاؤں کے رہائشی شاہد اعجاز کے اہل خانہ کے ساتھ تعزیت کرنے کے لیے جانا تھا۔

سی این ایس کے مطابق سابق وزیر اعلیٰ اور پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی کو پیر کے روز کولگام میں تعزیت کے لیے جانا تھا تاہم انتظامیہ نے اْن کو اسکی کی اجازت نہیں دی۔بتایاجاتاہے کہ آج صبح محبوبہ مفتی کو ان کے گھر پر ہی نظر بند کیا گیا۔

چند پولیس اہلکار آئے اور میں گیٹ کو تالا لگا دیا نیز ایک موبائل بنکر بھی قائم کیا۔محبوبہ مفتی نے سی این ایس کے ساتھ بات کرتے ہوئے بتایا کہ میں آج کولگام کے آروانی گاؤں کے رہائشی شاہد اعجاز کے اہل خانہ کے ساتھ تعزیت کرنے کے لیے جانا چاہتی تھی تاہم مجھے گھر سے نکلنے نہیں دیا گیا یہ ایک بد قسمتی ہے کہ یہاں تعزیت پر سی کی بھی اجازت نہیں دی جارہی ہے۔

خیا ل رہے کہ رواں مہینے کی 24 تاریخ کو20 سالہ شاہد کی ہلاکت شوپیاں میں کراس فائرنگ کے دوران ہوئی تھی۔اس دوران ایک ٹویٹ میں محبوبہ مفتی نے کہا ہے کہ جموں وکشمیر کے طلبا کو جیتنے والی ٹیم کے لئے تالیاں بجانے کے الزام میں گرفتار کیا جا رہا ہے، لیکن کشمیریوں کی نسل کشی کا مطالبہ کرنے والے بی جے پی لیڈر کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جا رہی ہے لیکن جموں وکشمیر کے طلبا کے خلاف جیتنے والی ٹیم کے لئے تالیاں بجانے پر بغاوت کا مقدمہ عائد کر دیا جاتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں