کشمیری طلباء کی بلاجواز گرفتاری کیخلاف این سی کا احتجاج

آگرہ میں قید کشمیری طلباء کو فوری رہا کر نے کی مانگ

سر ینگر: پولیس کی بھاری جمعیت نے جموں وکشمیر نیشنل کانفرنس خواتین ونگ سے وابستہ لیڈران اور عہدیداروں کو اُس وقت پارٹی ہیڈکوارٹر نوائے صبح کمپلیکس کے گیٹ سے باہر جانے سے روکا جب وہ آگرہ میں کشمیری طلباء کی بلا جواز گرفتاری، زد وکوب اور ہراسان کرنے کے کیخلاف آج ایک پُرامن احتجاجی ریلی نکالنی کی کوشش کررہی تھیں۔

ریلی کی قیادت خواتین ونگ کی ریاستی صدر ایڈوکیٹ شمیمہ فردوس کررہی تھیں جبکہ صوبائی صدر انجینئر صبیہ قادری سمیت ضلع صدور اور کئی عہدیداران بھی شاملتھیں۔

خواتین ونگ سے وابستہ لیڈران اور عہدیداران نے اپنے ہاتھوں میں پلے کارڈ اُٹھا رکھے تھے جن پر “Justice for the students booked in Agra under UAPA”، Keep up the sipirt of the sports، Justice for detained students، Release Kashmiri Students Immediatelyجیسے نعرے تحریر کئے گئے تھے۔ شمیمہ فردوس نے اس موقعے پر پولیس کی طرف سے پُرامن احتجاج ریلی کو روکنے کے اقدام کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہاں نہ اظہارِ رائے کی آزادی ہے اور نہ ہی پُرامن احتجاج کرنے کے جمہوری حقوق۔کسی کو حق کی آواز بلند کرنے کی اجازت نہیں حکمرانوں نے اپوزیشن کی آواز دبانے کیلئے تمام سرکاری مشینری کام پر لگا دی ہے۔

شمیمہ فردوس نے کہا کہ آگرہ میں کشمیری طلباء کو بھاجپا ورکروں کے کہنے پر گرفتار کیا گیا اور اُن پر الزام عائد کیا گیا ہے انہوں نے پاکستانی جیت کا جشن منایا ہے جبکہ کالج منتظمین نے ان الزامات کو یکسر مسترد کردیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیشنل کانفرنس ان طلباء کی فوری رہائی کا مطالبہ کرتی ہے اور حکمرانوں کو متنبہ کرتی ہے کہ کشمیریوں کیخلاف انتقام گیری کے ایسے اقدامات کا سلسلہ فوری طور پر روکا جائے۔

انہوں نے کہا کہ انتقام گیری پر مبنی ان اقدامات سے کشمیریوں اور ملک کے درمیاں دوریوں مزید اضافہ ہوگا۔ انہوں نے راجوری سے تعلق رکھنے والی خاتون آپریشن تھیٹر ٹیکنیشن کی فوری بحالی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ مذکورہ ملازمہ کو صرف اس لئے نوکری سے برطرف کیا گیا ہے کہ اُس نے مبینہ طور پر ہندوستان اور پاکستان کے درمیان میچ کے بعد پاکستانی جیت کے جشن کے ویڈیو کو اپنے WhatsApp Statusرکھا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ایک جمہوری ملک میں اس قسم کے اقدامات کی کوئی جگہ نہیں ہے۔

یہ اقدامات غنڈہ گردی پر مبنی ہیں اور ایسے اقدامات دنیا بھر میں ملک کی بدنامی کا سبب بن رہے ہیں۔ اس کے علاوہ احتجاجی ریلی میں جو عہدیداران شامل تھیں اُن میں صوبائی سکریٹری عائشہ جمیل،ضلع صدر بارہمولہ ایڈوکیٹ نیلوفر مسعود، ضلع صدر سرینگر خالدہ جی، ضلع صدر شوپیان محمودہ نثار، ضلع صدر بانڈی پورہ بیگم جان، ضلع صدر کولگام رومی جان، ضلع صدر اننت ناگ منیرہ جی کے نام قابل ذکر ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں